اردو کہانی تھوڑی سی زندگی | Urdu kahani thori si zindgi | sachi kahani | urdu sachi kahani | urdu kahaniyan

 

تھوڑی سی زندگی

وہ دونوں بھی بس خوش رہنا چاہتےتھے اسی لیے راجو

کے مستقبل کے شاندار منصوبے بناتے رہتے۔۔۔۔

تحریر:عظمیٰ احمد

اجی سنتے ہو راجو کے پاپا زبیدہ خاتون نے حسن احمد کو پکارا

کمال کرتی ہیں آپ بھی بیگم یعنی لہ بہرا سمجھتی رہیاب تک ہمیں  سن رہے ہیں ہم نہ چلائیے دھیرے کہیے ہمہ تن گوش ہیں ہم حسن احمد نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا تو زبیدہ خاتون کے ہونٹوں پر ہنسی مچل گئی۔

حد کرتی ہیں آپ ماریں گی کیا آپ کا یہ دل اویز تبسم جان نکالنے کو کاکافی ہے۔حسن احمد نے شوخی سے کہا ۔

اجی کیسی باتیں کرتے ہیں۔زبیدہ خاتون چھنپ گئیں ۔

اچھا تو میں کہہ رہی تھی کہ راجو کو کا لج کے ہاسٹل میں ڈال دیجیے گا ورنا گھر میں نہ پڑھ پائے گا  ۔اجی کان ترس گئے ہیں کبھی تو محبت کے دو بول بول لیا کریں حسن مسکرائے۔

اپ بھی نا زبیدہ نظریں جھکائے بولیں۔

ہم عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں اس قسم کی باتیں عجیب لگتیں ہیں ۔

بیگم جی دل نہ جلایا کریں خدارا ہم کیا انسان نہیں کوئی جذبات نہیں ہمارے جب دیکھو آپکو راجو کی فکر کی فکر اور باقی راشن کی باتیں فلاں مونگ کی دال ختم۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں اردو کہانی ناقابل معافی

مونگ اور مسور دال کی قسم میں ہم اب تک ان دونوں دالوں میں فرق ہی نہیں سمجھ پائے ۔حسن تبصرہ کرتے ہو ئے بولے۔

ادھر زبیدہ ان کی باتیں بہت توجہ سےسن رہی تھیں جیسے بہت ہی اہم ہوں۔

اچھا سینے وہ لال ساڑھی تو زیب تن کرو قسم اللہ کیاس میں قیامت ڈھاتی ہیں آپ حسن بولے۔

اف توبہ میں تو چلی بو کھلائے دے رہی ہیں مجھے زبیدہ اٹھ کھری ہوئیں اچھا اچھا بیٹھیے تو کیا ہم اس لان میں کوؤں سے باتیں کریں گے قسم سے جانے کی بات کرتیں ہیں تو دل پسلیوں پسلیوں کو توڑ باہرنکلنے کو اچھلتا ہے۔ 

حسن بولے اگر آپ کی باتیں ختم نہ ہوتیں تو کہے دے رہے ہیں ناراض ہو جاہیں گے ہم۔ ارے کمال کرتیں ہیں آپکے حسن قصیدے پڑھ رہیں اور آپ ہیں کہ جواب کو درکنار سراہ بھی نہیں ہماری بے پناہ محبت کو ۔۔۔۔

اچھا جی سنیے۔۔

جی کہیے بندہ حاضر حسن مودب بولے ۔خالہ اماں  کا بلاوا ہے ان کی پوتی کی مہندی ہے زبیدہ بولی۔

تو کیاڈھول بجائیں گے مہندی میں بیگم کبھی کبھی تو  نہایت عجیب و غریب گفتگو فرماتی ہیں آپ ۔

اوہوہم نے کب کہا آپ ڈھول بجائیے گا پر جانا تو بنتا ہے۔ اب مہندی کے بعد بارات کا بھی بلاوا ہے۔تو ظاہر ہے کچھ دینا بھی تو ہو گا زبیدہ سنجیدگی سے بولیں ۔

بیگم جان جی ان معمللات سے ہمیں دور ہی رکھیے  نہیں جانا ہمیں ان جھمیلوں میں اس سے بہتر ہے کہ ہم احمد فراز صاحب کی شاعری پڑھ لیں ۔حسن بولے۔

کیوں ستاتے ہیں آپ ۔زبیدہ پریشانی میں بولیں۔کیا ہم ستاتےہیں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے حسن بولے ۔

یہ بھی پڑھیں سچی کہانی روٹی کی لاش

اچھا جی چلیں گے شادی وادی پر اب ایسا کیجیے ایک عدد چائے پلوا دیجیے بہت طلب ہو رہی ہے اور اگر ساتھ سموسے مل جاہیں تو واہ واہ خوب ۔۔۔۔ حسن نے ریکویسٹ کی۔

اچھا جناب ابھی چائے لائے اور سموسے۔

زیادہ دیر نہ کیجیے گا دل نہیں نہ لگتا آپ کے بغیر حسن معصومیت سے بولے حسن جی جلد آتے ہیں ہم زبیدہ مسکراتی ہوئیں بولیں۔

ہائے حسن جی حسن خوشی میں بولے۔اف توبہ عمر کا ہی لحاظ کیجیے ۔بیگم جانی دل جوان ہونا چاہیے آپ کیوں ہمیں ابھی سے بوڑھا کہہ رہی ہیں ۔ ہمیں اگلے دس دن تک بوڑھا نہیں ہونا ۔حسن مسکرائے۔ اچھا جی راجو کا خیال رکھیے گا۔ہم ذرا کچن میں چلے۔زبیدہ تاکید کرتے بولیں ۔

بے فکر ہو جائیے جناب میں اپنے دل کے ٹکڑے کوکیسے اپنی نگاہوں سے اوجھل کر سکتے ہیں۔بیگم ایک گلاس پانی بھی لائیے گا اور ذرا جلدی حسن گلہ کھنکارتے بولے۔

حسن ہم جائیں گے تو ہی آئیں گے نا آپ کا تو بس نہیں چلتا کہ ہمیں تعویز بنا کر گلے میں ہی لٹکا لیں زبیدہ بولیں ۔ ہائے مار ڈالا ظالم کس کمبخت کا جی نہیں چاہتا کہ آپ کو سایہ بنا کر رکھے مگر روز مرہ کے کام دشمن ہمارے۔

حسن گھر کے کاموں پر شکوہ کرتے بولے۔ارے راجو کہیں کرکٹ کھیلتا گرا تو نہیں گاؤنڈ میں ہمارا دل عجیب بے چین ہے۔زبیدہ پریشانی میں بولیں ۔سنیں جی آپ کا وہم ہے ۔ چائے بیگم جان جی جلدی پلیز حسن کسی شاعری کی کتاب میں غرق تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر میں واہ واہ کہہ رہے تھے ۔

کوئی انجانا انہیں دیکھے تو کیا سوچے کہ بڑھاپے میں سٹھیا گئے ہیں زبیدہ سوچ رہی تھیں ۔

یہ بھی پڑھیں ڈھولا مارو کی محبت کی کہانی

حسن جی اب بک کو سائیڈ پر رکہیے اور چائے پی لیجیے۔

جی ضرور لائیے ٹرے ہمیں دے دیجیےاورآپ آرام سے بیٹھ جائیے ہمیں آپ سے بات کرنی ہے حسن بولے ۔

جی کہیے ۔۔۔۔پر ذرا ٹھہرئیے تو کو بلا لیں ہم ۔

بیگم جان وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہے ۔آپ رہنے دیجیے اور یہ چائے آپ کی چینی نہیں ڈالی میں شوگر بہت ہے نا ہم دونوں کے جسم کو ضرورت ہی نہیں ۔

حسن ہنستے ہوئے بولے ۔

ایک تو ہر بات کو ہنسی میں اڑا دیتے آپ چاہے کتنی ہی سنجیدہ کیوں نہ ہوں۔زبیدہ بولیں ۔ اجی سنجیدہ ہو کر کر نا بھی کیا ہے بس خوش رہیےخوشیاں بانٹیے تو یہی مشن ہے زبیدہ بیگم ۔ حسن آپ بہت اچھے ہیں زبیدہ کی آنکھوں میں نمی تھی ۔

وہ تو جانتے ہیں کوہی نئی بات کیجیے۔حسن نے قہقہہ لگایا۔ اور یہ کہ آپ نے کبھی ہمیں تنہائی کا احساس تک ہونے نہیں دیا سوچیے اگر راجو ہماری زندگیوں میں نہ ہوتا تو کیسی ویران ہوتی ہماری زندگی نا۔ زبیدہ نے جواب مانگا۔حسن زبیدہ کے دونوں ہاتھ پکڑ کر بولے ۔

آپ کی خوشیوں کے لیے اگر ہمیں چاند توڑ کر لانا پڑتا تو بخدا دیر نہ کرتے ۔

یہ جو راجو کا خیال ہے نہ ہماری زندگی میں یہ بہت پیارا خیال ہے جو ہمیں کبھی تنہا نہیں ہونے دیتا۔

ہم بےاولاد سہی مگر پھر بھی اپنے خیالی بچے کو تو شامل رکھا ہے نا ہم ہم نے اپنی دنیا میں۔۔

زبیدہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسے جنہیں حسن نے اپنی ہتھیلیوں میں جزب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں اردو کہانی اُف یہ بھابھیاں



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے