ye nibah hia zindgi urdu sachi kahani urdu story urdu kahani | اردو سچی کہانی یہ نبھاہ ہے زندگی

اردو سچی کہانی یہ نبھاہ ہے زندگی

مجھے فارحہ سے ہی شادی کرنی ہے 

ارباز اپنی ماں کے ساتھ جھگڑا رہا تھا 

فارحہ کے علاوہ کسی سے بھی شادی نہیں کروں گا  

ماں غصے میں بولی ارباز چیخ و چلاو شادی تو وہیں  ہو گی یہاں میں چاہوں گی 

فارحہ ارباز کے ماموں کی بیٹی تھی 

خوبصورت تھی ماڈرن بھی تھی لیکن ماں کو پسند نہیں تھی 

فارحہ اور ارباز ایک دوسرے کو چاہتے بھی تھے لیکن ضد ماں کی تھی  ماں نہ جانے کیوں فارحہ کے لیئے راضی نہ ہوتی تھی 

ارباز بنک میں جاب کرتا تھا 

اس ماہ اس نے گھر تنخواہ نہ دی باپ نے پوچھا 

ارباز بیٹا کیا تنخواہ نہیں ملی اس ماہ 

ارباز بابا کی طرف دیکھتے ہوئے  بولا 

جب میری اس گھر میں کسی نے سننی ہی نہیں  تو تنخواہ نہیں ملنی 

اصل میں اونچی آواز میں ماں کو سنا رہا تھا 

ماں غصے سے بولی رکھ لو پیسے ہم۔کو نہیں چاہیئے تنخواہ 

جب تم نہیں کماتے تھے ہم۔کوئی بھوکے تو نہیں سوتے تھے 

ارباز نے بابا سے بھی کہا بابا جان آپ کہو نا ماما سے 

فارحہ کے لیئے مان جائیں  

بابا چاول والی تھالی نیچے رکھ کر بولے او بھائی 

مجھے معاف کر کیوں مجھے مروانا چاہتا ہے ماں سے اپنی 

میں تو پہلے ہی شوگر کر مریض ہوں 

ارباز بابا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا 

بابا حد ہوتی ہے ویسے ڈرنے کی بھی 

فارحہ بہت خوبصورت تھی باتیں کرنے میں تیز 

اور پھر ارباز کو محبت کا دکھ مل ہی گیا 

فارحہ کی شادی کسی اور سے ہو گئی 

ارباز تو کچھ دن خاموش رہا کسی سے کوئی بات نہ کی 

گھر آتا اپنے کمرے میں جا کر سو جاتا 

ماں سمجھتی تھی کس بات کا غصہ ہے ارباز کو 

باپ کمرے میں گیا ارباز بیٹا یار ناراضگی ماں سے ہے باپ سے تو بات کر لیا کرو 

چھوٹی بہن بھی آگئی بھای یہ کیا بدتمیزی یے 

کیا ہم سب سے بڑھ کر آپ کو فارحہ ہے 

جو وہ نہ ملی تو ہم کو چھوڑ دیا 

بہن پاس بیٹھ گئی ہاتھ میں کھانے کہ پلیٹ پکڑی ہوئی تھی 

ارباز نے بہن کی طرف دیکھا 

چھوٹی مجھے کسی سے بات نہیں  کرنی 

بہن نے بریانی بنائی تھی جو ارباز کی فیورٹ تھی 

ثمر بھرا ارباز کے منہ کے پاس کیا بھائی منہ کھولو 

ارباز نے منہ پھیر لیا 

بہن نے ارباز کی طرف دیکھا میری قسم ہے بھائی اگر آپ نے کھانا نہ کھایا تو آج ۔۔۔۔۔۔۔

ارباز بہن سے بہت پیار کرتا تھا 

پلیٹ ہاتھ سے پکڑی ایموشنل بلیک میل کرتے ہو مجھے 

میری فارحہ کسی اور کو دے دی 

بہن مسکرانے لگی اللہ پہ یقین رکھو اس نے تمہارے لیئے کہیں کوئی فارحہ سے بھی پیاری اور بہتر بنا رکھی ہو گی 

پھر دن گزرنے لگے 

ارباز آفس سے لوٹا تو بہن ارباز کو دیکھ کر مسکرانے لگی 

باپ ہال میں بیٹھا رش گلے کا ڈبہ سامنے رکھا ہوا چائے کے ساتھ کھا رہا تھا 

باپ کے پاس بیٹھ گیا 

خیر تو ہے نا بابا آج بڑے رس گلے کھائے جا رہے ہیں 

باپ نے ہلکی سی مسکراہٹ سے جواب دیا پتر اب پتا چکے گا 

تم کو بھی بیوی ہوتی کیا بلا ہے 

مجھے کہتے ہو با ڈرپوک تمہارے امتحان کا وقت ہے اب 

ارباز چونک کر بولا بابا  میں سمجھا نہیں 

بابا نے کچن کی طرف  اشارہ کیا بھئی وہ وزیر اطلاعات تمہاری ماں اس سے پوچھ مجھے بس رس گلے مل گئے میں کھا رہا باقی مجھے کچھ پتا نہیں

رس گلا اٹھا کر منہ میں ہی ڈالا تھا کے ماں کچن  سے بولی آ گیا میرا شہزادہ پتر 

تمہارے لیئے لڑکی پسند کر لی ہے میں نے 

یہ سنتے ہی کھانسنے  لگا ارباز 

باپ مسکرا کر بولا کھاو کھاو اور رس گلے 

ماما مجھے پوچھے بنا لڑکی پسند کر لی یہ کیا بات ہے 

ماں نے گونج دار آواز میں کہا بات کچھ بھی ہو بس میں نے پسند کر لی ہے 

دین  اسلام جانتی ہے سکول کا بھی b.a کیا ہوا ہے 

شکل صورت بھی پیاری ہے 

سب سے بڑھ کر سمجھدار اور بااخلاق ہے 

ارباز رس گلے کا ڈبہ بابا کے سامنے سے اٹھا کر بولا زہر میری زندگی میں گھلے گا تو رس گلے آپ بھی نہیں کھائیں گے 

باپ ارباز کی طرف دیکھنے لگا یار اپنی ماں سے جھگڑا کیا کر مجھے تم۔دونوں کے معاملے میں نہیں آنا 

دیوار پہ لگی دادا جان کہ تصویر کو دیکھ کر بولا دادا جی اچھا ہوا آپ جلدی دنیا سے چلے گئے 

ورنہ ایسا بیٹا جو بیوی سے اتنا ڈرتا ہو 

اس کو دیکھ کر آپ ویسے ہی شرم سے مر جاتے 

باپ ارباز کی طرف دیکھنے لگا کیا مطلب تمہارا 

ارباز بابا کی طرف دیکھ کر بولا یار بابا مجھے نہیں کرنی شادی اس لڑکی سے

ماما سے بات کرو آپ تھوڑی سی تو ہمت دکھا دو 

باپ غصے میں آگیا اچھا یہ بات ہے لے فیر جا ایک مرد کی زبان ہے نہیں ہو گئ شادی تمہاری اس لڑکی سے 

ارباز بابا کی آنکھوں میں دیکھنے لگا واہ بابا واہ شاباش جائیں اب کریں ماما سے بات 

باپ جوتا پہنا کچن میں گیا 

ارباز کی ماما سے کہنے لگا بات سنو 

ماما نے مڑ کر دیکھا جی کہیں خیریت ہے نا 

وہ بات یہ ہے کے بیچارہ ارباز 

ماما نے اونچی آواز میں کہا ہاں کیا ارباز 

وہ ارباز کہہ رہا بابا آپ شادی پہ پینٹ شرٹ پہننا 

ماما مسکرانے لگی عمر دیکھو اور شوق دیکھو 

اب وہ دو ہانڈیاں پڑی ہوئی ہیں نا مجھے دھو کر دو 

جلدی سے ہاتھ میں دیگچی  پکڑی بابا دھونے لگے 

ارباز نے سوچا کافی ٹائم ہو گیا لگتا بابا نے بات کر لی ہو گی 

کچن میں گیا دیکھا ماں کھانا بنا رہی بابا ہاتھ میں دیگچی پکڑے دھو رہے تھے

بابا نے ارباز کی طرف دیکھا منہ پھیر کیا 

ارباز پاس جا کر بولا بابا تھوڑی سی تو عزت رکھ لیں 

ماں نے پوچھا بیٹا ارباز لڑکی دیکھ لی نا 

ارباز بات بدل کر بولا بابا رگڑ گھر کر دھوئیں دیںگچی  کو 

یہ کہہ کر ہال۔میں جا کر بیٹھ گیا 

نہ چاہتے ہوئے ماں نے زبردستی شادی کروا دی ارباز کی 

وہ لڑکی فارحہ کے جیسے بہت خوبصورت تو نہیں  تھی لیکن پیاری تھی گندمی سا رنگ جھیل سی آنکھیں 

شرم و حیا والی تھی  

دلہا بنا ہوا تھا ماما کی طرف دیکھ رہا تھا 

ایک بات بتا دوں دیکھنا طلاق دے کر بھگا دوں گا دو مہینے میں ہی آپ ضدی ہیں تو میں بھی آپ کا ہی بیٹا ہوں ماں نے غصے سے دیکھا شرم کرو بکواس کرتے ہوئے حیا نہیں آتی کیس بات کر رہے ہو 

بیچاری اتنی اچھی اتنی معصوم سی ہے 

میں نے لو میرج کرنی ہے اگر اسے طلاق نہ بھی دی تو ایک اور کروں گا وعدہ رہا 

ارباز بے بسی میں غصے میں کچھ بھی بول رہا تھا 

پھر بابا کی طرف دیکھنے لگا ایک یہ دیکھو فری میں میرا ابا لگا ہوا ہے 

نکاح کا وقت ہوا 

ارباز اور  کنزہ نے ایک دوسرے کو قبول کر لیا 

نکاح ہو گیا رخصتی ہوئی 

کنزہ کا باپ فوت ہو چکا تھا ماں اور بھائی کے سائے میں  وداع ہوئی 

پہلی رات کنزہ بیڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی 

ارباز پاس جا کر بیٹھا گھونگٹ اٹھا یا 

ماشاللہ ہو تو پیاری لیکن کیا فائدہ تکیہ سیدھا کیا 

سو جاو کنزہ مجھے تم۔سے اب کوئی بات نہیں کرنی 

پہلی رات تھی کنزہ کیا کہتی ارباز سے 

ارباز موبائل پکڑا گیم۔کھیلنے لگا 

کنزہ کچھ دیر بیٹھی رہی 

پھر اٹھی ڈریس چینج کیا ارباز کے پاس آ کر بیٹھ گئی 

ارباز اگنور کیئے ہوئے گیم کھیلتا رہا 

کنزہ نے دھیمی سی آواز میں پوچھا آپ مجھ سے کیوں بات نہیں کر رہے 

ارباز نے کروٹ بدلی 

خاموشی سے موبائل رکھا اٹھا لائٹ بند کی سو گیا 

کسی لڑکی پہ یہ لمحہ پہلی رات اور ہمسفر کا ایسا رویہ 

بہت درد دیتا یے 

کنزہ بھی پاس لیٹ گئی 

آہستہ بولی میں پسند نہیں ہوں آپ کو 

میں جب چھوٹی تھی نا بابا کہا کرتے تھے بہت پیار کرنے والا خیال رکھنے والا کوئی شہزادہ ملے گا میری بیٹی کو 

مجھے بابا کے وہ الفاظ یاد ہیں 

آپ ہی میری دعاوں  میں مانگے گئے وہ شہزادے ہیں 

آپ بات کریں نا مجھ سے 

ارباز سو چکا تھا فجر کی اذان ہونے لگی 

کنزہ اٹھی وضو کیا نماز پڑھنے لگی ارباز سویا ہوا تھا 

نماز ادا کی آواز کے سر پہ ہاتھ رکھا 

اٹھ جائیں ارباز نے غصے سے دیکھا میں نہیں  اٹھنا سونے دو مجھے 

اتنے میں ماں کے دروازے ہ دستک دی 

ارباز اٹھ گیا 

ولیمہ رسم ادا ہوئی زندگی اپنے سفر پہ چلنے لگی 

کنزہ نے سارے کمرے میں چیزیں ترتیب سے رکھیں 

لیکن دانش تنگ کرنے کے لیئے سامان بکھیر دیتا 

کنزہ خاموش رہتی 

ایک دن جھاڑو لگا رہی تھی ارباز کاغذ پھاڑ پھاڑ کر پھینکنے لگا 

پھر کہتا صفائی بھی کرنا نہیں آتی اور ماما کہتی تھی بڑی سمجھدار کام۔والی ہے 

ماں دیکھ رہی تھی  ماں غصے سے بولی کیوں تنگ کر رہا ہے اسے شرم کر شرم 

اٹھا کمرے میں چلا گیا 

کنزہ کو آواز دی میرا سر دباو کنزہ پاس آئی 

ارباز کے پاس بیٹھ گئی سر دبانے لگی زور سے دباو نا 

کنزہ مسکرانے لگی مجھ میں اتنا ہی زور ہے 

ارباز غصے میں بولا چھوڑو جاو میرے کپڑے پریس کر دو 

وہ جان بوجھ کر ستاتا تھا 

کنزہ بھی کبھی کسی بات سے انکار نہ کرتی 

ڈنر کا وقت تھا آج کھانے سے خوشبو بہت پیاری  آ رہی تھی 

کھانا کھانے لگے واہ واہ کیا مزے کے شامی بنائے ہیں 

اور یہ بریانی کیا کمال کی ہے واہ 

ارباز تعریفیں کر رہا تھا 

کے بہن بولی بھائی یہ کھانا آج بھابھی نے بنایا ہے 

ارباز نے لہجہ بدل لیا 

اتنا گھٹیا  کھانا آج تک نہیں کھایا میں نے بہن مسکرانے لگی 

بھائی بس کریں بس 

ارباز کا بہت خیال رکھتی تھی کنزہ 

لیکن ارباز کبھی محبت بھرہ کوئی لفظ نہ کہتا اسے 

کنزہ جانتی تھی ارباز مجھے پسند نہیں کرتا 

لیکن وہ گھر بسانا چاہتی تھی 5 وقت کی نماز ادا کرتی گھر کے کام کاج سب خود کرتی ساس کو ماں بنا لیا 

کبھی تھکن یا غصے کی شکن ماتھے پہ نہ آئی 

میرے کپڑے دھونے والے پڑے ہوئے ہیں دو دن سے کہہ رہا ہوں کیوں نہیں دھو رہی تم 

کنزہ پیار سے بولی ارباز آپ کے دوسرے سب کپڑے دھلے ہوئے ہیں وہ پہن لو نا وہی ایک ڈریس ہی پہننا آپ نے 

ارباز غصے میں چلایا جو میں کہتا ہوں وہ کیا کرو بس 

سردی کی رات تھی دھند چھائی ہوئی تھی 

ارباز غصے میں بولا جاو ابھی دھو کر آو 

کنزہ دھیمے لہجے میں بولی ارباز صبح دھو دوں گی نا 

ارباز غصے میں تھا یا تنگ کر رہا تھا 

کنزہ اٹھی ٹھنڈے پانی سے کپڑے واش کیے 

سردی سے کانپ رہی تھی 

کمرے میں آئی ارباز سو چکا تھا 

ارباز نہ پیار سے بات کرتا تھا نہ کوئی محبت بھرے کوئی لفظ بولتا تھا 

نہ کوئی حقوق ادا کرتا 

بس روکھا سا لہجہ رکھتا کنزہ کے ساتھ 

کنزہ برداشت کرتی خاموش رہتی وہ جتنی بھی تھکی ہوتی نماز کی پابند تھی 

آنکھوں میں حیا اور صبر کا دامن تھامے رکھتی 

ارباز مجھے امی کے گھر جانا ہے کچھ دن رہنے کے لیئے 

ارباز نے منع کر دیا نہیں جانا اب کوئی ایک لفظ نہ بولنا سمجھی 

کنزہ کچھ کہنا چاہتی لیکن ارباز کہاں سننے والا تھا اسکی بات 

ارباز ہال میں بیٹھا تھا کے ماں پاس آئی ارباز بیٹا چھوڑ انا تھا نا کنزہ کو کچھ دن ماں کے پاس رہ لیتی 

ارباز کو بہت غصہ آیا جب میں نے منع کر دیا تو ماما سے کہنے کی کیا ضرورت تھی 

کمرے میں گیا کنزہ کپڑے پریس کر رہی تھی 

کنزہ کا ہاتھ پکڑا زور سے دبانے لگا تم۔کو سمجھ نہیں آتی ایک بار بات 

میں نے منع کیا تھا نا نہیں جانا تو ماما سے کہنے کی کیا ضرورت تھی 

کنزہ درد سے کراہتے ہوئے بولی ارباز درد ہو رہا ہے مجھے پلیز ہاتھ چھوڑ دیں 

ارباز نے غصے سے پاوں بیڈ کو مارا 

بیڈ کے کنارے پہ پاوں لگنے سے زخمی ہو گیاخون بہنے لگا 

کنزہ سہم گئی 

ارباز اتنا غصہ کیوں کرتے ہیں آپ 

میں تو کچھ غلط کیا بھی نہیں میں مانا کو نہیں بتایا وہ تو ۔۔۔۔۔پھر خاموش ہو گئی 

بولو کیا وہ تو بکواس کرو 

کنزہ خاموش ہو گئی اپنا دوپٹہ ارباز کے پاوں پہ رکھا یہاں سے خون بہہ رہا تھا 

ارباز غصے سے باہر چلا گیا مجھے تمہاری ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے 

کنزہ رونے لگی کافی دیر تک روتی رہی 

ارباز میرے یہ خواب نہیں تھے جو میرے ساتھ کررہے ہو 

کیوں کر رہے ہو ایسا مجھے تو میرا قصور بجی نہیں پتا 

پھر اٹھی کچن میں جا کر کھانا بنانے لگی 

ماں نے پوچھا بیٹی تم۔گئی نہیں خود سنبھالتے ہوئے مسکرانے لگی ماما دو ۔۔تین دن بعد جاوں گئ ارباز کہہ رہیں تھے تنخواہ مل جائے پھر چلی جانا 

ڈنر کرتے ہوئے ماما نے ارباز سے کہا بیٹا تم۔نے چھوڑ انا تھا نا کنزہ کو اس کی ماں کو دل کا دورہ پڑا ہے 

یہ سن کر ارباز شرمندہ سا ہونے لگا 

کتنا کچھ بول دیا کنزہ کو 

وہ ایک لفظ نہ بولی ڈنر کیا کمرے میں گئے تو کہنے لگا بیگ پیک کر لو کل چھوڑ آوں گا 

کنزہ مسکرانے لگی نہیں ارباز پھر کبھی چلی جاوں گی 

آپ باتیں درد تو نہیں ہو رہا پاوں پہ

ارباز سوچ رہا تھا یہ عورت کا دل بھی کتنا بڑا  ہوتا ہے 

محبت میں نبھاہ میں سب درد بھول کر رشتہ نبھانے میں ہر حد سے گزر جاتی ہے 

لیکن کیا کرتے وہ کسی اور لڑکی سے بھی پیار کرنے لگا تھا 

کنزہ کے سامنے بیٹھ کر باتیں کرتا اس لڑکی سے 

دل جلتا تو تھا کنزہ کا لیکن کیا کہتی اس سے 

جس نے کبھی محبت  سے بات کرنا تو دور ہاتھ تک نہ لگایا تھا اسے

اتنا بے عزت کرتا تھا بات بات کنزہ کے وہ رو پڑتی لیکن شکوہ نہ کرتی 

کنزہ پاس بیٹھی تھی اپنی گرل فرینڈ سے بات کر رہا تھا 

اچھا جان شادی پہ کیا پہنو گی پھر 

میں تم۔کو سرپرائز گفٹ دوں بس ہنس  ہنس کر باتیں کر رہا تھا گرل فرینڈ سے 

کنزہ دودھ سن رہی تھی غصہ تو بہت آ رہا تھا لیکن بے بس تھی 

بارش ہو رہی تھی بہت  تیز 

کنزہ باہر جانے لگی کنزہ کو بخار تھا ارباز نے منع کیا کنزہ باہر بہ جاو بخار ہے 

کنزہ پھر بھی جانے لگی آپ نے گرل فرینڈ سے باتیں کرنی ہیں ساری رات میں باہر سو جاوں گی 

کنزہ باہر جانے لگی دانش نے ہاتھ پکڑا کر دبایا 

سنتی نہیں ہو تم یہی لیٹ جاو باہر نہ جانا بارش میں 

بہت  تیز بخار تھا کنزہ کو لیکن ارباز کو کیا پرواہ تھی 

وہ تو دوسری شادی کے خواب دیکھ رہا تھا پھر ایک دن 

بات حد سے گزر گئی دانش اپنی گرل فرینڈ سے کہنے لگا 

میں اس پاگل عورت سے جان چھڑوا لوں بس پھر ہم۔شادی کر لیں گئ طلاق دے دینی میں اس کو 

کنزہ کا صبر ختم ہوا 

چیخ کر ارباز کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اس لڑکی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہنے لگی بہن میرا گھر نہ برباد کرو اللہ کا واسطہ ہے تم کو میں بہت درد سہہ رہی ہوں 

ارباز نے کنزہ کے منہ پہ تھپڑ مار دیا تم نے میرے ہاتھ سے موبائل کیوں چھینااتنی ہمت 

کنزہ قدموں میں گر گئی

ارباز کیوں کرتے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا 

کیوں مجھے درد دیتے ہیں آپ 

آپ سے کبھی شکوہ بھی نہیں کیا میں نے 

کبھی کچھ مانگا بھی نہیں پھر کیوں ارباز آپ کرتے ہیں ایسا 

ارباز میں آپ کو کسی اور کا نہیں ہونے دوں گی 

ارباز غصے سے چلایا 

کنزہ بس مجھے تم سے نہ چاہتے ہوئے بھی نفرت ہے 

کہا تھا ماں سے مجھے نہیں کرنی اس لڑکی سے شادی زبردستی کروا دی 

جاو بھاڑ میں تم 

ماں بھی شور سن کر آگئی 

ماں کی طرف دیکھ کر بولا میں اسے طلاق دے دوں گا اسے بیجھ دو اس گھر سے 

ماں گالیاں دینے لگی ارباز خدا کا خوف کرو اتنی اچھی لڑکی کو یوں رسوا نہ کرو میں سب دیکھتی سمجھتی ہوں جو تم اس بیچاری کے ساتھ کرتے ہو 

کنزہ رو رہی تھی ارباز نے کہا یا تو یہ رہے گی اس گھر میں یا پھر میں 

ماں نے سمجھداری سے کام۔لیا کچھ دن کے لیئے کنزہ کو میکے بیجھ دیا ارباز کو بھی عقل۔آ جائے گی 

کنزہ روتے ہوئے چلی گئی ارباز کے سامنے جاتے ہوئے ہاتھ جوڑ رہی تھی طلاق نہ دینا ارباز 

کچھ دن گزرے قمست نے کھیل کھیلا 

ارباز بیمار رہنے لگا ارباز کو بہت وامٹنگ ہوتی تھی جو بھی کھاتا ہضم نہ کرسکتا 

معدے کی کچھ پرابلم ہو گئی 

ڈاکٹرز سے علاج کرواتا لیکن حالات نئے دن کے ساتھ برے ہوتے جا رہے تھے 

وامٹنگ سے حالت بہت بری ہو گئی کمزوری ہونے لگی 

گرل فرینڈ  چھوڑ گئی 

ماں بیمار تھی بھلا بار بار کپڑے کیسے دھوتی 

بہن کی شادی ہو چکی تھی کنزہ کے ساتھ جو کیا تھا اس کے بعد اس سے کیا امید لگانا تھی 

کوئی دوا اثر نہ کر رہی تھی چارپائی پہ پڑ گیا 

کنزہ کو پتا چلا وہ تڑپنے لگی 

نہیں کچھ بھی ہو ارباز ہمسفر ہے میرا 

وہ گھر آئی دیکھا ارباز کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا مکھیوں نے گھیرا ہوا تھا سو رہابتھا جسم بہت کمزور ہو چکا تھا 

ماں دیکھ کر رونے لگی بیٹی دیکھ نا  کیا ہو گیا ارباز کو 

کنزہ نے حوصلہ دیا ماما ٹھیک ہو جائے گا انشاللہ آپ پریشان نہ ہوں 

ارباز نے آنکھ کھولی  سامنے کنزہ تھی 

کنزہ نے ماتھا چوما ارباز پاگل یہ کیا حال بنا لیا  تم۔نے

ارباز نظریں نہ ملا پا رہا تھا 

ہسپتال لے گئے ڈاکٹرز نے ایڈمٹ  کر لیا  

جب بھی ارباز وامٹنگ  کرتا کنزہ اپنے ہاتھ آگے کر لیتی 

پھر ارباز کا منہ صاف کرتی سر دباتی 

حوصلہ دیتی ارباز آپ بلکل ٹھیک ہو جائیں گے 

پاس بیٹھ کر تلاوت کرتی رہتی 

کنزہ نے بہت کیئر کی ارباز کی اور معجزہ ہوا کے ارباز کو شفا ہونے لگی 

ڈاکٹرز خوش تھے اتنے اچھی بیوی ہے اس کی جو اس کا اتنا خیال رکھ رہی ہے 

کنزہ کی گود میں سر رکھا ہاتھ پکڑا ہونٹوں کے ساتھ لگایا چومنے لگا 

پھر  چیخ چیخ کر رونے لگا کنزہ معاف کر دو مجھے 

وہ ہاتھ چوم۔رہا تھا کنزہ کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا مجھ سے  دور نہ جانا کنزہ 

میں کبھی تم۔کو دکھ نہ دوں گا 

کنزہ کی آنکھوں میں آنسو تھے ارباز میں آپ کی بیوی ہوں 

میرا فرض ہے آپ کا خیال رکھنا 

ارباز کچھ دنوں میں بلکل ٹھیک ہو گیا 

گھر آ گئے کنزہ کھانا بنا رہی تھی 

کچن میں آیا ہاتھ میں گلاب کا/پھول لیئے کنزہ کو سینے سے لگایا پھر محبت کا اظہار کرتے ہوئے گولڈ رنگ پہنائی کنزہ کو 

کنزہ بہت خوش تھی 

ارباز بانہوں میں بھر کر بولا آج ہماری شادی کو دو سال ہو گئے 

کنزہ برتن دھونے  لگی کے ارباز نے ہاتھ سے پلیٹ لے لی 

نہیں کنزہ میری جان تم ماں بننے والی ہو تھک جاتی ہو 

لاو/برتن میں دھو دیتا ہوں 

کنزہ نے منع بھی کیا لیکن ارباز برتن دھونے لگا 

دیگچی پکڑی دھو رہا تھا کے بابا کچن میں آ گئے دیکھ کر مسکرانے لگے 

واہ بیٹا واہ بلکل اپنے باپ کے نقش قدم پ9 چل رہے ہو 

ارباز کچھ کہنا چاہتا تھا کے بابا نے کہا پتر ڈر نہیں محبت ہوتی ہے یہ 

ارباز شرماتے ہوئے مسکرانے لگا 

آج وہ وقت تھا کنزہ کو سر درد بھی ہوتا تو ارباز تڑپ اٹھتا 

کنزہ کے بنا اب ایک پل کیا ایک سانس نہ لے سکتا تھا 

وہی ارباز جسے نفرت تھی کنزہ سے آج کنزہ کے صبر برداشت اور نبھاہ کی محبت  کے سامنے سر جھکائے سجدے  میں تھا 

ہر خواہش پوری کرتا بن مانگے سب کچھ لا دیتا 

عورت ہونا کوئی مذاق نہیں ہے عورت کا دل بہت مار لہجے برداشت کر کے بھی ہمسفر  کے دو بول محبت کے سن کر سب درد بھول جاتی ہے 

آج بھی نہ جانے کتنی کنزہ کسی بے رحم ارباز کی محبت  کو ترس رہی ہیں 

اپنی ہمسفر کو وقت عزت دے کر دیکھو وہ تم کو پلکوں پہ نہ بٹھا لے تو کہنا ورنہ طلاق دیتی زبان اوربھونکتے کتے تو جگہ جگہ مل جاتے ہیں 



Post a Comment

0 Comments