URDU STORY URDU KAHANI | URDU SACHI KAHANI | ایک اجنبی ہمسفر کی آپ بیتی

 

ایک اجنبی  ہمسفر کی  آپ بیتی !

پچھلے چند روز گھریلو مصروفیت  میں  گزْار کر جب  میں نے لکھنے کے لئے قلم اْٹھایا  تو پہلی بار عجب  صورتِ حال سے دوچار ہونا  پڑا  کہ کیا  لکھوں اورکہاں سےشروع کروں؟ کیونکہ میرے پاس تو کوئی موضوع ہی نہیں تھا، پھر میں اپنے ذہن میں جمع شدہ خیالات کے انبار میں کْود گیا  اور کافی دیر کی کھوج  کے باوجود بھی کوئی گوہرِنایاب  ہاتھ  نہ آیا  تو اِس تلاشِ بسیار سے اْکتا  کر میں نے اپنے آبائی دیس چلے جانے کا مْصَمَّم ارادہ کر لیا، 

ویسے بھی مجھے وہاں گئے اب کچھ  ذیادہ ہی عرصہ ہو چلا تھا، اْدھر کی کْھلی صاف شفاف آب و ہوا اور سرسبز و شاداب فصلوں درختوں کی بہتات جس میں رنگ برنگ خوبصورت نایاب پرندوں کی چہچہاہٹ  کا خیال ہی مجھے بےخود کرنے کے لئے کافی تھا، لہذا آفس سے دو دن کی رخصت کو اتوار سے مْنسلک کرکے میں نے رختِ سفر باندھا اور ریلوے اسٹیشن  پر آ  کر گاڑی میں سوار ہو گیا، پھر اپنے گردوپیش  بیٹھے مسافرں  پرایک طائرانہ نظر ڈال کر ذہن میں تین گھنٹے کی مسافت کے خیال سے ذرا ایزی ہو کر بیٹھا ہی تھا  کہ ایک ہلکے سے جھٹکے کے بعد گاڑی نے رینگنا شروع کر دیا، مَیں ابھی باہر کے گھومتے اور گْزرتے ہوئے منا ظر کو دیکھنے میں محو تھا  کہ ًاسلام و علیکمً کی بھاری آواز سے چونک گیا، 

مڑ کر دیکھا  تو ایک اْدھیڑ عمر شخص ساتھ  والی نشت  پر براجمان ہو چکا تھا، وہ ظا ہری خدو خال سے کچھ  پڑھا لکھا  لگتا تھا اوراْس نے مذید خاموش نہ رہتے ہوئے فوراً اپنا تعا رف بھی کرا د یا۔  اْس نے اپنا نام سلطان خاں بتایا  وہ حال ہی میں محکمہ جنگلات سے انسپکٹر کےعہدہ سے ریٹائر ہوا تھا، پھر اْس کی سوالیہ نظریں مجھے گھورنے لگیں تو جواب میں اپنے بارے میں بتانا ہی پڑا، وہ یہ جان کر کہ مَیں ایک لکھاری بھی ہوں، بہت خوش ہوا اور گفتگو میں مذید فری ہوتے ہوئے بے باکانہ انداز میں مخاطب ہوا، ً یوں تو میرے پاس بھی جنگلات  میں پیش آنے والے کئی دلچسپ اورعجیب وغریب  واقعات محفوظ ہیں مگر میں اْنہیں تحریر میں لانے سے قا صر ہوں،

 ً اْس کے یہ الفاظ  سْن کر مجھے اْس میں اور دلچسپی پیدا ہوئی اوراب مَیں اْس کی جانب پوری طرح ہمہ تن گوش ہو گیا، وہ سر کو جھکائے نہ جانے کیا سوچ رہا تھا کہ میری آواز نے اْسے جھنجوڑ دیا، ً اگر آپ  کوئی اچھا سا منفرد واقع سْنا دیں تو میں اْسے ضرور زیرِ قلم لا ؤں گا  ً یہ سْن کر اْس کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ نمودار ہوئی، وہ فوراً سیدھا ہو کر بولنے کےلئے تیار ہو گیا، پھر سلطان خاں نے جو کہانی بیان کی اْس کی ابتدا  کچھ  یوں ہوئی، محکمہ جنگلات نے ایک جیپ، دوْر بین اور چار اہل کار اسلحہ سمیت اْس کے ساتھ  جس جنگل میں تعینات کر رکھے تھے وہ پہت گھنا اور طول وعرض میں دوْر تک پھیلا ہوا تھا، 

اْن کی ڈیوٹی لکڑی چوروں اور جنگلی جانوروں کا غیر قانونی شکار کرنے والوں کو پکڑنا تھی،  وہ موسمِ گرما کی ایک تپتی ہوئی دوپہر تھی، صبح سے گشت پر نکلے تھکے ماندے بْھوک اور پیاس سے نڈھال  وہ  بہت  دْور آ چکے تھے، پھر ایک موزوں جگہ ڈھونڈ  کر کھانا  کھانے اور کچھ  دیر آرام  کی غرض سے رْک  گئے، جنگل  کا  یہ حصہ  ذیادہ خطرناک اور مزید برآں  درندوں کی سفاکی کا خدشہ بھی ہر پل  موجود تھا، اْوپر درختوں پر طرح طرح کے قدرتی رنگوں سے مّزین  پرندوں کے چہچہا نے سے کانوں پڑی آواز سْنائی نہیں دیتی تھی، ابھی کھانے سے فارغ  ہوئے انہیں کوئی ذیادہ  دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک گولی چلنے کی آواز سے سارا جنگل  گونج  اْٹھا، پرندے بھی چند لمحے پھڑ پھڑا کر خاموش ہو گئے اور جلد ہی ہر طرف ایک خوفناک سا سناٹا چھا گیا، 

یہ غیر قانونی شکار کھیلنے والوں کی کارروائی لگتی تھی اور لکڑی چور بھی اپنا  کام  دوپہر کے وقت ہی سرانجام  دیا  کرتے ہیں، وہ سب جلدی سے جیپ میں بیٹھے اور گولی کی آواز کی سمت  کا  اندازہ کرکے اْس جانب کو دوڑ  پڑے، تھوڑی دیر کے بعد  وہ  قدرے کھْلی سرسبز وادی میں اْتر رہے تھے جہاں ایک گڑھے میں جمع شدہ  بارش کا پانی پیتے ہوئے بندروں کا غول  اْنہیں دیکھ  کر شور مچانے لگا،  دوْربین سے اِرد گرد  دْور تک  کا جائزہ  لینے کے بعد وہ آگے بڑھ  گئے، پھر چند ہی منٹوں بعد ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آگے ایک  خوبصورت ہرن زخمی حالت میں پڑا بہت ذیادہ خون بہہ جا نے سے تقریباً  نڈھال ہو چکا تھا، گولی اْس کے سینے میں پیوست ہوئی تھی،

 

ایک ساتھی نے بڑھ  کر اْسے زبح  کر دیا اور اْٹھا  کر جیپ میں ڈال کر جلدی سے کچھ  دْور خود کو درختوں کے جھنڈ میں چْھپا لیا، اْنہیں یقین تھا کہ ہرن کے شکاری بھی ذیادہ  دْور نہیں ہیں اور وہ اِس کی تلاش میں یہاں پہنچنے والے ہیں، پھر اْن کی گرفتاری کے لئے سب نے پوزیشن بھی سنبھال لی، چند ہی منٹ گزْرے تھے کہ کچھ  دْور سامنے سے دو بندوق  بردار شکاری بڑے محتاط  قدموں سے بڑھے چلے آرہے تھے، جب  وہ کافی قریب آ گئے تو یک لخت  ًہینڈز اَپ ً کی گرجدار آواز سے اْن  دونوں کو اپنی بندوقوں کی زد میں لے لیا، اْن کی اچانک یلغار سے وہ اتنے حواس باختہ ہوئے کہ دونوں نے فوراً اپنی بندوقیں نیچے گرا دیں اور ہاتھ  کھڑے کرکے گرفتاری بھی دے دی، 

اْن کو ہتھکریاں پہنا  کر جیپ میں سوار کرایا  تو اندر بے جان ہرن کو پڑے دیکھ  کر وہ شَشدَر رہ گئے کیونکہ اْن کے ہمراہ  جْرم  کا  ثبوت  بھی موجود تھا، کوئی گھنٹہ بھر کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ اپنے ہیڈ کوارٹر پہنچے تو قیدیوں کو وہاں موجود عملہ کے حوالے کر دیا۔  پھر اگلے روز ایک کے بعد ایک اہل کار نے سلطان خاں کو مبارکباد دی کیونکہ دورانِ تفتیش دونوں قیدیوں میں ایک ایسا خطرناک مجرم بھی بے نقاب  ہوا جو عرصہ دراز سے مفرور اور حکومت کو کئی مقدموں میں مطلوب تھا، اب تو حکومت نے اْس کی گرفتاری پر ایک لاکھ  روپے کا  انعام  بھی مقرر کر رکھا  تھا،

 بالآخر کیس کے اختتام  پر سلطان خاں کو پروموٹ  کرکے انسپکٹر کے عہدہ پر فائز کر دیا اور انعام  کی  رقم  ساری ٹیم  میں  برابر تقسیم  کر دی گئی، سلطان خاں شاید اپنی کہانی مزید آگے بڑھاتا  کہ یہاں پہنچتے ہی  وہ  کھڑکی سے باہر دیکھ  کر یَکدم چْپ  ہو گیا اور اپنا سامان سمیٹ لیا،  گاڑی کی رفتار میں بھی نمایاں کمی آ گئی تھی اور سلطان خان آنے والے اسٹیشن پر اْترنے کیلئے گاڑی کے رْکنے کا انتظار کرنے لگا، پھر رسمی علیک سلیک کے بعد دروازے سے نیچے پلیٹ فارم  پر اْتر کر میری طرف دیکھ  کر مْسکرا یا  تو میں نے بھی چلتی گاڑی سے پاس سے گزْرتے ہوئے ہاتھ  کے اشارہ سے اْسے الوداع  کہا۔ تھوڑی دیر بعد ٹرین  فراٹے بھرنے لگی، اندر ڈبے میں مسا فر بھی آدھے رہ گئے تھے،

 

میرا سفر ابھی ایک گھنٹے کا باقی تھا اور اپنی پوری سیٹ خالی پا  کر میں نے اپنے پاؤں پسار لئے، اب میرے ذہن میں سلطان خاں کا سْنایا ہوا واقعہ گردش کر رہا تھا اور باقی ماندہ سفر مَیں نے اْسے زیرِتحریر لانے کے بارے سوچتے ہوئے گزْارا، بالآخر میرا سفر بھی کٹ گیا، میں گاڑی کے ڈبہ کے دروازے سے تقریباً  کْود کر پلیٹ فارم  پر اْترا، خود کو آبائی دیس کی آب و ہوا میں سانس لے کر ایک منفرد سی خوشی کا احساس ہوا اور میں لمبے لمبے ڈ گ بھرتا ہوا ریلوے اسٹیشن کی حدْود سے باہرآ گیا جہاں مجھے میرے گھر لے جانے کے لئے رکشوں کی قطار لگی ہوئی تھی، 

سب سے آگے والے میں ایک ہی سوار کی گنجائش باقی تھی اور میرے بیٹھتے ہی اْس نے دوڑ لگا دی، کوئی پندرہ منٹ کے بعد مَیں نے گھر کے دروازے پر جا دستک دی، دروازہ کْھلا  تو ماں کا خوشی سے نہال چہرہ میرے  رْو برْو تھا  پھر اْس نے آگے بڑھ  کر مجھے اپنے سینے کے ساتھ  بھینچ  لیا، جب اْس کے تقریباً  سْلگتے ہوئے لب میرے ماتھے پر ثبت ہوئے تو مجھے اِس بات  کا  شدَ ت سے احساس ہوا کہ آئندہ ماں سے ملنے میں وقفے کو طویل نہیں ہونے دوں گا، وہ میرے ساتھ چلتی ہوئی میرے کمرے میں آ گئی اور مَیں نے گھْوم  کر سارے کمرے کا جائزہ لیا، کچھ ایسا ہی لگ رہا  تھا  کہ ابھی ابھی جھاڑ پونچھ  کر صاف  کیا  گیا ہے، میری لکھنے پڑھنے کی میز پر ضرورت کی ہر وہ اشیاء جوْں کی تْوں پڑی تھی جیسے ہی مَیں چھوڑ گیا تھا، فرطِ جذبات سے میں نے بڑھ  کر ماں کے ہاتھوں کو چْوم لیا، 

اب اْس کی آنکھوں میں رَواں  گرما گرم آنسوؤں  کے موتی چھلک  کر میرے ہاتھوں پر ٹپک پڑے، میں نے جلدی سے ماں کی چادر کے کونے سے باقی اْمڈ آنے کو تیار آنسوؤں کو خشک کر دیا اور اْس کے ہمراہ کمرے سے نکل آیا، پھر ہم  دیر تک بیٹھے اِدھر اْدھر کی باتوں میں مصروف رہے کہ بابا جان بھی آ گئے، وہ بھی بڑے  پیار سے ملے اْن سے دورانِ گفتگو کب نیند کی دیوی نے اپنی آغوش میں لے لیا مجھے اِس کا  کچھ علم  نہیں، جب بیدار ہوا تو ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا، ماں کھانا  تیار کئیے بیٹھی ہوئی تھی، میری آنکھیں کْھلی دیکھ  کر اْس میں ایک چْستی سی عَوّد  کرآئی،

 

وہ یہ کہتی ہوئی جلدی سے اْٹھ  گئی، ًبیٹا جی اْٹھو، جلدی سے نہا لو، مَیں کھانا  لگاتی  ہوں،ً  پھر ہم تینوں ایک ساتھ  کھانے کی میز پرآ بیٹھے، ماں کے ہاتھوں بنے کھانے کا ذائقہ ہی مْنفرد ہے وہ ہمیشہ میری پسند کا خیال  بھی رکھتی ہے اِسلئے مَیں پیٹ بھر کر کھاتا ہوں اور وہ مطمٌعن ہو جاتی ہے، میرے ذہن میں اب بھی گردش کرتا سلطان خاں کا سْنایا ہوا واقعہ مجھے لکھنے پر برابر اْکسا رہا تھا، فارغ ہوتے ہی مَیں سیدھا اپنے کمرہ میں آ یا اور قلم اْٹھا  کر جو لکھنا شروع کیا تو لکھتا ہی چلا گیا، ایک گھنٹہ بعد اْس کی نوک پَلک دْرست کرکے اپنے قارعین سے شیئر کرنے کے لئے تیا ر کرکے سْکون کی نیند سو گیا، پھرایک ہی چھْٹی باقی تھی مَیں ریل گاڑی کا اْکتا  دینے والا سفر طے کرکے واپس پہنچا ہوں، آتے ہی پہلے میں نے اپنے قاری دوستوں کے لئے تیار پوسٹ  کو اپنے پیج  کے حوالے کیا جس  پر اب  مجھے اْن  کے کمینٹ  کا  انتطار ہے



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے