urdu story ishq aur mushak | urdu kahani | urdu kahaniyan

 

عشق اور مْشک  کا  ہمیشہ سے  چولی دامن  کا  ساتھ  ہے!

گزْرے ہوئے ماضی میں عاشق مزاج  لوگوں نے دورانِ محبت  اظہارِ وفا  میں خْوشبو کا  نہ صرف بے دریغ استعمال کیا بلکہ پرفیوم کو بطور تحفہ بھی پیش کرتے رہے، پھر جب لاکھ  کوشش کے یہ دونوں پوشیدہ  نہ رہ سکے

 تو تھک ہار کر اْنہوں نے اپنی جدوجہد کی ناکامی کو اِس کہاوت کا سہارا لے کر چْھپا لینے کی کوشش کی کہ عشق اور مْشک  چْھپائے نہیں  چْھپتے۔  آج کے دًور میں بھی یہ سب کچھ  ہو رہا ہے مگر اِس کا طریقِ کار بدل گیا ہے، ہمارا نوجوان طبقہ عشق و محبت کی تشہیر پر فخر محسوس کرتا ہے، اِس سلسلے میں سوشل میڈیا کی شعرو شاعری کی ادبی محفلوں کی آڑ میں اور ٹی وی پر نشر ہونے والے گھریلو موضوعات  پر مَبنی ڈرامے اپنا  کردار بڑی جا نفشا نی سے ادا کر رہے ہیں۔

  ادْھر مہنگائی کے رگڑے کے با وجود پیار و محبت  کا  دَم  بھرنے والے دْنیا  میں خْوشبو کے شہر پیرس تک رسائی حاصل کرکے ایک دوسرے کو اعلیٰ سے اعلیٰ  پرفیوم  کا  گفٹ  بڑھ  چڑھ  کر پیش کرتے ہیں۔ مزید برآں موبائل فون اور ٹیلی ویژن سیٹ دونوں ہی وطنِ عزیز کے گوشے گوشے میں اپنا کمال دِکھا رہے ہیں، اب  دوْر دراز کے دْشوار گزْار پہاڑی علاقوں کے بسنے والے بھی نئی اور مرّوجہ آرائش و زیبائش سے آگہی رکھتے ہیں لیکن گاؤں اور دیہا توں میں عشق و مْشک کے فعل کو ابھی بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، 

وہ تو اِسے غیرت سے تعبیر کرتے ہوئے خون خرابے تک پہنچ جاتے ہیں، اگر آپ اخبار کا  جْرم و سَزا والا صفحہ کھولیں تو اِس ضمن میں چَھپی ایک دو خبریں ضرور زیرِنظر آئیں گیں، پھر آئے روز اِس سلسلے میں نئی اورحیران و پریشان کر دینے والی نام نہاد محبت کی داستانیں پڑھنے اور سْننے کو مل رہی ہیں جس میں پہلے بغیر سوچے سمجھے کسی پر مرمٹنا اور بعد  میں ٹھْن ٹھْن گوپال  والا عقدہ کْھل جانے پر رو دھو کر خود کو واپس سمیٹ لینا، 

یہ مرض آج کی نوجواں نسل میں خوفناک حد تک سرایت کرتا جا رہا ہے، ایسا ہی ایک واقع اور اْس کے خلافِ توقع حل نےعلاقے کے قرب و جوار میں  دْور تک  شہرت کے نہ صرف جھنڈے گارڑ دئیے بلکہ ہر کسی کی دلچسپی کا  مِحَور بھی بن گیا، اِس غیرمعمولی کہانی کے بارے میں ابتدا سے اب  تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی، اِس کے مرکزی کرداروں  کا  نام  شہزاد اور بلقیس تھا، 

دونوں کا  تعلق اچھے اور شریف  گھرانوں سے تھا،  شہزاد کے والد حاجی عبد اللہ علاقے کے پرانے رہائشی اور اْن کی نیک نامی قرب و جَوار میں مشہور تھی مگر بلقیس کے والدین کو آئے ذیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، اْن کی ما لی حالت بھی کچھ  ذیادہ اچھی نہیں تھی اور کافی دوْر سے یہاں کرایے کے مکان میں شفٹ ہوئے تھے، پھر ایک دن شہزاد جو ایک پرائیویٹ کمپنی میں کلیدی عہدے فائز تھا اْس نے بلقیس کو صبح کالج جاتے ہوئے جو دیکھا تو فدا ہی ہو گیا، لیکن مہینہ بھر راہ و رسم  پیدا  کرنے کے خفیہ جتن کے باوجود اْسے ناکامی کا مْنہ دیکھنا پڑا،

 اْس نے پھر بھی اِس اْمید پر اپنا مشن ترک نہیں کیا  کہ مچھلی کانٹے پر لگے چارے کو ضرور مْنہ مارے گی، بالآخر اْس کی دیرینہ محنت رنگ لائی اور بلقیس کا دل اْس کی تعریفیں سْن کر پِگل ہی گیا، پھر اْن  کی پہلی ملاقات نے درمیان میں حائل رکاوٹوں کو یکسر ہٹا دیا، مگر بدنامی کے خوف نے ملاقاتوں کو محدود ہی رکھا  اِس کے باوجود اتنی احتیاط  کو ملحوظِ خاطر رکھنے کے وہ اپنے تعلقات  کو مزید عرصہ  دْنیا  کی عقابی نظروں سے پوشیدہ نہ رکھ سکے،

 وہ ایک اتوار کا دن تھا  شہزاد خرابیِ طبیعت کے باعث چیک اپ کیلئے ڈاکٹر کے کلینک پر پہنچا تو اتفاق سے وہاں بلقیس بھی آئی ہوئی تھی، شہزاد نے ارد گرد موجود مریضوں  پر ایک طائرانہ نگاہ  ڈالی تو اْ سے کوئی جاننے والا دکھائی نہ دیا لیکن گھروں میں کام کرنے والی موسی کو جو محلے بھر میں بڑی مہارت سے تازہ خبریں پھیلانے کی پاداش میں ٹیلیفون کے نام سے موسوم تھی وہ اْسے بالکل نہیں جانتا تھا، اب اْن دونوں کو اتنے خوشگوار موڈ  میں  باتیں کرتے پا  کر ایک  بہت  بڑی خبر اْس کے ہاتھ لگی جو شام ہونے تک ہر گھر کے ہر مرد و زّن کے کانوں کے پردوں پر دَستک دے چْکی تھی،

 لیکن اِس کے باوجود بھی دونوں گھرانوں کی جانب سے کوئی فوری رّدِ عمل دیکھنے میں نہ آیا  تو آہستہ آہستہ  یہ داستان  ہر زبان  زدِ خاص و عام  ہونے لگی،  پھر کافی دیر سربَگریباں رہنے کے بعد شہزاد کے والد حاجی عبداللہ نے گھر کے افراد سے مشاورت کرکے ایک روز بلقیس کے ماں باپ سے ملاقات طے کرکے دونوں اطراف عزّت کو بحال رکھتے ہوئے شہزاد اور بلقیس کو جلد از جلد  رشتہء ازدواج  میں باندھ  دینے کا فیصلہ لے لیا اور پھر چند ہفتے گزْر جانے کے بعد ہی اِس باہمی تَصِفِیے کوعملی جامہ بھی 


پہنا  دیا گیا، 

اب عشق و محبت کی اِس سرگْزشت  کا  یوں  یک لخت  انجام  کی سِمت  مڑ جانے  پر سب  حیرت زدہ اور شہرت  دْور دوْر تک جا  پہنچی جس نے اِس سلسلے میں مشہور و معروف  کہاوت  کہ عشق اور مْشک چْھپائے نہیں چْھپتے کو مزید  دَوام  بخشا،  پھر وقت  نے رفتہ رفتہ  اِسے لوگوں کے ذہنوں سے بھی معدوم  کر د یا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے