Urdu Sachi kahani Anokha bhandan سچی کہانی انوکھا بندھن

 فیصل آباد سے ارسال کردہ بہادر نوجوان کی داستان 

انوکھا بندھن

زندگی میں بڑے فیصلے بہادر ہی کیا کرتے ہیں 

ایسا ہی فیصلہ طارق نے بھی کیا تھا

تحریر خالد محمود عاصی

بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں تجسس تھا مگر دور ہو گیا

 تجسس نے جب حقیقت کا روپ دھارا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئں واقعی حکم

 ربی کے ہم سب تابع ہیں یہاں تک کہ کائنات ربی کا مرہون منت ہے

ہمارے گاوں کا واقعہ ہے کہ گاوں کے دوسرے محلے میں میرے دوست طارق کی

؎ شادی تھی میں بھی مدعو تھا رسم مہندی میں ہر طرح کا ہلہ گلہ ہوا ڈھول بجے ناچ گانا

 ہوا تقریب کی رونق کو دوبالا کرنے کیلئے کبھی کبار فائرنگ کا بھی تڑکا لگایا جاتا 

عزیزواقارب کے علاوہ دوست احباب بھی شادی میں شرکت کی غرض سے تشریف

 فرما تھے رات تقریبا2 بجے تقریب اختتام پزیر ہوئی طارق کا تعلق ایک زمیندار

 گھرانے سے تھا سب لوگوں سے ان کا رقبہ زیادہ تھا کوٹھی نوکر چاکر ضروریات زندگی

 کی ہر چیز میسر تھی آمارات کے ساتھ ساتھ طارق ایک خوبرو نوجوان تھا گاوں کی اکثر؎

 لڑکیاں ہمہ وقت اس کے قدموں میں دل پھینکنے کیلئے تیار رہتی تھیں 

کالج میں بھی اس کی کافی لڑکیوں سے دوستی تھی اس کے باوجود طارق کریکٹر لیس نہ تھا

 ہنس مکھ دوسروں کے دل میں گھر کر لینے والا ملنسار اور ہمدرد بھی تھا گاوں میں بلا

 تفریق وہ ہر کسی کے کام آتا دکھ درد میں شریک ہوتا

مہندی کی رسم کے بعد جس کو جہاں جگہ ملی وہاں لیٹ گیا میں تو اپنے گھر لوٹ آیا صبح

 میرے ایک دوست نعمان نے اٹھایا اور بتایا سارے گاوں میں چھان مارا طارق کا کچھ پتا

 نہیں چلا وہ گھر سے غائب ہے سارے عزیزواقارب اور مہمان پریشان ہیں بارات جانے کا ٹائم ہو رہا ہے کاریں اوت بسیں ہارن بجابجا کر اپنی آمد کی خبر دے رہی ہیں بینڈ

 والے بھی پہنچ چکے ہیں مگر طارق کی اچانک گمشدگی نے سب کے ارمانوں پر اوس ڈال

 دی ہے 

ناجانے خوشیوں کو کس ظالم کی نظر لگ گئی ہے خوشیوں بھرا آنگن ماتم کدہ بن گیا ہے

 دوپہر ہونے کو تھی برادری کے بوڑھوں نےفیصلہ کیاکہ طارق کے چھوٹے بھائی کو تیار

 کرو سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی لڑکی والوں کی بھی عزت محفوظ

 رہے گی اور لڑکے والے بھی طعنوں سے بچ جائیں گے اس ساری صورت حال سے

 لڑکی والے بھی اگاہ ہو چکے تھے انھوں نے اپنے ایک کمی کے ہاتھ طارق کے ہاں پیغام

 بھجوا دیا کہ ہم کو سب معلوم ہو چکا ہے لہزا ہمارے ہاں آنے کی قطعی جرت نہ کرنا

 کیونکہ ارشد بھی طارق کا ہی بھائی ہے وہ طارق سے بھی دو ہاتھ آگے ہوگا

اور ساتھ دوسرے کمیں کو ہمارے ہی گاوں کے جنید جو طارق کا ہی کزن تھا پیغام بھجوا

 دیا کہ فوراتیار ہو کر چند عزیز ساتھ لے کر پہنچ جاو زیادہ تردد کرنے کی بھی کوئی

 ضرورت نہیں کیونکہ ہم نے سب انتظام کر رکھا ہے جنید کی تو جیسے لاٹری نکل آئی

 خوشی

 سے پھولے نہیں سما رہا تھا چند دل پہلے سے ماتم کدہ جنید کی اب باچھیں کھل رہی تھیں

 جب مجھے اس واقع کا علم ہوا تو میں سن کر حیران وپریشان ہو گیا اور بے اختیار پکار اٹھا 

واہ مولا تیرے رنگ 

تیریاں تو ہی جانئں 

جنید طارق کا کزن تھا مگر کسی بھی طور طارق کا ہم پلہ نہ تھایہ ہی وجہ تھی کہ صائمہ کے

 گھر والوں نے جنید پر طارق کو ترجیع دی تھی حالانکہ جنید اور صائمہ ایک دوسرے کو

 بچپن سے ہی چاہتے تھے صائمہ جنید کے سگے ماموں کی بیٹی تھی مگر جہاں دولت کی

 فراوانی ہو وہاں رشتوں کا تقدس قائم نہیں رکھا جاتا ہر رشتہ دولت کے ترازو میں تولہ

 جاتا ہے دولت تو بھائی کے ہاتھوں بھائی کا قتل کروا دیتی ہے 


یہ بھی پڑھیں ۔ایک دن ریحانہ کچن میں کام کر رہی تھی نومی نے آکر اس کا ہاتھ پکڑلیا۔اور  بولا بھابھی جی آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں  

بیٹے کے ہاتھوں باپ کو مروا دیتی ہے زمیندار تو ویسے بھی ایک انچ زمین کی خاطر

 خاندان کے خاندان تباہ کر دیتے ہیں مگر زمین کا ٹکڑا اتنے قتل کروانے کے بعد بھی

 مدعی اور مدعلیہ کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے جنید تیار ہوا اپنی بچپن کی محبت کو پانے کیلئے ماموں

 کے گھر پہنچ گیا اس طرح دو بچھڑنے والے آپس میں مل گئے اس واقعہ کو کافی عرصہ؎

 بیت چکا ہے مگر آج بھی جب میرے گاوں میں شہنائی کی آواز گونجتی ہے تو مجھے طارق

 والا واقعہ یاد آجاتا ہے 

صائمہ اور جنید کی شادی کے دوسال بعد طارق دوبئی سے لوٹا تو ہرایک اس سے روپوش

 ہونے کے متعلق پوچھنے کی کوشش کرنے لگا مگر اس نے کدی کو بھی سچی بات نہ بتائی

 ایک شام میری اور طارق کی ملاقات کھیتوں میں ہوئی کیونکہ ہم دونوں کی زمین ساتھ

 ساتھ تھی میں نے ادے اپنے ڈیرے پر بٹھا لیا اور پوچھا 

طارق تم نے سب کی عزت خاک میں کیوں ملا دی خوشیوں بھرے گہوارے کو خود؎

 اپنے ہاتھوں سے ہی آگ لگا گئے کون سی ایسی مجبوری تھی جس کی وجہ سے تجھے ایسا کرنا

 پڑا طارق کہنے لگا حیدر بھائی ساری زندگی آگ میں جلنے سے بہتر تھا کہ چند دن کے لئے

 برا بن جاتا اور وہ میں بن گیا ضمیر کاقیدی بن کر جینے سے موت کو ترجیع دیتا

 

ایسا کرنے سے میرے ضمیر پر بوجھ تھا اب میں اس سے آزاد ہوں الحمدوللہ اب

 میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں اطر اس رات میں گھر سے نہ بھاگتا اور صائمہ کو بیاہ کر

 لے آتا لوگوں کی نظر میں وہ میری بیوی بن جاتی مگر جب اس کا دل ہی مجھے قبول نہ

 کرتا تو میں اس زندہ لاش کا کیا کرتا حیدر بھائی شادی کامقصد تو یہ ہوتا ہے زبان سے

 اقرار اور دل سے تصدیق ہمارے معاشرے میں زبردستی یہ سب کروایا جاتا ہے میں

 ایسی سختی کے خلاف ہوں 

میرے علم میں تھا کہ صائمہ اور جنید ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اور ان کی محبت کے

 اس پاک رشتے کو میری دولت سے تولہ جا رہا تھا اور جنید کو اس لیئے ٹھکرایا جا رہا ہے کہ

 وہ ہمارے ہم پلہ نہیں حالانکہ صائمہ کے والد جنید کے سگے ماموں ہیں مجھے یہ سب اچھا

 نہیں لگا

میرے ضمیر نے مجھے ملامت کیا کہ میری وجہ سے دو محبت کرنے والے دلوں کا خون ہو

 رہا ہے اور یہ جرم سرزد مجھ سے کروایا جارہا ہے میں نے سوچا کیوں قاتل بنوں لوگ

 چار دن باتیں بنایئں گے برادری  والے بھی میرے گھر والوں کو کھٹی میٹھی  سنائیں گے

 اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میرے ایسا کرنے سے اگر دو دلوں کا ملاپ ہو جاتا ہے تو

 مجھے خوشی ہو گی ویسے بھی حیدر بھائی جوڑے تو آسمانوں پر بنتے ہیں اللہ جو کرتا ہے بہتر

 کرتا ہے جنید اور صائمہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے آنگن میں اب دو

 ننھے منے پھول بھی کھل چکے ہیں اللہ ان کو سلامت رکھے ہمارے لیے بھی تو اس خالق و

 مالک نے کوئی بنا ہی رکھی ہو گی 

 

Best urdu story in urdu  with story pics

urdu sachi kahani free download story in urdu fount







urdu sachi kahani,sachi kahani in urdu, urdu moral stories,

Post a Comment

1 Comments

  1. جو لڑکیاں اور عورتیں سیکس کا فل مزہ رٸیل میں فون کال یا وڈیو کال اور میسج پر لینا چاہتی ہیں رابطہ کریں 03488084325

    ReplyDelete

Please do not enter any spam link in the comments box.