Urdu Story Book | Intresting Story in urdu | urdu story book review


 امجد صاحب اپنی فیملی کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے وہ ایک کاروباری

 آدمی تھے اور ان کی شادی کو تقریباً پانچ سال گزر چکے تھے اللہ نے اُنھیں اولاد جیسی

 نعمت سے بھی نوازا تھا ان کے دو بچے بھی تھے امجد صاحب کی بیوی کا نام ریحانہ تھا

 اور وہ ایک پڑھی لکھی عورت تھی گھر میں فارغ ہونے کی وجہ سے وہ محلے کے بچوں کو

 ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی امجد صاحب دفتر چلے جاتے تو ریحانہ گھر کے کام کاج سے

 فارغ ہو کر بچوں کو پڑھانے میں مصروف ہو جاتی

 امجد صاحب ریحانہ پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے تھے یہ ہی وجہ تھی کہ ریحانہ کے پاس

 میٹرک پاس بچے بھی ٹیوشن پڑھنے آتے تھے لیکن امجد صاحب نے کبھی کوئی اعتراض

 نہیں کیا ۔وقت اچھا گزر رہا تھا 

ایک دن امجد صاحب کی خالہ سمینہ رات کے وقت ان کے گھر آئی تھوڑی دیر بیٹھنے کے

 بعد امجد صاحب سے بولی امجد بیٹا آج میں 

ایک کام سے تمہارے گھر آئی ہوں۔

جی خالہ حکم کریں ہم کیا خدمت کر سکتے ہیں؟کچھ نہیں بیٹا میں چاہتی ہوں کہ ریحانہ بیٹی

 ہمارے نومی کو بھی ٹیوشن پڑھا دیا کرے۔وہ پڑھائی میں بہت کمزور ہوتا جا رہا ہے جی

 خالہ اس میں پریشانی والی کون سی بات ہے وہ میرے بھائی کی طرح ہے آپ اسے کل

 سے ہی بھیج دیا کریں۔

اس کی بھابھی اسے پڑھا دیا کرے گی۔کیوں ریحانہ تمیں کوئی اعتراض تو نہیں ؟امجد

 صاحب مجھے کیوں اعتراض ہو گاوہ ہمارے گھر کا ہی تو بچہ ہے۔ویسے بھی خالہ جی

 ہمارے لیے بہت قابل احترام ہیں ہم ان کو انکار نہیں کر سکتے اس لیے جب نومی کا دل

 چاہے پڑھنے آجائے میں اسے پڑھا دیا کروں گی۔

اچھا بیٹا اب میں چلتا ہوں تم دونوں کا بہت شکریہ مجھے تم سے یہ ہی امید تھی میں کل سے

 ہی نومی کو پڑھنے بھیج دوں گی۔نومی خالہ سمینہ کا چھوٹا بیٹا تھا اس کی عمر سولہ سال تھی

 مگر دکھنے میں مکمل مرد لگتا تھا نومی اگلے دن ہی ریحانہ کے پاس ٹیوشن آنے لگا۔ریحانہ

 دوسرے بچوں کی نسبت اس پر زیادہ توجہ دیتی۔کیونکہ وہ خالہ سمینہ کا بیٹا تھا۔

ایک دن اللہ کی کرنی ایسی ہوئی ریحانہ بچوں کو پڑھا رہی تھی کہ اچانک گلی میں شور کی

 آواز سنائی دی۔جب ریحانہ شور سن کر باہر نکلی تو اس کی جان نکل گئی کیونکہ کوئی تیز

 رفتار موٹر سائیکل والا ریحانہ کے چھوٹے بیٹے ہارون کو ٹکر مار کر بھاگ گیا تھا۔

وہ زخمی حالت میں گلی میں گرا پڑا تھا اتنے میں نومی امی موٹر سائیکل نکال کر لے آیا اور

 بولا بھابھی جی آپ ہارون کو لے کر میرے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ جائیں ہم اسے

 ہسپتال لے کر چلتے ہیں ریحانہ نے جلدی سےہارون کو اٹھایااور ہسپتال پہنچ گئے۔

وہاں ڈاکٹروں نے ہارون کی پٹی کی اور کچھ دوایاں دیںریحانہ ایک گھنٹے بعدگھر واپس

 آئی تو امجد صاحب بھی گھرآچکے تھے۔دونوں نے نومی کا شکریہ ادا کیا اس کے بعد تو

 ریحانہ اور بھی نومی کے قریب ہو گئی۔اسے جب بھی بازار کے کسی کام سے جانا ہوتا وہ

 بلا جھجک نومی کے ساتھ چلی جاتی۔

امجد صاحب نے بھی کبھی اعتراض نہیں کیا تھا۔وقت گزرتا گیا ایک بار امجد صاحب کو

 کسی کاروباری کام سے دوسرے شہر جانا پڑھ گیا وہ ریحانہ کو بتا گئے کہ مجھے دو یا تین دن

 لگ جائیں گے اگر تمہیں کسی کام سے بازار جانا پڑ جائے تو نومی کے ساتھ چلی جانا۔میں

 انشااللہ بہت جلد واپس آجاؤں گا اتنی بات کہہ کر امجد صاحب نے بیگ لیا اور گھر سے

 نکل گئے۔

یہ کہانی بھی لازمی پڑھیں انوکھا بندھن

ابھی ان کو گئے دو دن ہی گزرے تھے کہ ریحانہ کی طعبیت اچانک خراب ہوگئی اس نے

 نومی کو کال کی اور کہا کہ اپنی موٹر سائیکل لے کر ہمارے گھر آجائے مجھے ہسپتال جانا

 ہے نومی اسی وقت موٹر سائیکل لے آیا اور ریحانہ کو ہسپتال لے گیادوائی لینے کے بعد

 وہ گھر واپس آئے تو نومی ریحانہ کو پکڑ کر کمرے تک لایا پھر ریحانہ کو دوائی وغیرہ دینے

 لگا دوائی دینے کے بعد نومی گھر چلا گیا

 

لیکن ریحانہ اس کے بہت زیادہ قریب ہو چکی تھی۔وہ بے شک عمر میں اس سے بہت

 زیادہ چھوٹا تھا مگروہ اسے پسند کرنے لگی تھی۔اور دوسری طرف شائد نومی کی بھی یہ

 ہی حالت تھی۔ایک دن ریحانہ کچن میں کام کر رہی تھی نومی نے آکر اس کا ہاتھ

 پکڑلیا۔اور بولا بھابھی جی آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔

نومی نے ریحانہ کو وہ بات کہہ دی جو ریحانہ شائد نومی سے کہنا چاہتی تھی۔لیکن اپنی عمر

 اور رشتے کا لحاظ اسے یہ بات نہیں کرنے دیتا تھا۔پھر وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا امجد

 صاحب کے دفتر جانے کے بعد ریحانہ نے نومی کو کال کر کے اپنے گھر بلایا اور وہ سب

 کچھ کر بیٹھی جو امجد صاحب نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا

 بے شک ریحانہ پر یہ نوبت اپنے شوہر کے اندھے اعتبار کی وجہ سے آئی بے شک بیوی

 پر اعتبار کرنا اچھی بات ہے لیکن اس قدر لاپروائی سے کام لینا اچھی بات نہیں کہ

 شیطان کوئی موقع ملے




Post a Comment

0 Comments