40 Best Poetry Pics in.Urdu | Poetry pics in Urdu

 40 Best Poetry Pics in.Urdu | Poetry pics in Urdu 


غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تکنہ پہنچے
مجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے


انہیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل رہی ہیں
میں جوان سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے

شکیل بدایون



تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے 
تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے

کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے
عدیم ہاشمی


لوں لوں عشق عشق پیا کردائے 
تے عشق دی منزل تو جاناں 

اے جان جان جہاں دی اے
تے جان جہاں بس تو جا ناں

نا معلوم


کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق 
جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

عشق معشوق عشق عاشق ہے
یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق

میر تقی میر


یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

میر تقی میر


الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا 
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کان تمام کیا 

میر تقی میر


یاد اس کی خوب نہیں ہے میر باز آ 
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

میر تقی میر


ہمارے آگے تراجب کسو نے نام لیا 
دل ستم زدہ کو ہم نے تھامتھام لیا

میر تقی میر


ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے 
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

میر تقی میر


شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آکے ٹل گئی 
دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی 

جب تجھے یاد کرلیا صبح مہک مہک اٹھی 
جب تیرا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی

فیض احمد  فیض


جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی 
جب تیرا گم جگالیا رات مچل مچل گئی 

فیض احمد فیض


پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں 
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام

فیض احمد فیض


تیز ہے آج درد دل ساقی 
تلخٰی مے  کو تیز تر کردے

فیض احمد فیض


بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو 
ایسا کچھ کر کے چلویاں کہ بہت یاد رہو

میر تقی میر


ناز کی اس کے لب کی کیا کہیے 
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

میر ان نیم باز آنکھوں میں 
ساری مستی شراب کی سی ہے

میر تقی میر


اٹھ کر تو آگے ہیں تیری بزم سے مگر 
کچھ دل سے آئے ہیں

فیض احمد فیض


ساری دنیا سے دور ہو جائے
جو زرا تیرے پاس ہو بیٹہے

فیض احمد فیض


دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روز گار کے

فیض احمد فیض


غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

فیض احمد فیض  


اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا 
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

فیض احمد فیض


بیٹھے ہوئے رقیب ہیں دل برکے آس پاس 
کانٹوں کا ہے ہجومگل تر کے آس پاس

جگر مراد آبادی


کبھی نامہ لکھا تو خود ہی لکھ کر چاک کر ڈالا
کہاں کا نامہ بر کیوں کوئی میرے یار تکپہنچے

پیر نصیر الدین نصیر


اب تو بچائے مجھ کو خدا ہی
ان کا تبسم میری تباہی 

راہ وفا میں کون کسی کا 
عشق ہی منزل عشق ہی راہی

پیر نصیر الدین نصیر


وفا ہو کر جفا ہو کر حیا ہو کر ادا ہو کر
سما ئے وہ میرے دل میں نہیں معلوم کیا ہو کر

پیر نصیر الدین نصیر


  کبھی ان کا نام لینا    کبھی ان کی بات کرنا 
میرا ذوق ان کی چاہت      میرا شوق ان پر مرنا

وہ کسی کی جھیل آنکھیں     وہ مری جنوں مزاجی 
کبھی ڈوبنا اُبھر کر   ڈوب کر ابھرنا

پیر نصیر الدین نصیر


نہ ہو ان پر جو میرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ میرے نہیں تو نہیں سہی

پیر نصیر الدین نصیر


میخانہ تیرا    جانم تیرا   رند بھی تیرے 
ساقی مزہ تو تب ہے کہ سب پلا کے پی

اے بادہ کش وہ آج نظر سے پلائیں گے
ساغر کو پھینک آنکھوں سے آنکھیں ملا کے پی

پیر نصیر الدین نصیر


دل میں کسی کی راہ کیے جا رہا ہوں میں 
کتنا حسیں گناہ کیے جا رہا ہوں میں 

جگر مراد آبادی


کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشین رہے
جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے

مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں 
قسمت میں کوئے یار کی دو گزر زمیں رہے

جگر مراد آبادی


درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے 
حبے جانے کی رسم جاری ہے 

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپکے ساتھ ہی گزاری ہے

گلزار




کوئی خاموش زخم لگتی ہے
زندگی ایک نظم لکھتی ہے

گلزار


وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر 
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

گلزار


جب بھی یہ دل ادا س ہوتا ہے 
جانے کون آس پاس ہوتا ہے

گلزار


عشق کے ماروں کو آداب کہاں آتے ہیں 
تیرے کوچے میں چلے آئے اجازت کے بغیر

ضیا ضمیر


خشک آنکھیں لیے پنستا ہوا دیکھو جس کو 
اس کو صحرا نہیں کہہ دینا سمندر کہنا

ضیا ضمیر


دشمن جان ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے 
ایسا اس شہر میں اک شخص ہمارا بھی ہے

ضیا ضمیر


اگرچہ میں اک چٹان ساآدمی رہا ہوں 
مگر تیرے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں

وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے 
میں قطرہ قطرہ اس کی آنکھوں کو پی رہا ہوں

محسن نقوی


کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہروں والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

محسن نقوی

Post a Comment

0 Comments