urdu kahani urdu kahaniyan sachi kahani in urdu fount intresting urdu story | اردو سچی کہانی یتیم کی زندگی

یتیم کی زندگی

میرا نام سلیم ہے میرے والد بہت بڑے زمیندار تھے ہماری زمینیں 2سو ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی تھیں اناج کی فراوانی مالو زر کی افراط اور زندگی کا ہر عیش و آرام ہمیں مئسر تھا والد کے انتقال کے بعد میں اپنے چچا کے گھر رہتا  

چچا جاور کے صاحبزادے کا نا ظہیر علی تھا وہ مجھ سے 2 سال بڑا تھا مگر قدو قامت کے لحاظ سے میرے سامنے مچھر تھا وہ ہمیشہ دھینگا مشتی کرتا رہتا تھا میں نے کئی بار اس کی پٹائی کی تھی لیکن اسے اپنی شکست کا احساس اس لئے نہیں ہوتا تھا کہ چچی جان انتقاما میری پٹائی کر دیتی تھیں ان کی بڑی صاحبزادی کا نام غزالہ تھا

 وہ مجھ سے تین سال بڑی تھیں اپنی ماں کی طرح مگرور اور بدمزاج تھی خدا نے حسن دیا تھا اور چھوٹی عمر میں نزاکت بھی دی تھی کبھی اس کے سر میں درد ہوتا تھا کبھی اس کے پیروں میں اور مجھے اس کی پاوں دبانے پڑتے تھے 

اگر انکار کرتا تو مجھے ڈانٹ ڈپٹ کر سمجھایا جاتا کہ میں چھوٹا بھائی ہوں اور بڑی بہن کی خدمت کرنا میرا فرض ہے اس لیے یہ بھی سمجھایا جاتا تھا کہ میں بڑا بھائی ہوں اور بہن کا کہنا ماننا بھی میرے فرائض میں شامل ہے ان دنوں وہ 15 برس کی تھی اور میں 18 برس کا تھا چچی اسے بھی سمجھاتی تھی کہ وہ میرے ساتھ نہ کھیلا کرے 

جبکہ وہ چھوٹی سی تھی تب سے میرے ساتھ کھیلتی آئی تھی مجھ سے اتنی مانوس ہو گئی تھی کہ اپنے ماں بین بھائی کے روکنے ٹوکنے پر بھی میرے پاس چلی آتی میری گردن میں باہیں ڈال کر مجھے بھائی جان کہتی تو میں اسے بے غرض اور پاکیزہ جزبے سے سرشار ہو کر اسے چومنے لگتا میری ایک بہن تھی میری دنیا تھی میری زندگی تھی

 انہی دنوں کی بات ہے چچا جان کاروبار کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھےغزالہ اور ظہیر اپنے ننہال میں تھے شاہینہ میرے بستر پر آکر لیٹ گئی چچی جان نے بھی اس رات بڑی فراغ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ شاہینہ میرے پاس سوئے گی وہ اجازت دے کر اپنے کمرے میں چلی گئی کمرے میں رات گئے تک شاہینہ کو پریوں اور شیادوں کی کہانیاں سناتا رہا

 وہ بچوں کی کہانیاں سنتے سنتے سو گئی نیند کی حالت میں وہ بہت معصؤم لگ رہی تھیمیں نے اس کی پیشانی کو محبت سے چومتے ہوئے سوچا کہ میری شاہینہ آرام دہ بستر پر سونے کی عادی ہے اور میں فرش پر سوتا ہوں وہ محض اس لئے سو گئی تھی کہ وہ ایک بھائی کا بستر تھا لیکن میں چاہتا تھاکی میری بہن ہمیشی بھولوں کی سیج پر سوئی 

میں وہاں سے اتھ کر چچی کے کمرے کی طرف جانے لگا تانکہ ان سے کہہ سکوں کہ وہ شاہینہ کو اٹھا کر اس کے بستر پر لے جائیں چچی کی خواب گاہ کا دروازہ اور کھڑکیاں بند تھیں میں نے بے دھڑک دروازے پر دستک دی 

چند لمہوں تک خاموی رہی پھر ان کی آواز سنائی دی کون ہے فرہاد کیا تم ہو جی ہاں شاہینہ سو گئی ہے اسے اٹھا کرلے جائیے اسے سونے دہ میں بعد میں آکر اسے لے جاؤں گی تم میری نیند خراب نہ کرو چچی آپ نیند میں رہیں گی اور وہ بے چاری فرش پر پڑی رہے گی گدھا کہیں کا ان کی غصے بھری آواز سنائی دی

جب دیکھو بحث کرنے پر تل جاتا ہے جا بھاگ جا نہیں تو جوتے لگاؤں گی میں بھی کچھ ضرورت سے زیادہ ہی ضدی ہوں میں کھڑا رہا اور دروازے کو گھورتا رہا اگر دروازہ کھلا ہوتا تو میں خود ہی شاہینہ کو اٹھا کر لے جاتا اور چچی کے پاس سلا دیتا مگر چچی ایسی بدمزاج تھیں کہ اٹھ کر دروازہ نہیں کھول رہی تھیں نہ جانے میں کتنی دیر تک اس دروازے کو گھورتا رہا  پھر مجھے دروازے کے پیچھے سے دھیمی دھیمی سی آواز سنائی دے رہی تھی وہ کسی مرد کی آواز تھی

 وہ کہہ رہا تھا کہ ڈارلنگ تم خوا مخواہ پریشان ہو رہی ہو وہ لڑکا چلا گیا ہے نہیں تم نہیں جانتے چچی کی سہمی ہوئی آواز سنائی دی مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے اس کی آنکھیں گھوررہی ہیں کتنی بار میں نے خواب میں اس کی آنکھیں دیکھیں ہیں وہ کسی انسان کا بچہ نہیں ہے شیطان کا بچہ ہے ۔میں نے اپنی آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھ دیے اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں بہت دیر سے دروازے کو چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھ ہوں

 اور خیالی نظروں سے چچی کے بند کمرے کی تاریکی میں بھٹک رہا ہوں اپنی نظروں سے پوچھ رہا ہوں کہ آپ دروازہ کیوں نہیں کھولتیں ۔وہ دروازہ ذرا سا کھل گیا ان کے کمرے میں واقعی تاریکی تھی کاریڈور کی روشنی میں مجھے صرف ان کا چہرہ اور شانے نظر آئے تو اس نےیہ کہہ کر اس نے دروازہ بند کر دیا کہ تم جاؤ میں آرہی ہوں میں سر جھکا کر کاریڈور سے چلتا ہوا اپنے کمرے کی طرف جانے لگا اس وقت میرے کچے ذہن میں یہ بات گھرکر رہی تھی کہ چچی کے کمرے میں کون شخص ہے 

اور کیوں ہے وہ واقعی سمجھ میں نہ آیا کہ کسی حد تک سمجھنے کی کو شش بھی کی دماغ پر دھند چھا گئی ۔کچھ سمجھنے اور نہ سمجھنےکے درمیان الجھ گیا ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ چچی کا گھبرانا کمرے کی تاریکی اور ایک اجنبی مرد کی آواز سب میں ایسی اسراریت تھی کہ میری عمر غیر محسوس طریقے سے جوانی کی طرف کروٹ بدلنے لگی 

تھوڑی دیر بعد چچی میرے کمرے میں آئیں انہوں نے غصے سے مجھے دیکھا پھر شاہینہ کو میرے بستر سے اٹھانےکے لیے جھک گئیں اسی وقت میں نے پوچھا آپ سے کوئی ملنے آیا ہے؟ وہ چونک کر مجھے دیکھنےلگیں زرہ دیر کے کیے ان پر گھبراہٹ طاری ہوئی پھر وہ سنبھل کر میری جانب بڑھتے ہوئی بولی اتنی رات کو کون ملنے آئے گا تیرا دماغ خھراب ہو گیا ہے میں نے آپ کے کمرے میں کسی کی آواز سنی تھی اس لیئے میں پوچھ رہا ہوں 

بات پوری ہونے سے پہلے ہی انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ جما دیا پھر میرا بازو پکڑ کر مجھے اپنےکمرے کی طرف لے جاتے ہوئے بولیں تو نے کس کی آواز سنی تھی وہ تیرا کوئی باپ ہو گا میرے سامنے کا چھوکرا اور مجھے اتنی بڑی بات کہہ رہا ہے میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گی چل بتا کون ہے میرے کمرے میں کون تیری ماں کا یار ہے جس کی آواز تو نے سنی ہے میں نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑا کر کہا خبردار میری ماں کا نام لیا تو ورنہ میں لحاظ نہیں کروں گا میں ڈٹ کر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا 

میرا وہ چیلنج ایسا تھا کہ وہ قدرے حیرانی سے مجھے سر سے پاوں تک دیکھنے لگیں میں بارہ برس کا تھا مگر قد میں ان کے برابر ہو گیا تھا شائد پہلی بار میرےاونچے قد کو حیرانی سے دیکھ رہی تھیں پھر وہ پیچھے ہٹ کر اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے بولیں لو دیکھو یہاں کوئی نہیں ہے تمہیں دھوکہ ہوا ہے تم نے کسی کی آواز نہیں سنی ہے 

میں نے سنی ہے میں پٹخ کر کمرے کے اندر چلا گیا اور چاروں طرف اس شخص کو تلاش کرنے لگا اتنی دیرمیں وہ واپس جا کر شاہینہ کو لے آئیں تھی اسےبستر پر سلاتے ہوئے بولی تھیں ابھی تسلی نہیں ہوئی ہے جاو یہاں سے دفع ہو جاو کمبخت اونٹ کیطرح لمبا ہو رہا ہے مارتی ہوں تو میرے ہی ہاتھ دکھنے لگتے ہیں اچھی  بات ہے تمہارے چچا کو آنے دو وہ ہی تمہاری خبر لیں گے میں لاپروائی سے اونہہ کہتے ہوئے اپنے کمرے میں آکر سو گیا  مگر مجھے فورا نیند نہیں آئی

 میں دیر تک اس شخص کے بارے میں سوچتا رہا جس کی آواز میں نے سنی تھی مگر وہ نظر نہیں آیا تھا شائد چچی نے اسے بھگا دیا تھا ےا کہیں چھپا دیا تھا میں ان کی مکاری کو نہ سمجھ سکا  رات کو دیر سے آنکھ لگی تھی اس لئیے صبح دیر تک سوتا ریا پھر چچا جان کی گرجدار آوازسن کر ہی میری آنکھ کھلی تو جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا 

وہ غصے سے پیج و تاب کھا رہے تھے نمک حرام جس تھالی مکیں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے کیا اسی دن کے لیے تیری پرورش کر رہا ہوں میں کچھ نہ سمجھتے ہوے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور سوالیہ نظروں سے تکنے لگا چچی ہوا میں ہاتھ نچاتے ہوئے بولی اپنے چچا کو دیکھ رہا ہے اسی دن کیلے میں شاہینہ کو تیرے پاس آنے سے روکتی تھی

 تم چپ رہو بیکم چچا جان نے کہا ہاں پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے کل رات تم نے شاہینہ کو تم نے پیار کیا تھا میں نے اثبات میں سر ہلاکر کہا جی ہاں یہ جواب سنتے ہی چچا جان نے ایک زور دار تماچہ میرے منہ پر رسید کیا میں اپنا توازن نہ سنبھال سکا بستر پر گر پڑا میں نہیں جانتا تھا  کہ چھوٹی بہن کو پیار کرنا جرم ہے 

کیسے مکار عورت نے بیچارے لڑکے کو اپنے شوہر سے پٹوا دیا تھا وہ جانتی تھی اگر رات والی بات اس کے منہ سے نکل گئی تو میری عزت خاک میں مل جائے گی اللہ بطوں کے باپ کا سائہ ان کے سر پر رکھے ورنہ ےتیم بچے زندگی بھر کیلئے ماں باپ کے پیار کو ترستے رہتے ہیں  



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے