intresting urdu story baap to baap hota hia | urdu sachi kahani in urdu | اردو سچی کہانی باپ تو باپ ہوتا ہے

 

باپ تو باپ ہوتاہے

تقریباً آٹھ ماہ کراچی رہنے کے  بعد گھر واپسی ہوئی تھی - چھت پر بیٹھا سگریٹ کے مرغولے فضا میں بلند کر رہا تھا کہ بابا جان آ گئے - میں سگریٹ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا کہ بابا جان مسکراتے ہوئے بولے چل چھوڑ - مت چھپا - اب تو بڑا ہو گیا ہے، اپنا اچھا برا سمجھتا ہے -

 ذرا دیکھوں تو کونسا برانڈ پیتے ہو؟ بابا جان میرے ہاتھ سے سگریٹ لیتے ہوئے بولے اور ایک لمبا کش لیکر بولے - آہاں ہاں بالکل مزہ نہیں - جو اپنے  دیسی سگریٹ ہیں نا اسکے آگے سارے سگریٹ بیکار ہیں اور ساتھ ہی دو سگریٹ جلا کر ایک میری طرف بڑھا دیا کہ لے پتر یہ پی - 

میں نے جھجکتے ہوئے سگریٹ پکڑ لیا - چاہے میں بڑا ہو گیا تھا مگر بابا جان کا ڈر اب بھی اتنا ہی سلامت تھا جتنا بچپن میں ہوا کرتا تھا - اچھا  پتر یہ بتاو کہ نشئہ اور کون کون سا کرتے ہو؟ فرینکلی بولنا - بالکل نہیں ڈرنا کہ آپ اپنے بابا جان سے بات کر رہے ہو ۔؟

میں ایک کش لیتے ہوئے بابا جان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا اب کیا بتاو‌ں یار کہ نشئہ تو بس ایک ہی کرتا ہوں۔۔۔

 - کونسا نشئہ؟ بابا جان سوالیہ لہجے میں بولے - "مرینا کا " میں ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولا - 

یہ کوئی نیا نشئہ ہے کیا؟ یہہے-😂

لے بھی پتہ نہیں کیا کیا ایجاد کیے رکھتے ہیں؟ یہ نشہ ہوتا کیسا ہے؟ مطلب کہ چرس؟ افیون؟ آئس؟ یا ڈرنک وغیرہ؟ بابا جان نے ایکدم سے سوالات کی بوچھاڑ کر دی - ارے نہیں بابا جان "مرینہ " میری گرلفرینڈ - افففف اسکی آنکھیں - یوں لگتا ہے ان میں مکمل ڈوب جاو، کسی گہرے سمندر جیسی ہیں - اسکی زلفیں جب چہرے سے ہٹاتا تھا تو یوں لگتا تھا کہ جیسے سیاہ گھنے بادلوں سے چاند نکل آیا ہو  اسکے گال ایسے تھے جیسے کشمیر کے سیب، جن میں اس قدر رس ہوتا ہے کہ انگلی لگانے سے اندر دھنس جائے   اسکی چوڑی پیشانی - ستواں ناک اور پیارے پیارے کان ۔۔

اففففف حسن کی وہ مکمل مورت ہے -

 میں بےتکلفی میں اس حد تک بڑھ گیا کہ مجھے پتہ ہی نا چلا کہ میں بابا جان سے بات کر رہا ہوں - اففف بابا جان اسکے ہونٹ تو...!


ابھی میرا جملہ مکمل نہیں  ہوا تھا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ میری گردن پر پڑا۔۔ابھی میں سنبھلا ہی تھا کہ ایک زوردار مکا میرے تھوبڑے پر پڑا  اور میرا اکتالیسواں طبق بھی روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا اور بس بابا جان کی آخری بات جو بھاگتے ہوئے کانوں میں پڑی وہ یہ تھی پتر ایک دیسی  سگریٹ سے ٹن ہو گیا ہے - چلا ہے وڈا نشئی بننے 

 آج کے بعد سگریٹ کو ہاتھ بھی لگایا نا تو ٹانگیں توڑ دوں گا 

خدا جانے کونسا سگریٹ تھا جو میرے منہ سے سارا سچ نکل آیا - میرا سر ابھی تک گھوم رہا ہے...




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے