Urdu kahani Na Qabel e Mafee | Urdu sachi kahaniyan | Urdu kahaniyan اردوسچی کہانی ناقابل معافی

 

نا قابل معافی

جرم  چاہے چھوٹا ہو یا بڑا جرم ہی

ہوتا ہے اور مجرم قابل نفرت۔۔۔

تحریر: رئیسہ خالد

میں جس خاندان کی کہانی بیان کرنے جا رہی ہوں وہ لوگ مشرقی پاکستان سے لپٹ کر کراچی آئے تھے وہاں ان کا بہت اچھا کاروبار تھا ۔یہ لوگ پارٹیشن کے وقت ہندستان کے ایک صوبے سے ڈھاکہ چلے  آئے تھے۔ان کے  ماں باپ نے اپنا کاروبار جمایا تھا ۔وہ کم عمری سے ہیاپنے والدین کا ہاتھ بٹاتے آئے تھے ان کی صرف ان سے دو بہنیں تھیں۔بھائی کوئی نہیں تھا ۔دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے وہاں سب حاصل کر لیا تھا اور بہت خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔

دونوں بچیوں کے لیے رشتہ کی تلاش میں تھےانھوں نے اپنا بڑا سا گھر بنا لیا تھا۔کاروبار بھی اچھی طرح سیٹ تھا کہ اچانک وہاں کی رت ہی بدل گئی۔بنگلہ دیش کیا بنا کہ سب کچھ ہی برباد ہو گیا ۔ماہیں جو ان بچوں کی موتوں کا ماتم کرتے ہوئے اپنا آپ ہی کھو بیٹھیں۔شکر ہے ان کی دونوں بہنیں اغوانہیں ہوئیں بلکہ قتل کر دی گئیں اور اب وہ کہیں جنت میں سکون اور آرام سے رہ اہی ہوں گی کیا بہاری کیابنگالی اورکیا فوجی اور کیا مکتی یعنی کوئی بھی انسان نہیں رہا۔سب ہی بھیڑیے کا کردار ادا کرتے رہے

 

جرم چاہے چھوٹا ہو یا بڑا جرم جرم ہی ہوتا ہے۔نہ جانے کیا ہو گیا تھا ان لوگوں۔۔۔۔۔پاکستان کو بچانے کے لیے ایک بھی بنگالی کا قتل نہیں ہونا چاہیئے تھا اور بنگلا دیش بنانے کے لیے ایک بھی اردو بولنے والے کو نہیں مارنا چاہیے تھا۔کاش کسی لڑکی کی عزت نہ لوٹی جاتی کسی بھی انسان کو ذبح نہ کیا جاتا لیکن یہ سب کچھ ہوا۔

بیٹوں کا دکھ لے کر ماں باپ اور بھائی ڈھاکہ چھوڑ کر نیپال کے ذریعے کراچی آگئے ۔شروع شروع میں زندگی اورنگی سے شروع ہوئی جیسے ان کے والدین نے ڈھاکہ میں شروع کی تھی اور بہت جلد انھوں نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو وہ ڈھاکہ میں چھوڑ کر آئے تھے۔ کچھ سالوں بعد والدین کا بھی انتقال ہو گیا بیٹے کا گھر انھوں نے کراچی آکر ہی بسادیاتھا۔اب اس کے کئی بچے تھے ۔اس نے اپنے اکلوتے بیٹے اور بیٹیوں کو پڑھنے لکھنے پر لگا دیا کیونکہ اب اگر کچھ ہوا تو علم کی دولت ان کے پاس ضرور ہو گی دولت ختم ہو سکتی ہے لیکن علم کا کوئی نہیں چرا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں اردو کہانی روٹی کی لاش

لیکن ان سے شاید کہیں غلطی ہو گئی۔تعلیم کے باوجود     وہ سب کچھ ہو گیا جو انھوں نے سوچا نہیں تھا۔

بیٹا یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔اگر چہ وہ بہت محنتی تھاروزے نماز کا پابند تھا ۔اس کے سارے دوست بھی اسی کی جیسے تھے مگر اس نے جو کچھ  کیا  وہ اس پر بہت حیران تھا۔خاندان اور خاندان کے باہر سار ی بچیاں    تھیں وہ کھاتے پیتے لوگ تھے کوئی بھی خاندان ان سے جڑے رہنے سے فخر محسوس کرتا ۔وہ جس سے چاہتا شادی ہو سکتی تھی ۔مگر وہ ایک ہندو لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو گیا ۔شروع میں تو والدین نے سوچا عشق کا بھوت خود بخود اتر جائے گا ۔ لیکن ان کی سوچ غلط نکلی والدین نے بہت سمجھایا کہ وہ ایک شریف ہندو گھرانے کی لڑکی ہے اس کے گھر والے کبھی اس رشتے پرراضی نہیں ہوں گے پھر لڑکی تم سے باربار کہہ رہی ہے کہ وہ تمھیں 

پسند  نہیں کرتی۔

اسے تم میں کوئی دلچسپی نہیں پھر تم کیوں ضد کر رہے ہو تمھیں ایک سے ایک لڑکی مل جائے گی۔اس کا پیچھا چھوڑدو لیکن اس کا کہنا تھا ۔میں اس کو مسلمان بناؤں گا اور اسی سے شادی کروں گا میں اسکے بغیر نہیںرہ سکتا ماں باپ نے اسے بہت سمجھایا کہ اس کام ہم تمھاراساتھ نہیں دیں گےوہ لوگ کراچی کے بڑے لوگ اور سندھی ہیں ۔بلاشبہ بہت خوبصورت اسے اچھی لگی ہو گی ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہاسے اغوا کر لیتا ۔لیکن اس نے اپنے چند دوستوں کی مدد سے جب وہ یونیورسٹی سے واپس آرہی تھیاسے اغوا کر لیا ۔وہ چیخی چلائی ہو گی لیکن اسلحہ زور پر وہ سب کچھ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا ۔

بعد میں پتہ چلا کہ وہ اسے اغوا کر کے اپنے والدین کے گھر نہیں لایا کہیں اور اسے قید کر کے رکھا ہے۔

بعد میں اس بچی کے باپ کی تصویر اخبار میں چھپی تھی اس کا بیان تھا اس کی بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے۔اغواکنندگان میں ان صاحب کے بیٹے کا نام تھا کہ اس نے اسے مسلمان کر کے اس سے شادی کر لی ہے۔وہ کہیں محفوظ جگہ پر رہ رہا تھا۔اس کے ساتھی اسکا ساتھ دے رہے تھے۔

سال نہیں گزرا تھا کہ وہ اس لڑکی کو اپنے گھر لے آیا ۔وہ لوگ عدالت سے ہو کر آرہے تھے لڑکی نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ گئی تھی اب یہ مسلمان ہو چکی ہےاور یب اوالدین کے پاس جانا نہیں چاہتی ۔

گھر آنے پر لڑکے کے والدین نے اسے قبول کر لیا تھا ۔وہ کئی مہینے کے حمل سے تھی ۔وہ جانتے تھے کہ یہ سب کچھ اس کی مرضی کے بغیر ہوا ہے اکثر اس کی آنکھوں میں خوف نظر آتا وہ سہمی سہمی سی نظر آتی ۔والد کو لگتا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے زبر دستی اس کو خاندان سے دور کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں سچی کہانی اُف یہ بھابھیاں

یہ زبر دستی شادی تھی اس میں لڑکی کوئی مرضی شامل نہیں تھی ۔والد کو اندازہ تھا کہ زبردستی بیان دلوایا گیا ہے۔وہ بہت بھولی سی لڑکی تھی گھر میں ہر وقت خوفزدہ اور سمہی سمہی رہتی تھی۔جلد اس نے ایک بچے کو جنم دیا لڑکے کے والد ہر وقت یہ ہی دعا کرتے کے اللہ اس کےبیٹے کو نیک توفیق دے ایک دن لڑکی کا باپ لڑکے کا والد کے آفس میں آگیا بہت ہی غم زدہ نظرآرہا تھا۔اس نے کہا۔

مجھے معلوم ہے کہ اس میں آپ کا کوئی دوش نہیں  ۔سراسر آپ کا بیٹا دوشی ہے۔آپ صرف میری بیٹی سے کہہ دیں ہم لوگ اسے بھولے نہیں ہیں سب گھر والے اس کے لیے روتے اور تڑپتے ہیں وہ اگر اپنی مرضی سے جاتی تو ہم اسے بھول جاتے لیکن ہم لوگوں کو پتہ ہے کہ اس کے سا تھ زبردستی کی گئی ہے۔

میں بہو کو بتانا چاہتا تھا کہ اس کے باپ نے اس کے لیے کیا کہا ہے۔لیکن میرے بیٹے کی اس پر کڑی نظر تھی۔اس لیے مجھے اس کے بتانے کا موقع نہ ملا وہ دل سے چاہتا تھا کہ بچی اپنے گھر واپس چلی جائے ۔کیوں نکہ یہ زور زبر دستی کی شادی تھی ۔وہ نہ تو دل سے مسلمان ہوئی تھی اور نہ ہی اس کو اپنا شوہر سمجھتی تھی۔وہ تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کا بیٹا اس حد تک چلاجائے گا۔ دیں نیں زبردستی نہیں ہوتی۔وہ تو صرف اداکاری کر رہی تھی۔اور بیٹا سمجھتا تھا کہ وہ بھی اسے حاصل کر چکا ہے جبکہ حقیقت مختلف تھی۔

ایک رات والد کی آنکھ اچانک کھلی ۔شاید ان کو پیاس لگی تھی انھوں نے دیکھا کہ وہ گود میں اپنے بچے کو لے کر دروازے سے باہر نکل رہی تھی ۔وہ دبے پاؤں اس کے پاس گئے بچے کو پیار کیا كیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب بچے کو کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔لڑکی نے ان کا ہاتھ پکرا اور بہت اداس نظروں سے ان کو دیکھا۔

گھر کے باہر گا ڑی کھڑی تھی یہ گاڑی کون لے کر آیا تھا یہ ان کو نہیں پتہ تھا انہون نے نظروں سے اسے الودع کہا اور اسے یہی دعا کرتے رہے کہ وہ کسی بھی طرہ یہاں سے نکل جائے۔صبح ہوئی تو گھر میں وہی ہوا جس کی امید تھی۔اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر بچی کے گھر پر چھاپہ ڈلوایا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ اب مسلمان پو چکی ہے اس کے گھر والے اس کے لیے خطرناک ہیں مگر بچی گھر سے دستیاب نہ ہوئی۔

دس دن کے بعد اس کےاس والد کا خط ان کے بیٹے کو ملا ۔بیٹے نے اس خط کو کھولا اور اس کو پڑکر رو نے لگا اس خط میں لکھا تھا ۔

 اردو سچی کہانی بس اتنی سی بات 

میں بتانا چاہتا ہوں کہ میری بیٹی چلی گئی ہے اس کی شادی ہو رہی ہے ۔اب وہ کبھی اپنے دیس پاکستان نہیں آئے گی اس کے ہونے والے سسرال مے اسے بچے کے ساتھ قبول کر لیا ہے ۔مجھے اور میرے خاندان کو تم نے بہت دکھ پہنچایا ہے ہم سب کو تم سے بہت شکایت ہے تم نے میری بچی کے ساتھ نا قا بل معافی جرم کیا ہے ۔مگر میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے بھگوان بھی تمھیں معاف کرے۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے