URDU KAHANI URDU KAHANIYAN IN URDU FOUNT | URDU SACHI KAHANI SACHI KAHANI IN URDU

 

ایک بے زباں شجر سایہ دار کا  بہیمانہ  قتل !

صفدر کے والد نے پائی پائی جوڑ کر عمر کے آخری ایّام میں ایک دس مرلے کا پلاٹ خریدا، پھر کمیٹی ڈال کر مزید چند  ماہ  کے بعد اْس  پر دو کمرے تعمیر کر لئے اور ویاں رہائش اختیار کرکے کرائے کے مکان سے جان چھڑا ئی، صفدر کو باغبا نی کا بہت شوق تھا  گھر میں کافی خالی جگہ بچی ہوئی تھی جہاں اْس نے اپنے پسندیدہ پودے لگا دئیے، اِن میں ایک سایہ دار درخت  کا سرسبز و شاداب پودا بھی تھا

 جس کا وہ خا ص خیال رکھتا اور اسکول سے واپسی کے بعد  فارغ  وقت  میں اْس کی خوب دیکھ بھال کرتا، اْس کے بڑے بھائی کی نوکری کچھ  اِس نوعیت کی تھی کہ وہ اکثر رات کو دیر سے گھرآتا اور پھر کھا نا  کھا  کر دوستوں سے ملنے چلا جاتا، وقت یونہی گزْرتا چلا گیا، 

\رفتہ رفتہ چار سال کےعرصہ میں صفدر کے لگا ئے ہوئے  پودے نے بھی تن آور درخت  کا  رْوپ دَھار لیا، موسمِ گرما  کی تپتی ہوئی دوپہر میں اْس کا  گھنا  سایہ کسی نعمت سے کم  نہ تھا، گھر کے سبھی افراد اْس کے نیچے چارپائیاں بچھا  کر ٹھنڈی چھاؤں کا لطف اْٹھاتے، اب صفدر نے بھی گریجوایشن  کرنے کے بعد ایک سرکاری دفتر میں ملازمت کر لی جس سے گھر کی مالی حالت کافی سْدھر گئی تو اْس کے ماں باپ  نے ایک اچھا گھرانہ دیکھ  کر آس کے بڑے بھائی کی شادی کر دی، بھابی کے آ جانے سے ضحیف ماں کے ناتواں کندھوں سے گھر کے کام کاج  کا بوجھ  اْتر گیا 


اور اْسے بھی


کچھ آرام نصیب ہوا، پھر دو سال گزْرے تو سب افراد کو رہائش تنگ محسوس ہونے لگی اور اب صفدر کے علاوہ سب کی نظریں گھر پر سایہ فِگن  درخت  پر مرکوز تھیں جس کے سْوکھے پتے جھڑنے سے ایک تو بار بار جھاڑو لگانا پڑتا اور پھر اِس کی موجودگی میں مزید تعمیر بھی  ممکن نہیں تھی کیوںکہ اب صفدر کے والدین  دن رات  بڑی سنجیدگی سے اْس کا گھر بسانےکے متعلق  فکر مند تھے جس کے لئے پہلے مزید ایک کمرہ تیار کرنا بہت  ضروری تھا، 

آخر سب نے بڑی تگ و دَو اور بےحد اصرار کرکے صفدر کو درخت  کا ٹنے پر راضی کر لیا، پھر چند روز بعد ہی کمرے کی تعمیر میں رکاوٹ بنے مضبوط  سرسبز درخت کو ہٹانے کیلئے دو مزدوروں نے کٹائی کا  کام  شروع  کر دیا، اْدھر صفدر کے لئے یہ اندوہ ناک منظر نا قا بل برداشت تھا، لہذا وہ وقت سے پہلے ہی تیار ہو کرآفس روانہ ہو گیا، شام کو واپس پہنچا  تو گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا پایا، کمرے کی بنیاد کھودی جا چکی تھی، سامنے دیوار کے ساتھ  درخت کی کٹی ہوئی شاخوں  کا  انبار اور تنے کے چھوٹے بڑے کئی حصے بخرے ہوئے پڑے تھے، 

اب جو کام  کا آغاز ہوا تو آہستہ آہستہ مہینہ بھر میں کمرے کے ساتھ  نارمل سا ئز کا  ایک باورچی خانہ اور چھت  پر جانےکے لئے پختہ سیڑھیاں بن  کر تیار ہو گئیں، جس کے بعد بھی مناسب صحن ابھی باقی تھا، پھر درخت کی کٹی ہوئی سْوکھی ٹہنیاں اور خشک پتے کئی روز تک کھانا  تیار کرنے اور روٹیاں پکانے کے لئے تنور میں جلانے کے کام آتی رہیں، 

تنے والی لکڑی کے چھوٹے بڑے حصے شادی کے موقع  پر مہمانوں کا  کھانے تیار کرنے والی دیگوں کے نیچے جلانے کے خیال سےایک جانب سْوکھنے کی غرض سے ترتیب کے ساتھ  رکھ  دی گئیں، دیکھتے ہی دیکھتے کچھ  وقت اور بیت گیا  تو اچانک  صفدر کے لئے اْس کے والدین کی نظر ایک رشتہ پر آ  ٹھہری جو تھوڑی بہت تحقیق کر لینے کے بعد سب  کو بھا گیا، 

پھر دونوں اطراف کے بزرگوں نے مل بیٹھ  کر بات  پّکی  کرکے شادی کی تاریخ  بھی طے کر دی، بالآخر دن گنتےگنتے شادی کا  روز بھی آ گیا اور بڑی دْھوم دھام  سے ساری رسومات ادا ہوئیں،  نیا کمرہ صفدر کے حصہ میں آیا، اب سوتے لیٹتے ہوئے کبھی کبھی اْسے اپنے شجر سایہ دار کا بھی خیال آ جاتا  جس کو بڑی محنت اور محبت سے اْس  نے پروان چڑھایا تھا  اور جواب میں اْس نے بھی اِس خدمت کا خوب صلہ دیا  کہ جوانی کے عالم میں اپنے سینے پر کلہاڑی کے پے در پے وار سَہہ کر قتل ہو جانے کے بعد  مزید برآں  نذِ رآتش  ہو کر کمرے کی تعمیر کی صورت  میں صفدر کا  گھر بسا  دیا۔

شفقت علی آرائیں ( لاہور)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے