sazaa urdu sachi kahani | اردو سچی کہانی سزا

 سزا 


انسان بڑا سخت دل واقع ہوا ہے بے زبانوں پر ظلم کرنے سے نہیں چوکتا

اماں نے بھی ایسا ہی کیا تھا مگر وہ بھول ہی گئی تھیں کہ مومن سخت دل ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔

تحریر :حمیرا وحید

لاہور کے گنجان آباد علاقے میں اماں اپنے بیٹے بہو اور پوتے سفیان کے ساتھ رہتی تھی۔اماں کا پوتا سفیان بہت اچھا لڑکا تھا وہ سب سے پیار کرتا اور سب کا بہت خیال رکھتا تھا خصوصااسے جانوروں ے بہت پیار تھا جتنا اسے جانوروں سے پیار تھا اتنا ہی اس کی دادی جانوروں سے نفرت کرتی تھی۔ایک دن سفیان کہیں سے ایک بلی لے آیا اس کی دادو نے بہت شور مچایا لیکن سفیان نے ان کی ایک نہ سنی اور بلی کو اپنے گھر میں رکھ لیا ۔

اماں ہر وقت فکر میں رہتی تھیں کہ کہیں بلی ہمارے بستر پر نہ سوجائے اور برتنوں میں منہ نہ ڈالے کیونکہ بلی سب گھر والوں سے مانوس تھی اور ان کے بستر  میں  گھس کربیٹھ جاتی تھی اماں بہت صفائی پسند اور سخت مزاج خاتون تھیں اور وہ بلی کو گھر سے نکالنے کی فکر میں رہتی تھیں چونکہ وہ اپنے پوتے سے پیار کرتی تھیں اس وجہ سے اسے برداشت کر رہی تھیں۔ پھر ایسا ہوا کہ بلی کچھ دنوں کے لیے غائب ہو گئی اور کہیں  دکھائی نہیں دی تو اماں  نے شکر ادا کیا کہ اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل ہوا۔ ایک دن اماں سو رہی تھیں کہ ان کے کانوں میں ہلکی ہلکی میاؤں میاؤں کی آواز  آنے لگی اماں فوراََ اٹھ کر اِدھر اُدھر نظریں دوڑانے لگیں۔جب سارے کمرے کو متلاشی نظروں سے دیکھا تو ایک کونے میں بلی اپنے دو ننھے منے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی نظر آئی۔اماں انہیں دیکھ کر آگ بگولا ہو گئیں۔

ایک بلی کو تو برداشت کیا تھا اب یہ دو اور مصیبتیں بھی نازل ہو گئیں اب تو میں انہیں ایک دن بھی برداشت نہیں کروں گی۔اماں نے ڈنڈا اٹھایا اور بلی کو مارنے لگیں۔بلی کے بچے ڈر کے مارے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے اماں کو یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ بلی سخت بیمار ہے اور مار کھا رہی ہے لیکن بھاگنے کی کوشش نہیں کر رہی اور  نہ اپنے بچوں کی طرف بھاگ رہی ہے ۔

اماں نے بلی کو اتنا مارا کہ وہ زمیں پر لیٹ کر تڑپنے لگی اور اماں کو اداس نظروں سے   گھورنے لگی اُس کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔اماں نے دونو   ں بچوں کو شاپنگ بیگ میں ڈالا اور اپنے گھر سے تھوڑے فاصلے پر بنے ایک خالی گھر میں چھوڑ آئیں جو ابھی زیر تعمیر       تھااور اس میں کوئی نہیں رہتا تھا۔

بلی کو سخت بخار تھا اسے اپنے بچوں کا   کچھ ہوش نہیں تھا جب دو تین دن تک اس کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو اسے اپنے بچوں کی یاد ستائی تو وہ ہمارے گھر میں بچوں کو تلاش کرنے لگی ہر گلی میں جا کر بچوں کو ڈھونڈا لیکن بچے کہیں نہ ملے۔ شام کو تھک ہار کر اماں کے گھر میں داخل ہوئی سامنے بیٹھی اماں نے اسے کہر آلود نظروں سے گھورا لیکن اپنے پوتے کے خیال سے خاموش رہی کیونکہ بلی کے بچوں کو نکالنے پر پہلے ہی ان کا پوتا کافی ناراض تھا بلی اماں کو سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہے کہ میرے بچے کہاں ہیں؟لیکن اماں بھی نجانے کس مٹی کی بنی ہوئی تھیں کہ انھیں بلی پر ذرا سا     بھی ترس نہ آیا ۔

بلی کو بچوں کی بہت یاد ستائی تو وہ زور زور سے میاؤں میاؤں کرنے لگی ۔اماں نے ایک بار پھر ڈنڈا اٹھایا اور بلی کو مارنا شروع کر دیا سفیان نے جب دیکھا تو اس سے برداشت نہ ہو سکا اس نے دادی کے ہاتھ سے ڈنڈا چھین لیا اور کہنے لگا۔

دادو کچھ تو خدا کا خوف کریں ایک تو اس کے بچوں کو اس سے جدا کر دیا دوسرا اِسے بھی یہاں نہیں رہنے دیتیں ۔اماں نے اسے ڈانٹا اور غصے  سےکہا ۔

دفعہ ہو جاؤ اور جاکر اپنے کمرے میں سو جاؤ۔سفیان نے بلی کو اٹھایا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

ابھی اس واقعہ کو دو دن ہی ہوئے تھے کہ اماں کو فالج کا حملہ ہو گیا۔سفیان کی امی صبح ناشتہ بنانے کے لیے اٹھیں تو انہیں ساس کے کمرے سےان کی عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں ۔وہ بھاگ کر کمرے میں گئیں تو دیکھا کہ اماں ٹیڑھی میڑھی زمین پر پڑی ہیں ان کی ایک سائیڈ  مفلوج ہو چکی تھی باربار سر اٹھا رہیں تھیں لیکن اٹھ نہیں سکتی تھیں اتنے میں سفیان بھی کمرے میں آگیا۔

دونوں نے مل کر اماں کو اٹھایا اور بستر پر لٹایا سفیان نے امی جان سے کہا ۔یہ بلی کو مارنے کی سزا ہے۔سفیان کی امی کہنے لگیں۔چھوڑو ان باتوں کو پہلے ڈاکٹر کو بلاؤ۔اماں نے جب پوتے کے منہ سے یہ بات سنی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہیں شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ رونے لگیں اور دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگنے لگیں۔ 

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔انہوں نے بلی کے بچوں کو اس سے  جداکیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ٹانگ اور ایک بازو سے محروم کر دیا۔بلی اپنے بچوں کے لیے تڑپ رہی تھی۔سفیان نے دل میں عہد کیا کہ وہ بلی کے بچوں کو ڈھونڈ کر ضرور لائے گا وہ گھر سے نکل کر مختلف جگہوں پر بلی کے بچوں کو تلاش کرنے لگا۔آخر اسے بلی کا بچہ ایک خالی پلاٹ پر اچھلتا کودتا دکھائی دیا اس نے وہاں جا کر دیکھتا کہ بلی کا ایک بچہ مر چکا تھا اور وہیں پڑا تھا جبکہ دوسرا اس کے اردگرد میاؤں میاؤں کرتا ہوا اِدھر اُدھر اپنی ماں کو تلاش کر رہا تھا ۔

سفیان بلی کے بچے کو گھر لے آیا جیسے ہی بلی نے اپنے بچے کو دیکھا تو زور زور سے میاؤں میاؤں کرنے لگی اور اپنے بچے کو چومنے لگی اور اپنی محبت کا اظہار کرنے لگی ۔اماں نے دل سے توبہ کر لی کہ اللہ میاں مجھے معاف کردے تو میں کبھی کسی کے بچوں کو اس کی ماں سے جدا نہیں کروں گی ۔

جس طرح انسان اپنے بچوں کی خاطر ہر ظلم برداشت کرتا ہے اور ہر مشکل سے گزر جاتا ہے اسی طرح حیوان بھی اپنے بچوں کے لیے ایسے ہی جذبات رکھتے ہیں چاہے کوئی انسان ہو یا حیوان اپنے بچے سب کو پیارے ہوتے ہیں۔  


 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے