Top 40 Urdu Poetry Pics | Best Poetry pics in Urdu fount

 Top 40 Urdu Poetry Pics | Best Poetry pics in Urdu fount


تیرا ہنسنا بھی کیا مصیبت ہے 
میں کوئی بات کرنے آیا تھا

حسن ظہیرراجا


اس کی عادت ہے میرے بال بگاڑے رکھنا
اس کی کوشش ہے کہ کسی کو اچھا نہ لگوں

نامعلوم


اشار تا بھی اگر رو کے تو کسی شے سے 
دوبارہ ہم کبھی وہ کام ہی نہیں کرتے

سید کونین حیدر


ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارےدوستو
دو ستانے زندگی سے موت سے یاری رکھو

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

راحت اندوری



عجیب شخص ہے ناراض ہو کے ہنستا ہے
میں چاہتا ہوں جفا ہو تو وہ جفا ہی لگے

بشیر بدر


مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے 
مرے بھائی مرے حصے کی زمین تو رکھ لے

راحت اندوری

urdu poetry,best urdu poetry collection

دل کا سکون رزق کے ہنگامے کھا گئے 
سکھ آدمی کا چند نوالوں میں ڈس لیا

رام او تار گپتا مضظر 


یہی عادت تو ہے سعدی سکون قلب کا باعث 
میں نفرت بھول جاتا ہوں بحبت بانٹ دیتا ہوں

سعید اقبال سعدی




اک ملاقات کا جادو کہ اتر تا ہی نہیں 
تری خوشبو مری چادر سے نہیں جاتی

راحت اندوری


تیری دوری بھی ہے مشکل تری قربت بھی محال
کس قدر تو نے مری جان ستایا ہے مجھے

جمیل یوسف


ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
پر کیا کریں کہ ہو گئے نا چار جی سے ہم

ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کوکسی سے ہم 
منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کسی بے کسی سے ہم



عجب نشہ ہے تیرے قرب میں کہ جی چاہے
یہ زندگی تیری آغوش میں گزر جائے

اعتبار ساجد



تو جان ہے ہماری اور جان ہے تو سب کچھ 
ایمان کی کہیں گے ایمان ہے تو سب کچھ

شیخ ابراہیم ذوق




جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

احمد فراز


sad urdu poetry,best urdu poetry,2 line urdu poetry

تیری زلفیں تیرے عارض تری آنکھیں ترے لب
میں زمیندار ہوں سب مری جاگیریں ہیں

 شاہداحسن مرادآبادی


قیامت ٹوٹ پڑتی ہے تمہارا نام جو سن لوں
مجھے اوروں کے منہ سےتم کبھی اچھے نہیں لگتے

نامعلوم


جب تیرے نین مسکراتے ہیں 
زیست کے رنج بھول جاتے ہیں

عبدالحمید عدم


سورج چاند ستارے مرے ساتھ میں ریے 
جب تک تمہارے ہاتھ میرے ہاتھ میں رہے

راحت اندوری


تم میری طرف دیکھنا چھوڑو تو بتاوں 
ہر شخص تمہاری طرف ہی دیکھ رہا ہے

وسیم بریلوی


مقصود ہے آنکھوں سے ترا دیکھنا پیارے
جب تو ہی نہ ہو پاس تو کس کام کی آنکھیں

مصحفی غلام ہمدانی


کمسن ہو تم حسین ہو تم دل ربا ہو تم
تم ستم روا ہے مگر اس قدر نہیں

جلیل مانک پوری


اس کی یاد آئی ہے سانسو زرہ آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خللل پڑتا ہے

راحت اندوری


urdu poetry sad,sad poetry,sad poetry in urdu

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہیے
اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیے

راحت اندواری


تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو میں جیسے چاہوں لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم میرے اگر میں ہارا تو میں تمہارا

یہ کسی تعویز کر رہے ہو یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے
تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ تو میں تمہارا

عامر امیر


اگر یہ کہہ دو بغیر میرے گزارہ تو میں تمہارا
یا اس پے مبنی کوئی تاثر یا کوئی اشارا تو میں تمہارا

غرور پر ور انا کا مالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا تو میں تمہارا

عامر امیر 



جان اگر ہو جان تو کیوں کر نہ تجھ پر نثار 
دل اگر ہو تری صورت پہ شیدا کیوں نہ ہو

حسن بریلوی 


زمانہ سازیوں سے میں ہمیشہدور رہتاہوں
مجھے ہر شخص کے دل میں اتر جانا نہیں آتا

بسمل سعیدی


محبت کا تقاضہ ہے ذرا دوری رکھی جائے 
بہت نزدیکیاں اکثر بڑی تکلیف دیتی ہیں

شمشیر خان


poetry urdu,sad poetry pics,poetry in urdu,funny poetry

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈرکس کا ہے 
سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے

امیر میائی


حسن اور عشق ہم آغوش نظر آجاتے ہیں 
تیری تصویر میں کھینچ جاتی جو حیرت میں 

امیر میائی


وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں 
میں شادہوں کہ ہوں کہ ہوں تو کسی ی نگاہ میں

امیر میائی


ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں 
تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

امیر میائی


کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے 
خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

امیر میائی


جو چاہیے سو مانگیے اللہ سے میر
اس در پہ آبرو بہیں جاتی سوال سے

امیر میائی


کبھی کبھی تو ترے دکھ کے زرد پتوں کو 
صبا کی گود میں خوشبو نے لوریاں دی ہیں 

کبھی کبھی تو مجھے تو نے سانس لینے کو 
خود اپنی سانس کے ریشم کی ڈوریاں دی ہیں

محسن نقوی


مجھے چھوڑ دے میرے حال پر تیرا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے

شکیل بدایونی


کوئی اے شکیل پوچھے یہ جنوں نہیں تو کیا ہے
کہ اسی کے ہو گئے ہم جو نہ ہو سکہ ہمارا

شکیل بدایونی


وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے 
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں

شکیل بدایونی


کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچاکر 
پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں

شکیل بدایونی


Post a Comment

0 Comments