URDU KAHANI ROTI KI LASH | URDU SACHI KAHANI | URDU KISAY KAHANIYAN IN URDU | URDU KAHANIYAN | اردو سچی کہانی روٹی کی لاش

 روٹی کی لاش

یہ روٹی بھی عجیب شے ہے  جس کو ملتی ہے اس کی

نیت نہیں بھرتی اورجس کو نہ ملے اس کا پیٹ۔۔۔۔۔

تحریر     :چوہدری محمد امین

گھر میں مرمت کا کام کرانا تھا۔مستری صاحب کو اختیار دے دیا کہ اپنی مرضی سے مزدور آئے۔مستری صاحب مزدور کو لائے تو میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔کوئی70 سال کا بابا صحت سے لگتاتھا کہ یا تو مریض ہے یا فاقوں کا مارا ہوا ہے۔کمزور جسم رنگ پیلا ایک بہت کھلا سا کڑتا جو موسم کے لحاظ سے بالکل الٹ۔۔۔۔۔

موٹا کپڑا شاید سردیوں کے کپڑوں سے کسی نے پرانا قمیض دے دیا ہو لیکن چونکہ اختیار میں نے خود ہی دیا تھا اس لیے نہ مستری صاحب کو کچھ کہہ سکا نہ بابا جی جہاں کام کر رہے تھے وہاں ہوا کا گزر نہیں تھا

بابا جی پسینے میں شرابو اور اوپر سے موٹے کپڑے کی قمیض باباجی بولے۔

"صاحب جی پنکھا نہیں ہے۔ذرا پنکھا ہی لگا دیں ۔"میں تو پہلے ہی جل بھن کر بیٹھا تھا۔میرا غصہ بھڑک اٹھا۔

"اے سی"نہ لگوادوں میرے تیوردیکھ کر باباجی خاموش ہو گئے۔مستری صاحب نے آہستہ آوازمیں کچھ کہا اورباباجی اینٹیں صاف کرنے لگے۔باباجی کو جب پیاس نے ستایا لیکن مجھے نہیں کہا۔مستری صاحب نے مجھ سے پانی منگوایا اور باباجی نے پیا ۔

تب مجھےاپنی حماقت کا احساس ہوا باباجی کے لیے دل پسیج گیا اور نہ جانے کیوں باباجی سے ہمدردی ہونے لگی۔

12بجے مستری صاحب تو کھانا کھانے کے لیے چلے گئےاور باباجی نے ایک رومال میں لپیٹی روٹی نکالی اورپانی سے گھونٹ گھونٹ روٹی کھانے لگا ۔خالی روٹی تھی سالن نہیں تھا۔بیگم سے پو چھا ۔

کھانے میں کتنی دیر باقی ہے۔جواب دیا بس 5سے10منٹ میں تیار ہو جائے گا ۔میرے اندر کے انسان نے گوارا نہیں کیا باباجی کو کہا۔

n>

باباجی ابھی تازہ کھانا تیار تیار ہو جاتا ہے ذرا ہاتھ روک لیں بیگم کو بھی اندازہ ہو گیا تھا۔تیز اسپیڈ سے کھانا جلد ہی تیار ہو گیاباباجی کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا خودبھی کھایا ۔اس دوران پوچھنے پر باباجی نے بتایا ۔

ان کا کوئی بیٹا کوئی نہیں ہے بیٹیاں تین بیاہ دی ہیں دو ابھی بیانے والی ہیں ۔سمجھ آگئی کہ نحیف صحت کے ساتھ باباجی مزدوری کیوں کر ررہے ہیں ۔ہمدردی بڑھتی گئی اور باباجی کو عرض کی۔

ناشتہ یہاں آکر کر لیا کریں  دو پہر کا کھانا بھی اور شام کوجاتے وقت بھی بیگم کھانا بیا دیتیں اور باباجی رات کھانا پانچ بجےکھاکر دعائیں دیتے چلے جاتے چار دن میں کام کام مکمل ہو گیا اور مستری صاحب کے ساتھ باباجی بھی چلے گئے۔

پڑ ھنے کو ملا کہ یورپ والوں کی ایک خوبی یہ ہے کہوہ کھانا ضائع نہیں کرتے جبکہ ہمارے خطے میں کھاناضائع کرنے کی ذمہ داری ہم نے لی ہے۔باباجی سے ہمدردی تہ بیگم کو بھی ہو چکی تھی۔سوچااب کھانا چاہے تو دو نوالے ہی بچیں ضائع نہیں کریں گے اب روٹین یہ ہو گئی کہ بیگم ڈسپوزیبل برتن لے آئی جو کھانا بچتا وہ اچھے طریقے سے پیک کر کےمجہے تھما دیتی۔میں کسی نہ کسی راہ چلتے باباجی کو دے دیتا اور بیگم کا ہاتھ کچھ زیادہ ہی کھل گیا زیادہ بنا لیتیں اور بچا ہوا کھانا پیک کر کے مجھے تھما کر اکثر کہا کرتیں۔

اللہ کے دیے سے دے رہے ہیں ہماراس میں کیا کمال مجھے کھانے کے پیک پکڑنے اوراور یہ جملہ سننے کی تسکین سی ہو نے لگی۔

ایک دن میں کھانے کا پیک لے کر کسی کی تلاش میں نکلا۔چوک میں مزدوری کے اڈے پر باباجی نظر آگئے۔دوپہر ہو گئی شاید باباجی کو آج مزدوری نہیں ملی تھی۔میں جھٹ سے باباجی کے پاس گیا اور کھانے کا پیک باباجی کو تھما دیا ۔

آٹھ                          دس مزدور اور بھی وہاں موجود تھے ۔باباجی کی طرف لپکے اور   مطالبہ         کرنےلگے اس میں سے ہمیں بھی دوباباجی کو میرے کھانے سے گو یا بہت پیار تھا ۔باباجی نے کھانا اپنے پہلو میں دبا لیا اور کسی کو بھی دینے کو انکار کر دیا۔

اب مزدور تو بھوکے بھیڑیے کی طرح باباجی کو نوچنے لگے۔2نے ٹانگیں پکڑیں 2نے ہاتھ قابو کیے اور2مزدور کھانا چھیننے میں لگ گئے   ۔باباجی بڑی ہمت سے مزحمت کر تے رہے اور1مزدور تو باباجی کے سینے پر چڑھ بیٹھا ۔اسی کشمکش میں باباجی کی مزحمت ماند پڑ گئی اور کھا نے کا پیک چھین کر مزدور پرے ہٹ گئے۔

اب معرکہ باباجی سے ہٹ کر مز دوروں کے اپنے درمیان پلٹ چکا تھا۔چھینا چھینی میں کھانا بکھر گیا اور لوگ ٹھنڈے ہو کر ایک طرف کو ہٹ گئے گویا وہ سب کھانا کھا کر سیر ہو چکے ہوں۔

1مزدور کی نظر باباجی پر پڑی جو بالکل ساکت پڑے تھے۔اس نے دوسروں کی توجہ باباجی کی طرف کی تو ایک نے بغیر سو چے سمجھے فقرہ جوڑ  دیا۔

اوئے دیکھ کہیں مر تو نہیں گیا۔یہ فقرہ تو بالکل نشانے پر بیٹھا تھا ۔باباجی واقعی اگلی منزلوں کو جا چکے تھے۔میں بت بنا یہ سارا ماجرا دیکھ چکا تھا میرے سامنے باباجی کی لاش پڑی تھی۔میں یہ نہ طے کر سکا کہ یہ لاش اس مجبوروبے بس باباجی کی تھی یا میرے اس کھانے کی جو میں نے باباجی کو تھما دیا تھا۔یقینایہ روٹی ہی کی لاش تھی۔ 


     

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے