پچھتاوا عائشہ اور ارمان کی اردو سچی کہانی

عائشہ یونیورسٹی کی بہت سادہ لڑکی تھی جو لڑکوں سےبہت کتراتی تھی پھر بھی اسکی ارمان سے دوستی ہوگئی جو رفتہ رفتہ محبت میں ڈھل رہی تھی وہ اس کے سوا ہر لڑکے سے دور رہتی تھی۔ ارمان یونیورسٹی کا سب سے خوبرو نوجوان تھا اسکی دوستی بہت سی لڑکیوں سے تھی جو بات عائشہ کو ناگوار گزرتی تھی۔۔ وہ شام ارمان کی سالگرہ کی شام تھی  اس کے سب دوست آۓ ہوۓ تھے عائشہ بھی اچھے سے تیار ہوئی اور ایک چادر اوڑھ لی کہ وہاں بہت لڑکے ہونگے۔۔ سب نے ارمان کو بہت قیمتی تحائف دیے عائشہ نے بھی ایک پرفیوم پیک کیا اور ارمان کو تھمایا ارمان نے دیکھا تو اس میں ایک کاغذ بھی تھا جس میں لکھا تھا۔ ارمان میں آپکو بہت پسند کرتی ہوں شادی کرنا چاہتی ہوں.. میں آپ کی وفادار رہوں گی۔یہ سب پڑھ کر ارمان اونچا اونچا ہنسنے لگ گیا سب ادھر متوجہ ہوگئے۔۔ تم ۔۔ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے مجھے اپنے لیے ایک ماڈرن آزاد خیال لڑکی چاہیے تم یہ اتنی بڑی چادر میں افف مجھ سے تو ایمیجن بھی نہیں ہو رہا لائک سیریس لی؟ عائشہ کا دل چاہ رہا تھا زمین پھٹے اور وہ اس میں دھنس جائے۔۔ نہیں اپنانا تھا تو الگ سے منا کر دیتا یوں سب کے بیچ زلیل نا کرتا۔۔ چار سال گزر چکے تھے ارمان نے کسی سے شادی کر لی تھی آۓ دن انکے جھگڑے ہونے لگے۔۔ ایک دن ارمان کے ایک دوست نے اسکی دعوت کی.. گھر کی ہر چیز نفاست سے سجی ہوئی تھی۔۔ واہ یار ارمان صوفے پہ بیٹھ کر گھر کاجائزہ لینے لگا ۔۔ ہاں جی میری مانو کا کمال ہے ۔۔ احمد مسکرا کر بولا۔ کھانا کھاتےوقت ارمان پھر بولا عرصہ ہوگیا گھر کا لزیز کھانا کھاۓ۔۔ تمہاری بھابھی کو پارٹیز سے فرست نہیں ملتی۔۔ احمد کہنےلگا مانو مجھے باہر کا کھانا نہیں کھانے دیتی انفیکٹ لنچ بھی ڈرائیور کے ہاتھ بھجواتی ہے بچوں کی طرح۔۔ تھکا ہوا گھر آتا ہوں تو اسکی مسکراہٹ میری ساری تھکن اتار دیتی ہے۔۔ارمان حیران ہو کر بولا ملوا یار بھابھی سے۔۔ احمد سر ہلا کر بولا نا یار وہ میرے دوستوں کے سامنے نہیں آتی۔ ارمان دانت پیس کر منہ میں بولا ایک میری بیوی ہے جو میرے دوستوں میں گم رہتی ہے۔ کھانےکے بعد احمد ارمان کو سیڑھیوں کے پاس لے گیا دیوار پہ لگی تصویر دیکھ کر ارمان کا سر چکرا گیایہ تو عائشہ احمد مسکرا کر بولا ہاں عائشہ۔۔ پیار سے مانو کہتا ہوں یہ مجھے بلی جیسی لگتی ہے۔۔ ارمان کو وہ سالگرہ کا دن یاد آگیا۔ احمد بھی اسی پارٹی پہ آیا ہوا تھا اور جان گیا تھا عائشہ کتنی ہیرا لڑکی ہے۔۔ ارمان کا سر چکرانے لگا اس نے تیزی سے باہر قدم بڑھا دیے گھر پہنچا تو اسکی بیوی کزن کے ساتھ شیشہ پی رہی تھی۔۔ واش بیسن کے پاس جا کر اس نے زور دار مکا شیشے پہ دے مارا اس کے ہاتھ سے خون رسنے لگا تھا مگر اندر لگی آگ کم نا ہو رہی تھی۔۔ وہ انمول ہیرا وہ کھو چکا تھا۔۔ارمان کا اب ارمان ہی رہ گیا تھا عائشہ کے ساتھ کا 




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے