Urdu Kahani Jan Se Jan Ko Kon Juda Kar Pata Hai | URDU SACHI KAHANIA | Urdu Kahani in Urdu Fount | اردو سچی کہانی جان سے جان کو کون جدا کر پاتا ہے

 جان سے جان کو کون جدا کر پاتا ہے

شادی کو دس دن گزرے تھےکے عائشہ پہ ہمارے معاشرے کی جہالت نے ظلم ڈھانا شروع کر دیئےشوہر تو اچھا تھا ساتھ نبھانے والا تھالیکن مسئلہ ساس سسر کا تھا حالانکہ عائشہ سمجھدار با اخلاق اور خوب سیرت  لڑکی تھی عائشہ جب امی کے گھر تھی تواسکی عادت تھی وہ 9 بجے جاگتی تھی ۔

اسے ناشتہ بنانا گھر کے کام کرنا اتنے نہیں آتے تھے بس کیا ہوا اچانک سے رشتہ آیا اور آمی ابو نےجلدی جلدی شادی کر دی شادی کے چند دن گزرے تھے سسر نے دیکھا ابھی تک بہو سوئی ہوئی ہےسسر نے بیٹے کو بلایاعائشہ کا شوہر چاند۔ چاند تم کو کوئی شرم ہے کے بے غیرت ہو گئے ہو 

چاند نے ابا کی جانب دیکھا ابو جی کیا ہوا ہےتیری بیوی ابھی تک سو رہی ہےوہ کوئی نواب زادی ہے یا کسی بادشاہ کی بیٹی ۔ جا اسے اٹھا جا کر کل سے میں نہ دیکھو وہ فجر کی نماز کے بعد سوئی ہوچاندابا سے اب کیا کہتاکمرے میں گیا عائشہ کے چہرے کی جانب دیکھا وہ پیاری سی شہزادی خوبصورت معصوم سا چہرہ  بے فکر ہو کر سو رہی تھی 

چاند نے آواز دی عائشہ اٹھ جا میری رس گلی ۔ عائشہ خرگوش کی نیند سو رہی تھی چاند آفس کے لیئے تیار ہو رہا تھا پاس آیا آہستہ سے ہلایاعائشہ کی بچی اٹھ جا عائشہ نیند میں چلانے لگی امی کیا ہے اپ کو۔مجھے سونے دیں چاند جلدی سے عائشہ کے منہ پہ ہاتھ رکھا۔ او میری نور جہاں ابا نے سن لیا نا۔تو خیر نہیں ہو گی اٹھ ہوش میں آ  عائشہ نے آنکھ کھولی سامنے چاند کھڑا تھا ٹائی ہاتھ میں پکڑے عائشہ آنکھ ملتے ہوئے بولی۔ 

Read This Urdu Kahani Ketni giranen ab  Baqi Hian

آپ صبح صبح کہاں چل دیے۔چاند نے غصے والا منہ بنایا ٹائم تو دیکھو ذرا میڈم 9 بجنے والے ہیں آپ ہیں کے آنکھ ہی نہیں کھلتی۔عائشہ مسکرانے لگی اچھا سوری نا میری جان ۔چاند پاس بیٹھا عائشہ کے بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیرا پھر آہستہ سے بولااچھا سنو عائشہ کندھے پہ سر رکھ کر جی چاند ۔چاند پیار سے بولا کوجی ابا نے بہت گالیاں دی ہیں قسم سےابا کہہ رہے تھے اگر کل تیری بیوی فجر ٹائم نہ اٹھی تو دیکھنا 

 عائشہ اداس ہو گئی چاند اداسی سمجھ گیا تھاعائشہ میں جانتا ہوں تم کو عادت نہیں ہے اتنی جلدی جاگنے کی آہستہ آہستہ اس گھر کو اور اس گھر کے لوگوں کو سمجھ جاو گی تم پریشان نہ ہو میں تمہارے ساتھ ہوں نا عائشہ کے دل کو سکون سا ملا میرا چاند میرے ساتھ ہے چاند آہستہ سے بولاسنومیں نے تمہارے لیے ناشتہ لا کر رکھ دیا ہے اب ٹائم سے کر لینا اور بھابھی لوگوں کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانا چاند جانے لگا عائشہ جلدی سے اٹھی چاند جی بات سنیں 

چاند نے مڑ کر دیکھا عائشہ دوڑ کر سینے سے جا لگئ۔آئی لو یو میری جان ۔چاند نے ماتھے پہ بوسہ کیا میری چڑیل اب جاوجا کرمنہ دھو لو کیا بھوتنی بنی ہوئی ہو۔عائشہ بہت خوش تھی شاور لیا پھر ناشتہ کرنے لگی ساس نے آواز دی مہارانی اٹھ گئی ہو کیاعائشہ کمرے سے باہر گئی ۔۔جی امی تم کو کتنی بار کہا ہے صبح جلدی اٹھا کرلیکن تم کو شرم ہے یا نہیں عائشہ۔آہستہ سے بولی امی کوشش کرتی ہوں لیکن پھر نہیں اٹھا جاتا ساس نے غصے سے کہا

ہاں ہاں تم سب سے الگ ہو۔ نانہیں اٹھا جاتا۔جا اب کپڑے دھونے والے پڑے ہیں۔دھو جا کردراصل عائشہ کو کپڑے بھی دھونے کہاں آتے تھے۔امی ابو کی لاڈلی سی تھی لیکن۔۔اب اسے گھر بسانا تھا۔کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا گھر دیور جیٹھ ان کے بچے سب ملا کر کوئی 17 افراد بنتے تھے۔سب کے دو دو سوٹ کپڑوں کا ڈھیر تھا۔کیسے دھونے ہیں۔پھر کپڑے دھونے لگی۔شام کے 4 بج گئے تھےمشکل سے کپڑےدھو کر  فارغ ہوئی جسم ٹوٹ رہا تھا اب یوں لگ رہا تھا

 جیسے جسم میں جان ہی نہیں۔تھک کر ٹوٹ گئی تھی ۔اب بس وہ بستر پہ لیٹ کر سو جانا چاہتی تھی  ۔وہ ابھی لیٹی ہی تھی کے سسر نے آواز دی۔عائشہ کہاں گئی ہے۔بھابھی نے بتایا وہ اپنے کمرے میں ہےسسر تو سارا دن گھر سے باہر رہتا تھا گھر آیا تو دیکھا عائشہ کمرے میں ہےپانچ سات گالیاں دیں میں صبح گیا تھا گھر سے شام کو آیا ہوں

Read This Urdu Kahani  khawab haqeeqat bhi ho jain ge

 وہ ابھی تک کمرے سے باہر نہیں آئی غصے سے عائشہ کے دروازے پہ ہاتھ ماراعائشہ ڈر کر اٹھ گئی ابو کیا ہواسسر نے گالیاں دینا شروع  کر دی تم کو بکواس کیا تھا نا گھر کو گھر سمجھواور گھر کے کام کاج کیا کرو   جب دیکھوسرخی پاوڈر لگا کر پڑی رہتی ہواٹھو اب ۔میرے لیئے چائے بناو۔عائشہ ڈر گئی تھی تھکا ہوا جسم لیاکچن میں چلی گئی۔۔

چائے بنانے لگی۔اسے بہت سردی لگ رہی تھی۔سسر کو چائے دی۔اور کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔۔تھکن سے آنکھ لگ گئی۔چاند گھر آیا دیکھا عائشہ سو رہی ہےچاند مسکرا کر عائشہ کی جانب دیکھنے لگا۔عائشہ کے کپڑے گیلے تھے عائشہ کے چہرے کو ہاتھ لگایا عائشہ کو تو بخار تھاچاند جب کمرے سے باہر آیا تو دھلے کپڑوں کو دیکھاکوئی چالیس ڈریس تھےچاند خاموش ہو گیابھابھی سے پوچھا کپڑے کس نے دھلائی کیئے ہیں بھابھی آہستہ سے بولی۔تیری بیگم نےاس نے کپڑے کیا دھلائی کیئےجیسے بہت کام کر دیا ہو۔اسے کہواب برتن دھو دے ۔چاند کمرے میں گیا عائشہ کے ماتھے پہ بوسہ کیا۔آہستہ سے آواز دی ۔

عائشہ میری جان اٹھیں عائشہ کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔عائشہ سردی سے کانپ رہی تھی چاند نے جلدی سے عائشہ کے کپڑے پریس کیئے۔پھر عائشہ کو چینج کروائے۔عائشہ تھکن سے ٹوٹ چکی تھی چاند پیار سے بولامیری جان نہیں دھو سکتئ تھی تو کیوں دھوئے کپڑے۔ عائشہ مسکرانے لگی میری جان کوئی بات نہیں اتنا تو کرنا پڑتا ہےچلو عائیشہ میں آپ کو میڈیسن لا دوں عائشہ کا ہاتھ تھاما ڈاکٹر پاس جانے لگا تو ساس نے آواز دی  کدھر جا رہے ہو اس کو لے کر

 چاند آہستہ سے بولا۔امی اس کو اتنا بخار ہے اس کی حالت دیکھیں آپ۔ ساس نے گالی دی مر نہیں جاتی یہ اس کو کیسے بخار ہو گیا چاند پیار سے بولا امی آپ کو خیال کرنا چاہیے میں یہ نہیں کہتا عائشہ گھر کے کام نہ کرے۔لیکن آپ بھی تو ظلم کرتی ہیں  آپ کی دوسری بھی چار بہویں ہیں سب کو مل کر کام کرنے کا کہتی نا آپ جانتی ہیں۔

عائشہ کو ان سب کاموں کی عادت نہیں ہےآہستہ آہستہ عادی ہو جائے گی۔اتنا کہنا تھا کے چاند کی امی گالیاں دینے لگی۔بیوی کا غلام ہو گیا ہے بے غیرت ہو گیا ہےچاند نےعائشہ کا ہاتھ پکڑا ڈاکٹر پاس لے گیا 103°کابخار تھا عائشہ کو انجکیشن لگانے لگا تو رونے لگی۔چاند نے عائشہ کا ہاتھ تھاما عائشہ کو ہمت آ گی چاند نے پوچھا کھانا کھایا ہے۔عائشہ آہستہ سے بولی نہیں چاندسارا دن کام کرتی رہی ہوں ٹائم ہی نہں ملا۔چاند ایک ریسٹورنٹ پہ لے گیاعائشہ بخار میں کیا کھاتی

 لیکن چاند کی اتنی محبت دیکھ کرعائشہ کا آدھا بخار تو ٹھیک ہو گیاتھاچاند نے عائشہ کا ہاتھ تھاما پیار سے بولامیری جان اداس نہ ہوا کرواور اپنا خیال رکھا کرو میں جانتا ہوں میرے امی ابو غلط نہیں ہیں لیکن وہ آپ کو سمجھ نہیں پا رہے۔تم صبر رکھو میں تمہارے ساتھ ہوں عائشہ مسکرانے لگی میری جان آپ ہی تو میری ہمت ہو۔آپ کو دیکھ کر ہی تو حوصلہ ملتا ہےٹائم کافی ہو گیا تھا جب چاند اور عائشہ گھر گئے تو سسر نے گھر سر پہ اٹھا لیاتم کو شرم نہیں آتی کہاں گیا ہوا تھا 

چاند آہستہ سے بولا ابو عائشہ ٹھیک نہیں تھی۔ڈاکٹر پاس گیا تھا اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا تو ہوٹل چلے گئے باپ نے جب ہوٹل کا نام سنا تو آگ بگولہ ہو گیا یہ شیطان عورت کچھ کروا کر دم لے گی گھر میں روٹی نہیں  تھی کیا۔ جو ہوٹل پہ چلے گئےسسر کا اتنا سخت لہجہ دیکھ کرعائشہ بے ہوش ہو کر گر گئی چاند نے جلدی سے سنبھالا کمرے میں لے گیا عائشہ کا سر اپنی گود میں رکھابہت پریشان  تھاعائشہ ابھی پڑھ رہی تھی یونیورسٹی۔ 

Read This Urdu Kahani    nazak larki

ماں باپ نے اس لیئے جلدی شادی کر دی تھی کےباپ بیمار رہتا تھا اوربھائی کوئی تھا نہیں تو ماں باپ نے بیاہ دیا تھا سب سے چھوٹی تھی گھر میں لاڈوں میں پلی تھی لیکن سسرال میں سکون نہیں تھا وقت گزرنے لگا نہ جانے کیوں ساس سسر بھابھی لوگ سب عائشہ کے ساتھ اچھے نہیں تھے شادی کو 3 سال گزر گئے لیکن اولاد نہیں تھئ سسر نے ایک ظلم یہ بھی کیا تھا کے عائشہ کو ایک حکیم سے دوا لیکر دی اور کہا یہ کھاو اس سے اولاد ہو گی عائشہ نے چند ہفتے وہ میڈیسن کھائی 

لیکن وہ میڈیسن اتنی زہریلی تھی کے عائشہ  کو خون کی الٹیاں آنے لگی جب امی کے گھر گئی ۔تو امی نے ڈاکٹر کو چیک کروایا اور وہ میڈیسن بھی دکھائی جوسسر نے عائشہ کو کھانے کے لیے دی تھی۔ڈاکٹر نے سر  پکڑ لیا یہ میڈیسن تو بانجھ بنانے کے لیئے دی جاتی عائشہ رونے لگی میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں خاموش رہی وہ دوا چھوڑ دی سسر کو جب پتہ چلا عائشہ وہ دوا نہیں کھاتی تو گالیاں دینے لگا۔اب سسر چاہتا تھا عائشہ کو طلاق دلوا کرچاند کا دوسرا بیاہ کر دیا جائے

 ایک دن جھٹانی نے بتایا عائشہ گھر میں تیری طلاق کی باتیں چل رہی ہیں عائشہ پریشان ہو گئی چاند رات کو گھر میں آیا عائشہ چاند کے لیئے کھانا لے کر آئی چاند کھانا کھا رہا تھا عائشہ آہستہ سے بولی  چاند ایک بات پوچھوں چاند مسکرا کر بولا ہاں پوچھو نا جان  اگر میں ماں نہ بن سکی تو کیا مجھے چھوڑ دو گےچاند ہنسنے لگا کیا فضول بات کر رہی ہوجاو میرے لیئے چائے بنا کر لاو اور دوبارہ یہ فضول بات نہ کرنا عائشہ خاموش ہو گئی چائے بنانے چلی گئی 

  

ایک دن ساس کو محلے کی کسی عورت نے کہا تمہارے گھر ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا ہے تم ایک بابا جی کے پاس جاو ساس بابا جی کے پاس گئی اور کہا ہمارے گھر میں سکون نہیں ہے بابا جی نے بھی بس ادھر ادھر کی پھینکی اور کہا تمہارے گھر میں کوئی جادو کروا رہا ہے اور بہت سخت جادو ہےساس کا دھیان سیدھا عائشہ پہ گیا وہی جادو کرتی ہے اسلیئے تو اس کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی عائشہ اب سخت لہجوں سے تھک چکی تھی

 ساس سسر نہ عید پہ امی کے گھر جانے دیتے۔نہ کسی دکھ سکھ میں چاند ماں باپ کے سامنے بے بس تھا کیا کرتا  آج چاند جب گھر واپس آیا تو سسر نے آواز دی چاند بات سن تم سے ضروری بات کرنی ہے چاند پاس آ کر بیٹھ گیاچاند کے چاروں بھائی بھابھیاں ماں سب موجود تھے عائشہ اپنے کمرے میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی سسر نے چاند سے کہا میں نے تمہارے لیئے تیری بھابھی کی چھوٹی  بہن فائزہ  کا رشتہ پکا کر دیا ہے میرا یہ فیصلہ ہے تم عائشہ کو طلاق دو

 اور فائزہ سے نکاح کرو چاند حیران تھا ابو یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔باپ نے فیصلہ سنایا  تمہارے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو عائشہ کو طلاق دو اور ہمارے ساتھ رہو اور جائیداد میں حصہ لوورنہ اس گھر سے نکل جاو چاند چلا کر بولا ابا یہ غلط کر رہے ہیں آپ۔ عائشہ آواز سن کر باہر آئی دیکھا سب اکٹھے بیٹھے تھےچاند نے پوچھا کیا میں جان سکتا ہوں  عائشہ کو طلاق کیوں دوں تو ساس گالی دے کر بولی جادو گرنی ہے اسلیے تو اولاد نہیں ہو رہی اس کے ہاں 

Read This Urdu Kahani   Har kesi ko io dildar milta nahi

اور ویسے بھی وہ ہم میں نہیں  گزارہ کر سکتی ہم اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتےچاند عائشہ کی جانب دیکھنے لگاعائشہ اداس بے بس کھڑی چاند کے قدموں  کی جانب دیکھنے لگی۔چاند آہستہ سے بولاابو عائشہ کا کہا قصور ہے باپ چلا کر بولاتم طلاق دے رہے ہو یا نہیں ۔چاند خاموش ہو گیا چاند نے پوچھا اگر میں عائشہ کو طلاق نہ دوں توباپ نے گالی دی اور کہاپھرمیں قرآن پہ ہاتھ رکھ کر کہوں گا تم سے میرا کوئی رشتہ نہیں چاند تڑپ اٹھا ابا جان ایسا نہ کریں امی ایسا کیوں کر  رہے ہیں آپ۔ 

چاندنے سب کے سامنے ہاتھ جوڑے ایسا نہ کریں عائشہ بہت اچھی ہے۔آپ اسے ایک موقع دیں باپ نے جائیداد کے کاغذ نکالے اور کہایہ لو میں ابھی یہ گھر اور 50 ایکڑ زمیں تمہارے نام کرتا ہوں عائشہ کو طلاق دو اور فائزہ سے نکاح کے لیے ہاں کرو  چاند نے عائشہ کی جانب دیکھامجبور ہو چکا تھا۔ایک طرف ماں باپ اور دوسری جانب عائشہ بے پناہ پیار کرنے والی۔ عائشہ زمیں پہ بیٹھ گئی خاموش تھی جسم کانپ رہا تھا قیامت کا منظر تھا

 چاند نے عائشہ کی طرف دیکھ کر ہاتھ جوڑےعائشہ کی آنکھ سے آنسو چھلک گیاچاند آگے بڑھا باپ کے ہاتھ سے جائداد کے کاغذات پکڑے اور ان کو پھاڑ  دیا پھر مسکرا کرعائشہ کا ہاتھ تھاما اور کہنے لگا  ابو جان میں جانتا ہوں آپ نے عائشہ کو بانجھ پن کی دوا دی تھی امی میں جانتا ہوں آپ کو عائشہ اس لیئے اچھی نہیں لگتی کے وہ پڑھی لکھی ہے اور وہ حق سچ کی بات کرتی ہے آپ نے ایک کافر بابا کے پاس جا کر پوچھا ہمارے گھر میں سکون نہیں 

اور اس بابا نے کہا جادو ہے گھر میں اور آپ نے عائشہ کو جادوگرنی  بنا دیا جب کے عائشہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتی ہے  امی باقی آپ کی 4 بہوں آپ کے بھائی کی بیٹیاں ہیں آپ کی اپنی ہیں اسلیے آپ کو ان کی برائی نظر نہیں آتی جبکہ کے چھوٹی بھابھی نے آپ کو کتنی بار گالیاں بھی دی ہیں نہ جانے کیوں آپ کو عائشہ سے ہی اتنی نفرت ہے امی ۔گھر میں سکون   آ جائے گا آپ انصاف قائم کریں  اور اللہ پہ یقین رکھیں آپ میرے ماں باپ ہیں میں آپ کی گستاخی نہیں کر سکتا 

لیکن بیوی کے بھی حقوق ہیں میں صرف اسلئے طلاق نہیں دے سکتا کے عائشہ ماں نہیں بن سکی اللہ نے میرے نصیب میں اولاد لکھی ہوئی تو ضرور عطا کرے گا بابا جان آپ کی بھئ بیٹئ ہے نا کیا ہو اگر میری بہن کل کو آپ کے پاس آ جائے اور کہیے کے مجھے طلاق دے دی میرے شوہر نے۔اتنا کہہ کر چاند نے عائشہ کے ماتھے پہ بوسہ کیا اور گھر سے چلا گیا  عائشہ رو رہی تھی آنکھوں  میں آنسو تھے۔دل زور زور سے دھڑک رہا تھا چاند کی اس وفاداری پہ دل کو سکون ملا تھا

 عائشہ مضبوطی سے ہاتھ تھامے آ رہی تھی چاند کا ساتھ اس کے لیے کل کائنات تھابہت کم لوگوں کو ایسا ہمسفر نصیب ہوتا ہے بہت کم لوگوں کے نصیب اتنے اچھے ہوتے ہیں بہت لکی ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو اتنی محبت کرنے والا ہمسفر ملتا ہے کبھی کبھی ہماری انکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ ہوتی ہے ہم کسی اپنے کے سینے لگ کر رو رہے ہوتے ہیں کوئی ہمارا کتنا خیال رکھتا ہے عائشہ اپنے امی ابو کے گھر آ گئی اور پھراللہ پاک نے کرم فرمایاعائشہ کو اللہ پاک نے بیٹا عطا کیا

 دوسری جانب  دیکھیں کیا ہوا دوسرے بھائیوں میں جھگڑا ہوا اور سب نے جائیداد بانٹ لی جب ماں باپ کی باری آئی تو کوئی بھی پاس رکھنے کے لیئے تیار نہیں تھا پھر آخرعائشہ چاند کا ہاتھ تھامے ساس سسر کے پاس آئی اور اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئی عائشہ آہستہ سے بولی امی میں آپ کی بہو نہیں بیٹی ہوں چاند پاس کھڑا اپنے فیصلے پہ مسکرا رہا تھا۔یاد  رکھیں۔ظلم کا خاتمہ ایک دن ضرور ہوتا ہے ناانصافی ۔ایک دن انصاف میں ضرور بدلتی ہے کسی کو دیئے آنسو کا حساب ضرور ادا کرنا پڑتا ہے ہر دوسرے گھر میں ساس سسر کچھ ایسا ہی رویہ رکھتے ہیں اپنی بہو کے ساتھ ۔اللہ کا خوف دل میں رکھنا چاہیے اس سے پہلے کے ۔اللہ کے انصاف کا ترازو آپ کا حساب کرے اور ہر اس مرد ہمسفر کو فارس کا محبت بھرا سلام جو چاند کی طرح اپنی بیوی اپنی ہمسفر کا ساتھ نبھاتے ہیں

Read This Urdu Kahani    Mohabbat ka safar



Post a Comment

0 Comments