paki wali dosti intresting story in urdu urdu sachi kahani in urdu | دوست کی امی سے پکی والی دوستی اردو سچی کہانی


دوست کی امی سے پکی والی  دوستی

 ایک سال پہلے کی بات ہے جب میری عیشال کے ساتھ دوستی عروج پر تھی اور اس سے ہفتے میں ایک آدھ بار ملنا\ بہت ضروری ہو چکاتھا ایک دن اتوار کے روز عیشال کے ساتھ میرا ٹائم طے تھا مگر اس نے صبح سویرے مجھے فون کر کے آگاہ کیا کہ اس کی والدہ گاؤں سے اس کے پاس آرہی ہے ان کو بازار سے شاپنگ کرنی ہے اس لیے ان کے ساتھ بازار جانا ہےاور شام تک وہ ان کے ساتھ ہی رہے گی اس لیے آج کا پروگرام کینسل کر دیا جائے

 اس دن میں نے عیشال کے ساتھ کھل کر گپ شپ کرنے کا پلان بنایا تھا مگر اب میری امیدوں پر پانی پھر چکا تھا اب کیا کیا جا سکتا تھا میں نے دل ہی دل میں عیشال کی والدہ کو بہت کوسا اور گھر میں ہی  ٹی وی دیکھنے لگا رات کو تقریبا ساڑھے آٹھ بجے عیشال کا فون آیا اور اس نے مجھے ہوسٹل بلایا میں گیا تو عیشال اپنی والدہ کے ساتھ باہر آئی 

عیشال کی امی کو دیکھا جو عمر میں تقریبا 50 برس کی ہونگی مگر انھوں نے خود کو کافی حد تک سمبھال کر رکھا تھا جس کی وجہ سے ان کی عمر اصل سے 10 سال کم لگتی تھی رنگ سانولہ اور بالوں کو ڈائی کیا ہوا تھا انہوں نے عبایا پہنا ہوا تھا اس وقت شام ہو چکی تھی اور اندھیرہ چھا چکا تھا مگر انہوں نے ابھی تک دھوپ کا چشمہ لگا رکھا تھا 

اس کے علاوہ بہت گہرے رنگ کی لپسٹک لگا رکھی تھی چہرے پر پاوڈر منوں کے حساب سے لگایا ہوا تھا میں ان کی عمر اور فیشن دیکھ کر حیران ہو رہا تھا عیشال نےمجھے بتایا کہ امی کو دیر ہو گئی ہے اس وقت گاؤں جانا مشکل ہے اور امی ہاسٹل میں نہیں رہ سکتی تم ان کے رہنے کا بندوبست کرو میں سمجھا کہ عیشال بھی ساتھ میں ہے رات کو رہے گی مگر عیشال نے بتایا کہ 

ہاسٹل مین رات کو محفل میلاد ہے جس کی آرگنائزنگ کمیٹی مین میں بھی شامل ہوں اس لیے میرا ہاسٹل سے جانا ممکن نہیں ہے تم صرف امی کو لے جاو میں نے عیشال کی والدہ کو گاڑی مین بٹھایا اور گھر کی  طرف چل دیا راستے میں میں میں نے ان سے پوچھا رات کو کھانے میں کیا کھائیں گی تو کہنے لگی کھانا جو مرضی ہو مگر اس ہو ٹل میں کمرا لینا جس میں اے سی اور ٹی وی ہو اور اپنی مرضی کی فلم بھی دیکھنے کو مل سکے

 میں ان کو اپنے گھر میں ٹھہرانے کا سوچ رہا تھا ان کی بات سن کر میں نے سوچا ان کو کسی گیسٹ ہاوس میں چھوڑ کر  خد گھر چلا جاوں گا سو ان کو لے کر گلبرگ کے ایک گیسٹ ہاوس آگیا جہاں ایک کمرہ لے کر وہاں لے گیا کمرے میں جاتے ہی انہوں نے اپنا عبایا اتار دیا میں نےدیکھا کہ انہوں نے ٹائٹ کپڑے پہنے ہوئے ہیں ان کو دیکھ کر مجھے پیجابھی زبان کو محاورہ بڈھی گھوڑی لال لگام ئاد آگیا

 مین نے کہا میں آپ کےلیے کھانے کا بندوبست کر دوں تو کہنے لگی آپ کھانا رہنے دو رات کو کسی وقت دونوں باہر جا کر کھا لیں گے ان کی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ آج رات ان کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا وہ بیڈ کے اوپر بیٹھی ہوئی تھیں اور میں صوفے پر بیٹھ گیا تو کہنے لگی وہاں کیوں بیٹھے ہو یہاں بیڈ پر آرام سے جوتے اتار کر بیٹھ جاؤ 

میں اٹھا اور جوتے اتار کر ان کے پاس جا بیٹھا اس کے بعد وہ فلم دیکھنے میں مگن ہو گئی فلم کے سین دیکھ کر ان کی آنکھوں میں عجیب سی جمک آرہی تھی میرا موبائل بج اٹھامیں نے فون کی سکرین پر دیکھاتو عیشال کو فون تھا میں نے فون یس کیا تو عیشال بولی امی کیسی ہیں انھوں نے کھانا کھا لیا ہے کہ نہیں میں نے کہا ابھی کھانا نہیں کھایا کہتی ہیں ابھی بھوک نہیں ہے 

عیشال نے کہا امی کا خیال رکھنا کہیں گاوں جا کر ئی نہ کہیں کہ مجھے زلیل کر دیا میں نے کہا تمہاری امی میرے ساتھ بہت خوش ہے اور صبح تم کو خد ہی بتا دیں گی کہ میں نے ان کو کتنا خوش کیا ہے اس کے بعد میں نے صابرہ بیبی کی ان کی بیٹی سے بات کروائی تو کہنے لگی شاکر بہت اچھا بچہ ہے ابھی ہم دونوں گپ  شپ کر رہے تھےکچھ دیر بعد کھانا کھائیں گے

 اس کے بعد انھوں نے خود ہی فون بند کر دیا اس نے بتایاکہ مجھے انگریزی فلمیں دیکھنے کا بہت شوق ہے مگر تمہارے خالو نے ہمیں کبھی نہیں دیکھنے دیا انگریزی فلم کیسے دیکھنے کی اجازت دیں گےمیں لاہور آئی تھی تو سوچا کہ یہاں انگریزی فلم ہی دیکھ لوں  اس لیے جان بوجھ کربازار  میں دیر کر دی 

جب ہاسٹل گئی تو عیشال کے کمرے میں ٹی وی نہیں تھا بلکہ کامن روم میں جا کر دیکھنا پڑتا تھا اس لئے میں نے عیشال سے کہا کہ ہاسٹل میں میرا دم گھٹتا ہے میں یہاں نہیں رہ سکتی جس پر اس نے تمہیں فون کیا میں دعا کر رہی تھی عیشال ساتھ نہ آئے مگر اس نے خود ہی کہہ دیا کہ ہاسٹل میں محفل میلاد ہے جس پر میں تمہارے ساتھ آگئی اس نے کہا عیشال ابھی بچی ہے اس کے لیے انگریزی فلمیں دیکھنا اچھا بھی نہیں ہے میں دل ہی دل میں کہہ رہا تھا یہ تو مجھے ہی پتا ہے کہ عیشال کتنی بچی ہے

 انھوں نمے مجھے مزید بتایا کہ تمہارے خالو مجھ سے15 سال بڑے ہیں میری 12 سال کی عمر مین شادی  ہو گئی تھی ابھیمیں جوان ہی تھی کہ تمہارے خالو کچھ کرنے کے قابل نہیں رہے مگر میں ان کے ساتھ ابھی تک گزارہ کر رہی ہوں کبھی کسی غیر مرد کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا مگر تمہارے خالو مجھ پر اس عمر بھی شک کرتے ہیں

 اکژر اوقات مجھ سے اس بات پر ان کی لڑائی بھی ہوتی ہے اور مجھ پر ابھی تک تشدد بھی کرتے ہیں اس نے بتایا کے تمہارے خالو عیشال کے لاہور آنے پر خوش نہیں تھے مگرعیشال ہے ہی بہت ضدی اس نے ان کو منا ہی لیا اور ہم دونوں نے باتیں شروع کر دیں تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد مجھے بہت زیادہ بھوک محسوس ہونے لگی 

میں نے ان سے پو چھا کہنے لگیں میرا ارادہ تو تھا کہ باہر جا کر کسی اچھے سے ہو ٹل میں کھانا کھاتے اب تو یہی کچھ دال روٹی منگوا لو میں نے کہا آپ یہاں آرام کریں میں کچھ بازار سے لے کر آتا ہوں میں مارکیٹ گیا اور وہاں سے کڑاہی گوشت لے آیا جب گیسٹ ہاوس پہنچا تو محترمہ سو چکی تھیں میں نے ان کو ہلا کر اٹھایا پھر کھانا کھایا  اور سو گئے صبح 8 بجے کے قریب عیشال کا فون آیا تو میں جاگا اس نے والدہ کی خیریت معلوم کی تو میں نےکہا کہ وہ تو گھوڑے بیچ کر سو ئی ہوئی ہیں

 جس پر وہ بہت حیران ہوئی کہ ان کیہ والدہ تو صبح اذانوں کے وقت اتھ جاتی ہے آج کیسے اتنی دیر تک سوئی ہوئی ہیں میں نے کہا شائد لاہور آکر عادت ایک دن میں تبدیل ہو گئی ہو جس پر وہ ہنسنے لگی فون بند کر کے میں نے عیشال کی والدہ صاحبہ کو اٹھانے کیلے آواز دی تو اوں آں کر کے لیٹی رہی میں اٹھا اور واش روم جا کر غسل کیا باہر آیا تو ابھی تک سوئی ہوئی تھیں

 میں نے کپڑے پہن کر ان کو ہلایا مگر وہ اٹھنے کا انم ہی نہیں لے رہی تھی میں نے بڑی مشکل سے انھیں جگایا اور ان کو باتھ روم بھیجا اتنی دیر میں ناشتہ منگوا لیا باہر آئیں تو میں ناشتے میں مصروف تھا انھوں نے کپڑے پہنے اور میرے ساتھ انڈے بریڈ کا ناشتا کیا جس کے بعد میں نے ان سے چلنے کا کہا اور گاڑی میں بیٹھ کر عیشاک کے ہاسٹل کی طردف چل پڑے باتےیں کرتے کرتے عیشال کا ہاسٹل آگیا جہاں میں نے ان کو ڈراپ کرنا چاہا تو عیشال نے کہا ان کو کوچ میں بٹھا کر آؤں

 خیر وہاں سے ان کا ساماں لیا اور نیازی اڈے کی طرف چل دیئےگاڑی میں بٹھا کر میں واپس عیشال کے پاس آگیا عیشال آپ کی امی رہتی گاؤں میں ہے مگر شوق عجیب ہیں آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا  میرے ساتھ ٹائم بنا کر اپنی ماں سے ملوا دیا میں ساری رات بور ہوا اوپر سے آپ کی امی کی فر مائشیں عیشال نے مجھ سے سوری بھی کی اور اگلی اتوار ملنے کا پروگرام بنایا میں پھر سے عیشال کے ساتھ گپ شپ کرنے کے لیے پر امید تھا  

       


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے