URDU STORY URDU KAHANI | URDU SACHI KAHANI | SACHI KAHANIA URDU KAHANIYAN

 

دل میں خدا کےعلاوہ بھی کسی اور کا  خوف رکھنا  دْرست  نہیں !

یہ دْنیا  یہ انسان اور بے شمار مخلوقات کو تخلیق کرنے والی نہایت اعلی و ارفع ذات  کی  ہَیبَت  کو دل میں جگہ  دینے سے کسی اور کے ڈر خوف  کا  سرایت  کر جانا  ممکن ہی نہیں رہتا،

 بعد اذاں اْس میں اتنی طاقت عوّد  کر آتی ہے کہ اْسے دیکھ  کر سانپ  جیسے زہریلے جانور اور جنگلی درندے بھی خود کو چْھپا لینے میں  ہی عافیت جانتے ہیں، 

وہ تو اْس وقت مقابلہ پر اْتر آتے ہیں جب اْنہیں  یہ یقین  ہو جاتا ہے کہ مدِ مقابل اْس کی جاں لینے کے دَرپے ہے۔ اپنے دل کے اندر ہر وقت  خوفِ خْدا  کو بسا ئے رکھنے والا مسلمان مومن کسی سے سامنا  کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبراتا، 

وہ تو بے خوفی کے ساتھ  خطرات میں کْود پڑتا ہے، ہماری اسلامی تاریخ  گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جن کے دِلوں میں صرف  قادرِ مطلق کا دَبدبہ ہی کارفرما تھا  انہوں نے ہمیشہ حق و باطل کی لڑائیوں میں اسلام دشمن کْفار کو نہ صرف عبرت ناک شکست سے دوچار کیا بلکہ طول و عرض پر مشتمل  بےشمار مفتوحہ علاقے اپنی سلطنت میں شامل کئے،


 

اپنے دل میں کسی خوف کو جگہ نہ دینے والے انہی انسانوں نے بپھرے  ہوئے عمیق سمندروں کے سینوں پر نہ صرف بڑے بڑے بحری جہاز چلائے بلکہ مچھلیاں پکڑ کر خوراک میں شامل کرنے اور نیچے گہرائیوں میں اْتر کر تہہ میں سے قدرتی نوادرات و قیمتی موتی نکا لے، 

اْدھر طول و عرض میں دْور تک پھیلی ہوئی دھرتی  پر سفر کے لئے گھوڑے، اْونٹ اور قویْ الجْثہ جانوروں کی سواری کو ترک  کرے  بھاری بھرکم  گاڑیاں ایجاد کر لیں اور کْرہ ارض کے ایک کنارے سے دوسرے  بَراعظموں  تک  جلد رسائی کے لئے ہوائی سفر اختیار کرکے دِنوں کی مسافت کو چند گھنٹوں میں سمیٹ کر رکھ دیا، 

اب  گْزرتے ہوئے ہر دن  کوئی نہ کوئی نئی حیران کْن  ایجاد سامنے آنے سے ذہن میں یہ خیال جنم لیتا ہے کہ ترقی کی شاہراہ  پر بھا گ دوڑ کرنے والی موجودہ  دْنیا  مستقبل میں کیا  سے کیا  ہو جائے گی؟ خوف ایک ایسا  نا دیدہ  مرض ہے کہ جب تک یہ دل میں نہیں اْترتا انسان کسی بھی خطرناک مخلوق سے لڑ بھڑ جانے سے نہیں گھبراتا، 

ایک بچے کی ہی مثال لے لیں، وہ اپنی ذندگی کے ابتدائی دّور میں ہر چیز کو پکڑ کر بغیر سوچے سمجھے فوراً منہ میں ڈال لیتا ہے جس سے نقصان پہنچنے پر وہ ڈرتا ہے  پھر رفتہ رفتہ بڑوں کے روکنے ٹوکنے اورمْوذی جانوروں کے نام  پکارنے کے باعث  اْس کے دل میں جو ہلکا سا خوف پیدا ہوتا ہے تو وہ چیخنے چلانے کا سہارا لے لیتا ہے، 

جب کسی کے دل میں کسی قسم  کا  ڈر خوف  گھر کر جاتا ہے تو پھر وہ رفتہ رفتہ میٹھی نیند کے مزے سے بھی محروم ہونے لگتا ہے، اکثر رات کو سوتے ہوئے ہڑ بھڑا کر اْٹھ  جاتا ہے، اب اْس کی کمزور دلی کا یہ عالم  کہ رات کی تاریکی میں اْسے کہیں اکیلے جانے آنے سے بھی ڈر محسوس ہوتا ہے۔  

پھر اقوامِ عالم میں اگر نگاہ  دوڑائیں تو عسکری لحاظ  سے کم تر اور غیر ترقی  یافتہ ممالک  کو صبح و شام  یہ  فکر دامن گیر رہتی  ہے کہ  کوئی جنگی ہتھیا روں  کے انبار رکھنے والا  پڑوسی ملک  اْس  پر نہ چڑھ دوڑے، اِس خوف  کے  زیرِاثر وہ  بھی دشمن  کو سبق سِکھا نے اور اپنی حفاظت کی خاطر بارودی اسلحہ کے ڈھیر کو بڑھا نے کی کوشش میں ہَمہ تن مصروف رہتا ہے، 

یہی وہ ڈر ہے جو ایک انسان  کو اپنے مدِ مقابل انسان اور اْس کی نسل تک  کا  نام و نشان مٹا دینے کے لئے خوفناک  دھماکے دار بم اور مہلک میزائلوں کا حصْول نا گزیر بنا  دیا ہے، لیکن پھر بھی ایک مْسلم ریا ست چاہے وہ رقبے اور آبادی کے اعتبار سے سِمٹی ہوئی ہی کیوں نہ ہو اْس کے باسِیوں کے دِلوں میں صرف خوفِ خدا کی موجودگی کی بنا  پر وہ اپنے سے کئی گنْا  طاقتور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں  گارڑ کر برابری کی سطح  پر معاملات  کو طےکرتے ہیں اور کامیاب و کامران  بھی رہتے ہیں۔




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے