waqat ajeeb parenda hia urdu kahani urdu story | moral stories in urdu | اردو سچی کہانی وقت عجیب پرندہ ہے

اردو سچی کہانی وقت عجیب پرندہ ہے

بات سنو کھانے میں گھی  کم ڈالا کرو 

پلیز شکورہ  خیال کیا کرو نا 

مجھے جاب مل نہیں رہی حالات بہت خراب ہیں 

تم بھی میری بات نہیں سنتی  ہو 

سلمان پاس بیٹھا سمجھا رہا تھا شکورہ  کو 

شکورہ غصے سے بولی دیکھو سلمان اب بھوکے تو ہم۔رہ نہیں سکتے 

گھی کم ڈالو نمک کم ڈالو روٹی کم کھاو 

کیا کیا پابندی لگاو گے تم ہم۔پہ سلمان 

اتنے ہی تنگ ہو تو اپنے بھائی اور ماں سے الگ ہو جاو نا 

سلمان دھیمے سے بولا شکورہ خدا کا واسطہ ہے تم۔کو آرام سے بولو ماں سن لے گی 

تو سننے دو میری زندگی جہنم بنا رکھی ہے تم۔لوگوں نے 

بھای کی پڑھائی کا خرچ بھی تم۔اٹھاتے ہو ماں کہ دوا کا خرچ بھی اور جب میں کچھ بولوں تو 

رونا شروع کر دیتی غریبی کا 

دیکھو سلمان میں پڑھی لکھی لڑکی ہوں 

میں یوں گھٹ گھٹ کر زندگی نہیں گزار سکتی 

فیصلہ تم۔کو کرنا ہے اب یا مجھے میری ماں کے گھر چھوڑ او 

یا پھر اپنے ماں اور بھائی سے الگ ہو جاو بس 

سلمان کھانا کھا رہا تھا کے کھانے کی پلیٹ سائیڈ پہ رکھی میں سارا دن کا تھکا ہارا آتا ہوں اور گھر آ کر تمہاری بکواس سننی پڑتی ہے 

سلمان کھانا چھوڑ کر چلا گیا 

اتنے میں سلمان کا چھوٹا بھائی ارمان آ گیا 

بھابھی کیا بنایا ہے آج کھانے میں 

شکورہ منہ بنا کر بولی دال بنائی ہے 

ارمان پاس بیٹھتے ہوئے بولا بھابھی جلدی سے کھانا دے دیں بھوک لگی ہوئی ہے 

شکورہ نفرت بھرے لہجے میں بولی 

ہاں ہاں  کیوں نہیں  نوکرانی جو ہوں تمہاری 

جس کو بولو مجھے آرڈر دے رہا ہے 

جاو خود ڈال کر کھا لو 

ارمان مسکرانے لگا بھابھی آپ ناراض کیوں ہوتی ہیں 

میں ڈال کر کھا لیتا ہوں نا خود ہی 

شکورہ غصے سے اٹھی اور کمرے میں چلی گئی اپنی ماں کو فون کیا ماما بہت تنگ ہوں یہاں میں 

کبھی سلمان کی باتیں سنو کبھی وہ بات بات پہ ٹوک دیتا ہے یہ کھاو یہ نہ کھاو 

اور اس کی بڈھی ماں نہ مرتی نہ جان چھوڑتی ہے 

ماں نے سمجھایا سلمان سے بات کرنی تھی نا 

کی تھی سلمان سے بات ماما وہ میری بات ماننے کو تیار ہی نہیں  ہیں 

شکورہ چاہتی تھی سلمان الگ سے گھر لے اور الگ ہم الگ رہیں 

ساس کچھ کہتی تو آگے سے بدتمیزی سے جواب دیتی 

ساس دل کی مریضہ تھی وہ شکورہ کو سمجھاتی 

دیکھو شکورہ چاہے تو تماشہ میں بھی لگا لوں لیکن 

لوگوں خو تماشہ دکھانا نہیں چاہتی میں 


میری نہ جانے کتنے دن زندگی ہے اب 

یہ گھر تمہارا ہے کیوں اتنی تنگ ہو ہم سے 

شکورہ غصے سے بولی 

یہ گھر نہیں ہے قید خانہ ہے نہ کھانے کو اچھا ملتا نہ پہننے کو 

سارا پیسہ میرے شوہر کا تم اور تمہارا چھوٹا بیٹا ارمان کھا جاتے ہیں 

اتنے میں ارمان گھر آ گیا 

دیکھا بھابھی ماں سے لڑائی کر رہی 

ارمان مسکرانے لگا ارے بھابھی کیوں

  جھگڑا کرتی ہو 

کیا ہو جاتا آپ کو 

شکورہ غصے سے بولی دیکھ بھائی مجھ سے تمہارے کپڑے نہیں دھوئے جاتے سمجھے 

اپنے کپڑے خود دھویا کرو 

سمجھے ارمان پیار سے بولا بس اتنی سی بات ہے بھابھی میں دھو لیا کروں گا آپ بس غصہ ختم کریں 

ماں رونے لگی میرا بیٹا کیوں خود کپڑے دھوئے گا میں مر گئی ہوں کیا میں بیمار ہوں تو کیا ہوا اپنے بیٹے کو کھانا بنا کر دے سکتی ہوں کپڑے دھو کر دے سکتی ہوں 

سلمان ماں کے پاس جا کر بیٹھ گیا ارے ماں بھابھی کی باتوں کا غصہ نہ کیا کرو 

بھابھی نئی نئی ہے نہ ہمارے ساتھ 

یہاں ہمارے ماحول میں ڈھلنے میں وقت لگے گا اور ویسے بھی میں بھابھی کی ذمہ داری نہیں ہوں نا 

بھابھی صرف بھائی سلمان اہنے شوہر کا کام کرے بس 

ماں نے سمجھایا بیٹا ارمان تم بھی جلدی سے کوئی اچھی سی نوکری کر لو تمہاری بھی میں  جیتے جی شادی کروا دوں کل کا کیا پتا میری زندگی کا

شکورہ رات کو پھر سلمان اپنے شوہر کے ساتھ جھگڑا رہی تھی مجھے شاپنگ کروانے لے کر چلو 

سلمان سمجھا رہا تھا ارے کچھ دن انتظار کر لو میری جان کنفرم ہو رہی ہے پھر جو کہو گی لا دوں گا 

سلمان سب سے پہلے ہم۔تمہاری ماں اور بھائی سے الگ ہوں گے 

سلمان مجبور تھا کرتا تو کیا کرتا 

شکورہ سے پیار بھی بہت کرتا تھا شکورہ شادی سے پہلے ایک پرائیوٹ بنک میں جاب کرتی تھی لیکن سلمان کے کہنے پہ جاب چھوڑی تھی 

کچھ دن گزرے سلمان کی جاب لگ گئی تنخواہ بھی کافی اچھی تھی 

شکورہ بہت خوش تھی 

شکورہ کے اصرار پہ سلمان نے ماں سے بات کی ماں شکورہ الگ رہنا چاہتی ہے

جس کپمنی نے مجھے جاب دی ہے وہ مجھ گھر  بھی دے رہی ہے آپ لوگوں کو میں ہر مہینے خرچہ دیتا رہوں گا ارمان بھی پاس بیٹھا ہوا تھا 

ماں کچھ کہنے لگی لیکن  ارمان مسکراتے ہوئے بولا 

ارے بھائی جان کوئی بات نہیں بھابھی اپنے ماں باپ کے گھر لاڈلی سی ہوگی ہمارے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی نا 

آپ بھابھی کو لے جائیں ہم۔کوئی کوئی اعتراض نہیں ہے 

آپ چلے جائیں 

سلمان ارمان سے ہاتھ ملا کر بولا تم۔دھیان سے پڑھنا 

میں تم۔کو ہر می نے پسیےدے دیا کروں گا 

دوسرے دن سلمان شکورہ کے ساتھ اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو گئے 

ماں بہت روئی تھی کیسی ظالم ۔لڑکی ہے میرے بیٹے کو مجھ سے دور کر دیا 

ارمان ماں کو سمجھانے لگا امی جان آپ پریشان نہ ہوں 

بھابھی پرائے گھر سے آئی ہے بھائی سمجھا کر لے آئیں گے کچھ دن تک 

سلمان کی تنخواہ کافی اچھی تھی شکورہ بہت خوش تھی 

شکورہ اب زیادہ تر کھانا باہر سے منگواتی تھی 

فریج میں آئس کریم اور طرح طرح کی چاکلیٹ اور کچھ ٹھنڈے پڑے ہوئے رہتے 

ہر دوسرے دن کبھی شکورہ کا بھائی آجاتا بچوں کو لیکر کر تو کبھی بہنیں آ جاتی رہنے 

شکورہ اپنے گھر میں بہت خوش تھی 

ادھر ارمان کالج جاتا کالج سے واپس آتا دیکھتا ماں کھانا بنا رہی بیمار ماں دل کی مریضہ 

ماں کو سمجھاتا امی جان کتنی بار کہا ہے آپ نہ بنایا کریں کھانا میں خود بنا لیا کروں گا 

ماں مسکراتی لے بھلا تم۔کھانا کیوں بناوگے ماں زندہ ہے نا ابھی 

ماں کی حالت کچھ خراب ہو گئی رات کو 

ارمان بڑے بھائی سلمان کو فون کرتا رہا سلمان سویا ہوا تھا 

شکورہ نے موبائل دیکھا 

گالی دے کر بولی اس منحوس کو کیا موت پڑ گئی جو اس وقت فون کر رہا ہے 

موبائل آف کر کے سائیڈ پہ رکھ دیا اور سو گئی

ارمان خود پھر اپنے ایک دوست کی مدد سے ماں کو ہسپتال لے گیا 

ماں کو دل کا دورہ پڑا تھا 

ڈاکٹرز ارمان سے کہہ رہے تھے آپ کو کتنی بار کہا ہے خوشگوار ماحول میں رکھا کریں اپنی ماں کو یہ کچھ ٹینشن لیتی ہیں اسلئے یہ حالت ہوئی ہے 

اب ارمان کیا بتاتا ماں کو کون سا درد کھائے جا رہے ہے 

دوسرے سلمان کو پتا چلا ماں ہسپتال میں ہے دل کا دورہ پڑا ہے 

جلدی سے ہسپتال پہنچا 

ارمان سے جھگڑنے لگا مجھے بتایا کیوں نہیں ماں کی حالت خراب ہے 

ارمان پیار سے کہنے لگا بھائی جان میں نے کال کی تھی لیکن آپ نے کال اٹینڈ نہیں کی تھی پھر نمبر بند آ رہا تھا آپ کا 

سلمان ماں کے پاس آیا ماں آپ کیوں اپنا خیال رکھتی ماں پیار سے بولی ارے میں بلکل ٹھیک ہو میرے بچے 

ارمان ایک گلاس میں جوس ڈال کر ماں کو دینے لگا 

ماں پیار سے بولی ارمان بیٹا اپنے بھائی کو ایک گلاس جوس دو دیکھو کیا حالت بنائی ہوئی ہے  کتنا کمزور ہو گیا ہے 

ہائے ماں آخر ماں ہوتی ہے نا لیکن کون سمجھے 

سلمان پھر گھر چلا گیا شکورہ ماں کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے

کچھ دن ماں کو یہاں لے آتے ہیں 

شکورہ سر پہ ہاتھ رکھ کر بولی سلمان میں اپنی ماں کے گھر جا رہی ہوں کل آپ اپنی ماں کو لے آئیں یہاں 

سلمان خاموش ہو گیا 

ارمان ماں کے علاج کے پیسوں کی خاطر پارٹ ٹائم جاب کرنے لگا 

اپنے اور ماں کے کپڑے خود دھوتا کھانا بناتا 

برتن واش جھاڑو پونچھا سب کچھ کرتا 

لیکن بھائی اور بھائی پہ اب بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا 

آج ارمان نے بہت ہاڑد کام کیا تھا ہاتھوں پہ چھالے پڑ  گئے تھے 

رات کو گھر آیا ماں کو دبا رہا تھا کے ماں نے محسوس کیا آج ارمان زور سے نہیں دبا رہا 

ماں نے پوچھا پتر ٹھیک تو ہو نا ارمان مسکرانے لگا ہاں امی جان بلکل ٹھیک ہوں 

ماں سمجھ گئی تھی تھک گیا ہے ارمان 

کہنے لگی جا بیٹا سو جاو جا کر 

ارمان چارپائی پہ لیتا سو گیا 

جب ارمان سو گیا ماں اٹھی دیکھا ہاتھوں پہ زخم تھے ارمان کے 

ماں ہاتھ چوم کر رونے لگی ہائے میرے وخطوں کے مارے پتر 

ماں صدقے جائے 

اللہ تیری سب مشکلات آسان کرے 

ماں کو بیٹے کا اتنا دکھ لگا کے وہ درد برداشت نہ کر پائی اور دل کا دورہ پڑنے سے چل بسی 

ارمان صبح اٹھا ماں اوندھے منہ زمیں پہ پڑی تھی 

بہت آوازیں دیں ماں کو لیکن اب ماں کہاں واپس آنے والی تھی 

ماں کے جانے بعد ارمان بہت اکیلا ہو گیا تھا 

ادھر سلمان نے شکورہ کو کہا ارمان بیچارہ اکیلا رہتا ہے گھر میں اسے ساتھ رکھ لیتے ہیں 

پہلے شکورہ نے منع کر دیا 

پھر سلمان کی ضد پہ شکورہ مان گئی 

ارمان کا ہاتھ پکڑ کر بڑا بھائی اہنے ساتھ اپنے گھر لے گیا 

ارمان جانا نہیں  چاہتا تھا بھائی جب ماں کو ساتھ نہیں رکھا تھا تو میں کیوں رہوں 

سلمان نے ماں کا واسطہ دیا ارمان مان گیا ساتھ چلا گیابھابھی سے سلام کیا لیکن بھابھی نے سیدھے منہ بات تک نہ کی 

بھابھی کھانا بناتی لیکن ارمان کھانا باہر سے کھاتا سلمان نے سمجھایا ارمان ایسا نہ کرو 

ارمان مسکرایا بھائی میں بھابھی کی ذمہ داری نہیں ہوں 

شکورہ تو خوش تھی بھاڑ میں جائے نہیں کھاتا تو اچھا ہے 

ارمان کپڑے دھو رہا تھا شکورہ کی بہن آ گئی ارمان کو دیکھ کر مسکرانے لگی بھائی آپ کپڑے خود دھو رہے ہیں 

ارمان بھی مسکرا کر بولا اہنے کام خود کرنے چاہیئے 

شکورہ نے بہن  کو آواز دی آ جا چھوٹی کس مفت خورے کے منہ لگ رہی ہو 

ارمان چپ رہا بھابھی نے باہر سے کھانا منگوایا دل انجوائے کرنے لگے

ارمان دیکھتا بہت اداس ہوتا بھائی بیچارہ کتنی مشکل سے کماتا ہے اور بھابھی اپنے میکے والوں اور اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر عیاشی کرتی ہے 

ارمان نے بھابھی خو سمجھانا چاہا 

بھابھی ایک بات کہوں سلمان بھائی کو میں نے بابا کہ طرح دیکھا یے 

وہ بہت دکھ دیکھ چکے ہیں بہت برا وقت جھیلا ہوا ہے ہم نے بابا کے جانے کے بعد 

بھائی مشکل سے کماتے ہیں اور آپ یوں عیاشی کرتی ہیں 

شکورہ کو  ڈر تھا کہیں ارمان سلمان کو  نہ بتا دے کے میں چھپ کر اپنے بھائیوں کو  پیسے دیتی ہوں 

یوں فضول خرچی کرتی ہوں 

سلمان رات کو  گھر  آیا 

شکورہ رو رہی تھی سلمان مجھے یہاں نہیں رہنا 

سلمان ڈر گیا کیا ہو گیا میری جان اب 

شکورہ روتے ہوئے بولی آپ کا بھائی 

سلمان حیرت سے  ہاں کیا میرا بھائی 

وہ آج میرے چھوٹی بہن جب نہا رہی تھی آپ کا بھی چھپ کر دیکھ رہا تھا 

میں نے دیکھ لیا اسے وہ تو میری طرف بھی عجیب نظر سے دیکھتا یے 

سلمان گالی دے کر بولا بکواس نہ کرو شکورہ 

شکورہ روتے ہوئے بولی اگر میرے بھائیوں کو یہ پتہ چلا تو برا ہو گا 

سلمان میں جھوٹ نہی  بول رہی 

سلمان شکورہ کے آنسو دیکھ کر سمجھ گیا سچ بول رہی ہے شکورہ 

ارمان واپس آیا گھر تو سلمان نے ارمان کے منہ پہ تھپڑ مارا 

کتے انسان بے غیرت 

دفعہ ہو جا میرے گھر سے اپنی بھابھی پہ غلط نگاہ رکھتا ہے 

ارمان سمجھ گیا تھا بھابھی جیت گئی ہے 

ارمان بھائی کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا بھائی جس ماں کا دودھ آپ نے پیا ہے اسی کا میں نے بھی پیا  ہے کیا آپ کو لگتا ہے ہماری ماں کی تربیت ایسی ہو سکتی ہے 

سلمان نے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا 

ارمان روتے ہوئے واپس اپنے پرانے گھر آ گیا 

ارمان بہت برے دن گزارنے لگا ادھر بھابھی اور بھائی اپنی زندگی میں عیاشی کرنے لگے تھے 

ارمان بہت روتا تھا پھر ایک دن دوست نے بتایا یار پولیس می  سب انسپکٹر کی بھرتیاں آئی ہیں تم بھی قسمت آزما لو 

ارمان بولا یار اس ملک میں رشوت اور شفارش کے بنا کچھ نہیں ہوتا اور میرے پاس دونوں نہیں ہیں 

دوست نے زبردستی فارم فل کروا کے جمع کروا دیا 

اور پھر ایک دن ارمان کو فون آیا آپ کو سب انسپکٹر کے لیئے سلیکٹ کر لیا گیا ہے 

ارمان کو یقین نہیں ہو رہا تھا 

ادھر بڑے بھائی کو اللہ نےدوسری بیٹی عطا کی تھی 

ارمان بھائی کو  بتانا چاہتا تھا اپنی کامیابی کے بارے لیکن خاموش رہا 6 ماہ کی ٹرینگ کے لیئے چلا گیا 

بھای کو کچھ نہ بتایا گھر  کو تالا لگایا چلا گیا 

پھر قمست نے رنگ بدلا اللہ کی لکھی تقدیر نے کھیل کھیلا وقت کی آندھی  چلی 

شکورہ سلمان سے کہہ رہی تھی اب بائیک بیچ کر ایک کسر لے لیں پلیز صبح سلمان گھر سے نکلا کے سلمان شکورہ کا شوہر ایک روڈ حادثہ میں فوت ہو گیا 

کپمنی نے چند روپے دے کر گھر جو دیا ہوا تھا واپس لے لیا 

شکورہ رو رو کر پاگل ہونے لگی تھی 

دو چھوٹی بچیوں کی ذمہ داری آ گئی تھی پل بھر میں زندگی کیسے بدل جاتی ہے 

شکورہ اپنی ماں کے گھر آگئی مہینے  گزرے تھے کے 

شکورہ کی بھابیاں  طعنے دینے لگی تھیں 

شکورہ کوئی نوکری دھندہ کر ہم لوگ تمہارا خرچ برداشت نہیں کر سکتے شکورہ چھپ چھپ کر بہت روتی تھی 

بھائی بھی منہ موڑنے لگے تھے 

بھابیاں بات بات پہ طعنے دیتی تھیں محتاجی کی زندگی 

کیا ہوتی ہے شکورہ سمجھ رہی تھی 

شکورہ کو ارمان اور ساس کے ساتھ کیا ہوا برا  سلوک یاد آنے لگا شکورہ بہت روتی تھی اے اللہ مجھے معاف کر دے مجھ سے گناہ ہو گیا بیچارے ارمان پہ کیا الزام لگایا تھا 

بھائی نے جان چھڑانے کے لیے ایک 50 سال کا بڈھا دیکھا اور کہا شکورہ اس سے شادی کرو اور اپنا گھر بساو  

شکورہ بہت رو رہی تھی 

بھائی جب سلمان زندہ تھا آپ دوڑ  دوڑ کر میرے گھر آتے تھے اور اب میرے برے  دن آئے کے آپ رنگ بدل گئے 

ارمان پولیس آفیسر بن کر لوٹ آیا تھا بھائی کی موت کا پتا چلا بہت رویا 

بھائی کی بیٹیوں کو  ملنے آیا شکورہ نے ارمان کو دیکھا 

دوڑتے ہوئے ارمان کے گلے لگ کر رونے لگی ارمان نے چپ کروایا بھتجیوں  کو  سینے سے لگایا 

ارمان پیار سے سمجھانے لگا آپ کو کچھ بھی چاہیے بلا جھجک مانگ لینا 

کچھ دن گزرے آج شکورہ کا نکاح تھا اس بوڑھے سے 

نکاح ہونے والا تھا شکورہ رو رہی تھی 

کے ارمان آ گیا ارمان نے کہا میں اپنی بھائی کی بیٹیوں کے کسی کے حوالے نہی  کروں  گا 

ایک شخص بولا بیٹیاں تو ماں کے ساتھ ہی رہیں  گی

شکورہ کی ماں بولی شکورہ ابھی  جوان ہے 

شادی کروانی ہے نا اس کی کب تک محتاج رہے گئ کسی کی 

ارمان نے شکورہ کی طرف دیکھا 

پھر بیٹیوں کی طرف دیکھا 

شکورہ کے نزدیک ہو کر بولا آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں آپ سے نکاح کر کر بیٹیوں کو اور آپ کو اپنے گھر  ہی رکھنا چاہتا ہوں سب شکورہ کی طرف دیکھنے لگے 

شکورہ نے ہاں میں سر ہلا دیا 

ارمان نے سر پی دوپٹہ دے کر شکورہ کو اپنی عزت بنا لیا 

وہ بوڑھا جو بارات لیکر آیا تھا وہ ارمان کو دھمکی دینے لگا 

ارمان مسکرا کر بولا سب انسپکٹر ارمان کو سوچ سمجھ کر کچھ بولنا 

شکورہ رو رہی تھی اس نے کیا سلوک کیا تھا اور ارمان نے زندگی دے دی

شکورہ اب پانچ وقت نماز ادا کرتی ہے اللہ سے معافی مانگتی ہے کے اے اللہ وقت کبھی بھی کسی بھی طرف کروٹ بدل سکتا ہے 

مجھے کسی کا محتاج نہ کرنا



Post a Comment

0 Comments