urdu kahani mohabbat se nafsiyatee hony tak | very intresting story | اردو سچی کہانی محبت سے نفسیاتی ہونے تک

 

    محبت سے نفسیاتی ہونے تک 

      میرے الفاظ آپ کے دل کی آواز بھی ہو سکتی ہے 

کامیابی کا ایک زہر


میرا نام حمزہ ہے آپ کو میں ایسا سچ بتاتا ہوں جس سے ہر نوجوان گزر رہا ہے یا گزر چکا ہے 

وہ قیامت جو ہر مرد کی جوانی پہ گزرتی ہے 

وہ غلطی جو ہر ماں باپ کرتے ہیں یا کر رہے ہیں 

میں وہ حقیقت بتانا چاہتا ہوں جس نے مجھے برباد کر کے رکھ دیا 

میٹرک میں تھا نیا نیا جوان ہو رہا تھا 

دل میں ہزاروں حسرتیں جنم لینے لگی تھیں 

کچھ خواب جو کسی شہزادی کے دیکھنے لگا تھا 

ابھی میری عمر 20 سال تھی 

میٹرک کے امتحانات سے فراغ ہونے کے بعد میں گھر میں ہی تھا 

نہ کوئی نہ کاج 

ابا چاہتے تھے میں انجینیر بن جاوں پڑھ لکھ کر لیں  میں مزید نہیں پڑھنا چاہتا تھا 

ابا کے سامنے اب میں کیا بول سکتا تھا 

ابا کو کہا بھی تھا اب جان میں نہیں پڑھنا چاہتا بہتر ہے آپ مجھے کوئی ہنر سیکھنے دیں لیکن ابا نے چند گالیاں دی اایک دو تھپڑ مارے اور کہنے لگے ہاں کھول کر سن لو تم کو انجینیر بننا ہے ہر حال میں سمجھے 

میں چپ ہو گیا 

جوانی کے دن تھے جذبات مچلنے  لگے 

کسی فلم یا کسی گانے کی ویڈیو میں کسی ہیروئین کو ناچتے دیکھتا تو دل بے قابو سا ہونے لگتا 

دھڑکنیں بے تحاشہ دھڑکنے لگتیں 

ایک دن محلے کی ایک لڑکی جو میری ہم عمر تھی 

جسے دیکھ کر میرے اندر کی محبت میرے ارمان عشق 

سب مہکنے لگتے 

کئی بار اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اپنی محبت کا احساس دلانا چاہا لیکن وہ ہر بار مجھے اگنور کر کے گزر جاتی 

یوں کہہ لیں مجھے اس سے بے پناہ محبت ہو چکی تھی 

ادھر ابا چاہتے تھے میں پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بن جاوں یہاں میں کسی کی محبت میں  دیوانہ ہو رہا تھا 

اس لڑکی کو ایک جھلک دیکھنے کے لیئے گھنٹوں ان کے دروازے سے تھوڑا دور کھڑا رہتا 

اس کے مسلسل اگنور کرنے پہ میرے جذبات مچلنے لگے 

ایک دن وہ گلی سے گزر رہی تھی میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا 

وہ ڈر گئی اس نے چلانا چاہا لیکن میں نے اس سے پیار سے کہا کیوں میری محبت کو نہیں سمجھتی ہو 

بہت پیار کرتا ہوں تم سے 

وہ مجھے کہنے لگی میرا ہاتھ چھوڑو حمزہ 

سخت لہجے میں بولنے لگی 

میں نے ہاتھ چھوڑ دیا 

اس لڑکی نے گھر جا کر اپنی ماں  کو بتا دیا 

رات کو اس لڑکی کے بابا ہمارے گھر آ گئے 

میرے بابا سے سب کہہ دیا 

اور کہنے لگے اپنے پتر کی شادی کروا دو جوان ہو چکا ہے 

آج میری بیٹی کا ہاتھ پکڑا ہے کل کو کیا جانے کیا کر جائے 

بابا غصے سے چلا اٹھے بابا نے اس دن مجھے بہت مارا تھا 

اتنا مارا کے میرے پورے جسم پہ زخموں کے نشان بن گئے 

میں بابا سے کہنا چاہتا تھا بابا جان مجھے پڑھنا نہیں ہے مجھے شادی کرنی ہے 

لیکن کیسے کہتا بابا تو مجھے انجینیر بنانا چاہتے تھے 

خیر جوان تھا جذبات تھے کچھ ارمان تھے 

میں ہر دن ہوس  پرست ہوتا چلا گیا 

ہر لڑکی کو دیکھ کر نہ جانے کیا کیا سوچنے لگتا 

میں خود پہ قابو کرنا چاہتا تھا لیکن میرے لیئے ناممکن سا تھا 

میں نے ایک دن امی سے کہا ماں جی خالہ کی بیٹی کے ساتھ میرا نکاح کروا دیں لیکن امی کہنے لگی شرم نہیں آتی ایسی بکواس کرتے ہوئے تم۔کو 

شادی کرنی ہے 

آنے دو تمہارے ابا کو ذرا 

پہلے پڑھ لکھ لو اپنے  پیروں پہ کھڑے ہو جاو پھر کروا دیں گے شادی بھی جا پڑھ جا کر 

میں خود پہ قابو کی گرفت کھونے لگا 

ان دنوں میری دوستی ایک لڑکی سے ہو گئی 

یوں کہہ لیں ایک گندی عورت تھی میرے جوانی کے دن تھے 

میں اس کے ساتھ رات بھر فون پہ محبت بھری باتیں کرتا 

اس کے لیئے شاپنگ کرتا اسے گفٹ دیتا 

امی ابا  سے چھپ کر میں نے اپنی محبت کی الگ دنیا بسا لی ہوئی تھی 

میں اس کے ساتھ جسمانی تعلق بھی قائم کر چکا تھا 

میں کب چاہتا تھا ایسا گناہ کرنا لیکن میں بہت مجبور ہو چکا تھا 

22 سال کی عمر میں یہ سچ ہے کے انسان کو ہمسفر کی ضرورت ہوتی ہے اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا 

اس لڑکی کے ساتھ میں دو سال ریلیشن میں رہا 

اس کے بعد پھر میں نہ جانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ دوستی میں رہا میں خود بھی گناہ کرتا اور دوسروں کو بھی گناہ کا موقع دیتا 

میں گندی فلمیں وڈیوز دیکھتا 

میں  خود کو بہت کمزور محسوس کرنے لگا 

میں اس گناہ سے نکلنا چاہتا تھا لیکن کس شرط پہ 

امی ابو تو مجھے کامیاب انسان دیکھنا چاہتے تھے 

خیر میں انجینیر بن گیا 

میں نے ایک دن ابا سے کہا ابو جان آپ چاہتے تھے میں انجنیز بن جاوں میں بن گیا 

آپ میری شادی کروا دیں لیکن ابا مسکرا کر بولے شرم کر شرم تیرا بڑا بھائی ابھی تک کنوارا ہے تم کو شادی سکی زیادہ جلدی ہے 

یہ دیکھ مکان  گر رہے ہیں 

ٹوٹی ہوئی چھت  ہے 

کہاں رکھے گا بیوی کو شریک طعنے مار مار کر جان لے لیں گے 

اب پہلے کوئی اچھی سی نوکری کر لے اپنا الگ سے گھر بنا لے پھر شادی کر لینا آیا بڑا شادی کرنی ہے 

میں چپ ہو گیا میں کیسے بتاتا ابا کو میں کتنا مجبور ہو چکا ہوں 

میں کس  قدر گناہوں میں ڈوب چکا ہوں 

میں کس قدر بے بس ہو چکا ہوں 

میں نہ چاہتے ہوئے بھی گناہ کرنے لگا ہوں 

مجھے ہمسفر کی ضرورت ہے میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں 

لیکن امی ابو کو تو نیا  گھر اور رشتہ داروں کی باتوں کی فکر تھی 

خیر میں نوکری کے لیئے بھٹکنے لگا 

شہر مجھے ایک پرائیوٹ کمپنی میں جاب مل گئی 

میں شہر چل گیا 

نوکری کرنے لگا 

وقت گزرتا گیا میں شہر میں کوٹھے پہ جانے لگا 

جب دل مچلتا  ہوس  کے کتے کو کسی مجبور عورت سے بجا لیتا 

میں نہیں چاہتا تھا ایسا لیکن  مجھے ایک نشہ ہو چکا تھا گناہ کرنے کا 

میرے سب جذبات سب محبتیں سارے ارمان آہستہ آہستہ دھواں ہونے لگے 

میری ہر خواہش خاک ہونے لگی 

میں نفسیاتی سا ہونے لگا اکیلا پن اور ذمہ داریوں نے میرے مزاج کو جلا کر دیا 

میں روکھے سا مزاج کا ہو گیا 

دنیا داری سمجھنے لگا تھا 

وقت گزرنے لگا 10 سال گزر گئے میں 35 سال کا ہو چکا تھا 

گھر بن گیا مجھے نوکری بھی اچھی مل گئی 

میں اچھا خاصہ کمانے لگا 

میرے سر کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے 

میں گھر آیا ابا کہنے لگے تیرے لیئے ایک لڑکی دیکھی ہے 

بہت خوبصورت ہے پڑھی لکھی ہے بااخلاق ہے 

خوش رہو گے اس کے ساتھ 

سچ پوچھو تو اب میرا من بدل چکا تھا اب مجھے شادی جیسے نام سے نفرت سی ہو چکی تھی 

نہ چاہتے ہوئے رسم دنیا مجھے شادی کے بندھن میں باندھ دیا گیا 

میں ابا کی طرف دیکھ رہا تھا اب کیا فائدہ ابا جان 

اب میرے نہ وہ جذبات ہیں نہ وہ ارمان 

اب میں چاہ کر بھی اس سفر کو نبھاہ نہیں سکوں  گا 

پہلی رات تھی وہ لڑکی شہزادی سی دلہن بنی میرے سامنے بیٹھی ہوئی تھی 

لیکن مجھے بلکل بھی خوشی نہ تھی 

میں پاس جا کر بیٹھا وہ مجھ سے بہت سے خواب سجائے ہوئے تھی 

میں نے جسموں کا سفر 10 سال کیا تھا 

کبھی کسی لڑکی کو گرل فرینڈ بنا کر تو کبھی کسی کوٹھے کی رنڈی سے 

میں نے اپنی محبتیں اہنے جذبات اپنا احساس سب کچھ خاک میں ملا دیا تھا 

میں اس کو اگنور کرتے ہوئے کہنے لگا میں تھکا ہوا ہوں مجھے سونا ہے 

میں کروٹ بدل کر سو گیا 

وہ رات بھر جاگتی رہی 

مجھ سے باتیں کرنا چاہتی تھی مجھ سے محبت کرنا چاہتی تھی کچھ دل کی باتیں کچھ دھڑکن کے احساس 

لیکن  میری بلا سے 

دن گزرنے لگے 

اب گھر تو پکا تھا اے سی والا کمرہ تھا میرے پاس لاکھ روپے مہینہ کمانے والی نوکری بھی تھی لیکن میری ازدواجی زندگی ختم ہو چکی تھی 

میری بیوی میرا بہت خیال رکھتی میرے پاس انا چاہتی تھی لیکن  اس کی ادا مجھے فریب لگتی 

اس کے ہر کام سے میں نقص نکالتا 

وہ جیسے مجھے ایک بوجھ سی لگنے لگی 

وہ مجھ میں ایک اچھا ہمسفر تلاش کرنا چاہتی تھی 

وہ میرے دل سے محبت کو دھڑکتا دیکھنا چاہتی تھی 

وہ میرے سینے لگنا چاہتی تھی وہ میرا ہاتھ تھام کر جنت تک کا سفر کرنا چاہتی تھی 

لیکن میں اب ختم ہو چکا تھا ہر وقت میں الجھا الجھا سا رہتا تھا 

میری بیوی حوا میرے قریب آتی تو میں اسے کسی نہ کسی بہانے سے اسے دور کر دیتا 

وہ مجھ سے اہنا حق مانگتی محبت کہ بھیگ مانگتی مجھ سے 

لیکن میں بھی کیا کرتا آج سے دس سال پہلے جب میں امی ابو سے ایسے ہی بھیگ مانگتا رہا تو انھوں نے مجھے انجینیر بنانے اور اچھا گھر رشتے داروں کی باتوں کی وجہ سے تنہا چھوڑ دیا 

10 سال پہلے میں یہ سب احساس ایک ایک کر کے کھوتا رہا 

میں دن رات تڑپتا رہا 

میں چیختا چلاتا رہا آج جب وقت گزر گیا تو کیسے میں محبت بھرا سفر طے کروں اب 

کیسے میں وہی احساس وہی جذبات لے کر آوں 

میں اب نفسیاتی ہو چکا ہوں 

ہر بات مجھے اب فریب لگتی ہے ہر بات مجھے جھوٹ لگتی ہے 

بیوی کی محبت اس کا فکر کرنا اس کا پیار سے مجھے آواز دینا مجھے کھانے کا  پوچھنا ہر ادا مجھے فریب لگنے لگی 

میں کھڑوس سا انسان بن چکا تھا اب میں ختم ہو چکا تھا 

حوا کے ساتھ میں بات بات پہ جھگڑا کرنے لگا 

وہ جتنا نبھانا چاہتی تھی میں اسے اتنا ذلیل کرتا 

ایک رات وہ میرے پاس آئی میں سو رہا تھا 

میرے قدموں کو پکڑ لیا 

وہ جیسے تھک چکی تھی میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر رونے لگی 

حمزہ مجھ سے کیا گناہ ہوا ہے 

میں نے کیا غلطی کر دی ہے 

میں ایسا کیا کروں کے آپ کو پسند آ جاوں میں پڑھی لکھی ہوں میں نوجوان ہوں میں وفادار ہوں پاک دامن ہوں 

حمزہ میری جان بتاو نا کیا کمی ہے مجھ میں جو آپ مجھے اتنا درد دیتے ہیں شادی کو ایک سال گزر گیا ہے 

کبھی ایک بار بھی آپ نے محبت سے بات نہیں  کی 

حمزہ کیوں آپ میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں 

وہ اللہ کا واسطہ دینے لگی لیکن کمبخت مجھے اس کا رونا بھی فریب لگنے لگا 

میں چپ ہو گیا 

میں کیسے بتاتا مجھ میں اب ایسے کوئی جذبات باقی نہیں رہے 

میرا اگنور کرنا اسے اذیت دینے لگا 

چھوٹے چھوٹے جھگڑے ایک دن ہماری طلاق کی وجہ بن گئے 

میں نے حوا کو طلاق دے دی 

میرے ابا مجھے گالیاں دینے لگے میں بے حس انسان ہوں کسی کی بیٹی کی آہ  لگے گی 

میں بابا کہ آنکھوں  میں دیکھنے لگا بابا 

بس کر دیں اللہ کا واسطہ ہے 

سچ تو یہ ہے میرے اس حالات کے ذمہ دار صرف اور صرف آپ ہیں 

آپ بھی مرد ہیں آپ کو احساس ہونا چاہیے تھا محسوس کرنا چاہیئے تھا مجھے جب ہمسفر کی ضرورت تھی تب آپ نے مکان پکے کروانے میں لگا دیئے 

مجھے پیروں پہ کھڑا ہونے کا کہتے رہے 

اب میں کامیاب ہو چکا ہوں لیکن خود سے ہار گیا ہوں 

جب میرے سر کے بال سفید ہو گئے تب آپ کو میری شادی کا خیال آیا 

ابا آپ جانتے بھی ہیں  میں کتنے گناہوں  کا سفر نہ چاہتے ہوئے صرف آپ کی وجہ سے کر گزرا 

میرا گھر ٹوٹ گیا سب مجھے پاگل نفسیاتی کہنے لگے 

اپنے اندر یا اپنے ارد گرد دیکھو مجھ سا کوئی نہ کوئی ضرور ہو گا 

خدارا خدارا سب ماں باپ سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں 

اہنے بچوں کی شادی وقت پہ کروا دیں 

ورنہ گناہ بھی کیئے جائیں گے چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ریپ بھی ہوں گے



شادی کے بعد جھگڑے بھی ہوں گے گھر بھی اجڑیں گے کسی کی بے گناہ بیٹی کے دامن پہ طلاق کا داغ بھی لگے گا 

پیروں پہ کھڑا ہونا  گھر بنانا اچھی نوکری 

انجینیر ڈاکٹر سب کچھ وقت کے ساتھ ہوتا رہے گا اپنے  بچوں کی شادی میں تاخیر نہ کریں اللہ گواہ ہے مجھ سے مرد ہزاروں گناہوں سے بچ جائیں گے 

مںں آج ایک نفسیاتی مریض بن چکا ہوں کھڑوس پاگل بد اخلاق

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے