Urdu Kahani khawab haqeeqat bhi ho jain ge | heart touching urdu kahani | اردو سچی کہانی خواب حقیقت بھی ہو جائیں گے

    اردو سچی کہانی خواب حقیقت بھی ہو جائیں گے  

جب خواب کو  حقیقت میں بدلنا ہو

جب ہار کو جیت میں بدلنا ہو 

جب دکھ کو سکھ میں بدلنا ہو ۔جب غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو ۔۔جب حالات کا مقابلہ کرنا ہو ۔۔جب لڑکھڑاتے قدموں کو مضبوط بنانا ہو ۔۔۔۔۔اس لمحے آپ کو صرف ۔۔۔اللہ پہ یقین اور اڑان کی طاقت اتنی ہونی چاہیے کے ۔۔کوئی بھی طوفان آپ کو نہ روک سکے ۔۔۔۔

ہونے کو اس دنیا میں کیا نہیں ہو سکتا۔۔

ہم اپنے اندر چھپی صلاحیت کو پہچان نہیں پاتے اور ۔۔زندگی بھر ۔۔۔ہارے ہوئے انسان کی طرح ۔۔۔زندگی کو اندھیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔۔۔

شاید کے فارس کسی کی ہار کو جیت میں بدلنے کی آخری سی کوشش کرے اور کوئی۔۔۔کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگے ۔۔اللہ کی مدد سے ۔۔۔

میں کل بنک میں گیا۔۔۔۔کافی رش تھا بنک میں۔۔۔

میں مینجر صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔

لوگوں کی لائن لگی تھی ۔۔۔

اتنے میں ایک بابا جی ۔۔جن کی عمر لگ بھگ 60 سال ہو گی ۔۔۔ایک پراڈو سے اترے۔۔۔۔

بنک میں داخل ہوئے  ۔۔۔

مینجر نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔۔۔

سب بنک کے اسٹاف نے اپنی کرسی سے اٹھ کر ان کو سلام کیا۔۔میں اپنی کرسی پہ بیٹھا رہا ۔۔

مجھے لگا یہ بابا جی ضرور کوئی ۔۔کوئی وزیر مشیر یا اس طرح کے کوئی اعلی عہدے کے انسان ہیں۔۔۔

بابا جی نے جیب سے چیک بک نکالی۔۔۔۔

10 لاکھ رقم لکھی ۔۔۔اور مسکر کر بولے۔۔۔مینجر پتر۔۔۔جلدی سے یہ پیسے دو مجھے۔۔۔اور میرے اے ٹی ایم کارڈ کا کیا ہوا۔۔

مینجر بہت پیار سے بولا۔۔۔چاچا جی ۔۔بس کچھ دن تک آپ کا کارڈ آ جائے گا۔۔۔۔بابا جی نے پیسے لیے ۔۔۔اور جانے لگے ۔۔۔

میں نے مینجر سے پوچھا یہ کون ہیں۔۔۔

مینجر مسکرایا۔۔۔۔خود کیوں نہیں پوچھ لیتے ان سے۔۔۔

میں ٹھہرا۔۔۔۔روشنی کی تلاش میں بھٹکنے والا پروانہ۔۔۔۔

مجھے چراغ کی تلاش ہمیشہ رہتی یے ۔۔۔

مجھے یہاں۔۔زندگی کے آثار مل جائیں میں۔۔۔وہاں ہجرت کر جاتا ہوں ۔۔۔۔

میں نے اپنا کام ادھورا چھوڑا  ۔۔بابا جی کے پاس گئا۔۔۔

سلام کیا۔۔۔بابا جی مسکرا کر بولے ۔۔وعلیکم  اسلام۔۔۔

میں نے آہستہ سے پوچھا بابا جی کیا آپ سے کچھ باتیں  کر سکتا ہوں۔۔۔

بابا خی کا ڈرائیور زور سے بولا۔۔۔او کاکا ہم ضروری کام سے جا رہے ہیں اس وقت ٹائم نہیں ہے ۔۔بابا جی میری طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔

ان تجربہ اتنا تھا کے ۔۔۔۔آہستہ سے بولے۔۔۔۔تمہاری آنکھوں میں۔۔۔یوں لگتا یے ۔۔۔۔ایک جہاں بستا یے ۔

اور جہاں کے لوگ۔۔۔تیری دنیا میں بہت خوش رہتے ہیں بابا جی نے یہ بات کیوں کی مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔

خیر ۔۔۔۔مجھے انھوں نے گاڑی میں ساتھ بیٹھنے کا کہا۔۔۔

میں نے پوچھا بابا جی۔۔۔

یہ بھی پڑھیں اردو سچی کہانی نازک لڑکی 

آپ نے کم سے کم جو گھڑی پہنی ہے م۔۔20 لاکھ کی ہو گی ۔۔اس کیب ہیرے ڈائمنڈ لگے ہوئے ہیں۔۔اور گولڈ کی ہے۔۔۔

بابا جی مسکرائے۔۔۔۔یہ سب میرے اللہ کی کرم۔نوازی ہے۔۔گاڑی ان کے گھر کی جانب بڑھ رہی تھی ۔۔

راستے میں ظہر کی اذان ہوئی ۔۔گاڑی کو پٹرول پمپ پہ روکا گیا۔۔۔بابا جی نے باجماعت نماز ادا کی میں بھی ساتھ ہو لیا ۔۔۔

جب نماز کے بعد واپس گاڑی میں آ کر بیٹھے تو مجھے پہ انکشاف ہوا ۔۔۔یہ پٹرول پمپ بھی بابا جی کا ہے ۔۔

مجھے یقین ہو گیا بابا جی بہت امیر ترین ہیں۔۔۔

میں نے پوچھا بابا جی۔۔۔۔مینجر نے مجھے آپ۔کے بارے میں اتنا بتایا تھا کے آپ کی کہانی ۔۔۔۔۔نہ جانے کتنے لوگوں کے لیئے راہ زندگی بن سکتی ہے۔۔۔

بابا جی ۔۔کے گھر پہنچے ۔۔۔گھر کافی اعلی شان تھا ۔۔۔

بابا جی نے لمبی سانس لی۔۔۔۔

اچھا پتر۔۔۔میں جانتا ہوں تم۔کیا سننا چاہتے ہو۔۔۔

او ۔۔بتاتا ہوں۔۔۔

آہستہ سے بولے۔۔۔پتر۔۔۔ایک وقت تھا میں سکول میں ماسٹر ہوا کرتا تھا۔۔یہ بات ہے 1988 کی ۔۔۔۔۔میں غربت میں جی رہا تھا۔۔۔۔میرے ابا نے گائے بھینس رکھی ہوئی تھیں۔۔

بس وہی ہماری روزگار تھا ۔۔۔۔

میں 7 جماعتیں پڑھا کر ماسٹر بھرتی ہو گیا تھا ۔۔۔

ایک دن میں سکول میں بچوں کو پڑھا رہا تھا۔۔۔کے اچانک سکول بند کرنے کا حکم۔آیا۔۔۔۔

بچوں خے امتحانات کے دن تھے ۔۔۔

آرمی والے تھے سب ۔۔۔مجھے بھی کہا گیا ماسٹر جی چلیں چھٹی ہو گئی ہے ۔۔سب اپنے اپنے گھر جائیں۔۔

میں نے آرمی کے ایک سپاہی سے پوچھا ۔۔۔بھائی آپ لوگ کیوں ہم۔لوگوں کو یہاں سے نکال رہے ہیں بچوں کے امتحانات ہیں۔۔۔میں ان کو پڑھا رہا ہوں۔۔۔

وہ سپاہی مسکرا کر بولا ۔۔۔ماسٹر جی۔۔۔۔ہمارے برگیڈیر  صاحب تشریف لا رہے ہیں۔۔اسلیئے سکول۔بند کیا جا رہا ہے ۔۔

میں حیران ہوا۔۔۔یہ برگیڈیر کیا ہوتا ہے۔۔

میں  نے پوچھا کیا یہ کوئی وزیر ہوتا یے ۔۔۔

تو سپاہی مسکرانے لگے۔۔۔

ارے ماسٹر صاحب یہ وزیروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔۔جائیں اب اپ۔۔۔

میں سوچ میں گم ہو گیا۔۔۔یہ برگیڈیر۔۔۔۔۔آخر کیا چیز ہے ۔۔جس کی آمد پہ۔۔۔۔سکول بند کر دیا گیا۔۔۔

جس کے لیئے اتنے سپاہی آئے ہیں۔۔۔

کافی لوگ سکول کے باہر کھڑے تھے ۔۔۔

اتنے میں سائرن بجاتی ایک گاڑی ائی۔۔۔۔سب نے سلیوٹ کیا۔۔۔

گاڑی سے ایک آخر نکلا یونیفارم پہنا ہوا تھا ۔۔۔ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے ہوئے۔۔۔

گاڑی سے باہر آیا۔۔۔۔کچھ نے اس پی پھول  برسائے ۔۔۔

میں نے دل میں عہد کیا۔۔۔۔میں برگیڈیر سے ہر حال میں ملوں گا  ۔جب میں ملنے کے لیئے آگے بڑا تو مجھے ایک سپاہی نے دھکا دیا اور پیچھے دھکیل دیا۔۔۔میں جب دوسری بار آگے بڑا تو ۔۔۔ایک سپاہی مجھے ڈنڈا دے مارا۔۔۔۔

اس ڈنڈے سے میرے ہاتھ کی ایک انگلی ٹوٹ گئی۔۔۔

میں سمجھ گئا تھا ۔۔۔۔برگیڈیر سچ میں بہت طاقت ور عہدہ ہے ۔۔۔

لیکن میں بضد تھا۔۔۔برگیڈیر سے ملے بنا نہیں جانا ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں اردو سچی کہانی ہر کسی کو دلدار ملتا نہیں 

جب برگیڈیر صاحب سب سے ملاقات کرنے کے بعد ہمارے سکول کے دفتر میں گئے تو میں بھی پیچھے چلا گئا ۔۔۔اور زور زور سے آواز دینے لگا۔۔۔برگیڈیر سر ۔مجھے آپ سے ملنا ہے۔۔۔آواز سن کر ۔۔۔برگیڈیر صاحب باہر آئے اور مجھے پاس بلایا۔۔۔سپاہی مجھے اہنے ساتھ ان کے پاس لے گئا۔۔۔

میں نے سلام کیا ۔۔۔برگیڈیر صاحب نے پوچھا ہاں جی کون ہو اپ۔کیا کہنا آپ کو۔۔۔

میں مسکرایا اور ان کو ہاتھ دکھایا اپنا میرا ہاتھ سوجن ہو چکی تھی۔۔۔

میں ے بتایا میں اس سکول کا ماسٹر ہوں۔۔۔میں حیران تھا ۔۔۔وہ کون بندہ یے جس کی وجہ سے سکول بند کر دیا گیا۔۔۔اتنا طاقت ور انسان۔۔۔برگیڈیر صاحب مسکرائے۔۔۔

ماسٹر صاحب یہ ہماری مجبوری ہوتی ہے سکیورٹی کے لیے سکول بند کیا گیا تھا ۔۔۔

میں نے پوچھا۔۔۔برگیڈیر آپ سے ملنا بھی اتنا مشکل ہے کے مجھے اہنے ہاتھ کی انگلی تڑوانا پڑی ۔۔۔

برگیڈیر صاحب بولے۔۔۔یہ مقام یہ عہدہ یہ نام ۔۔۔آسانی سے حاصل نہیں ہوتا۔۔۔

میں نے ہنس کر پوچھا۔۔۔برگیڈیر صاحب کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں۔برگیڈیر بننے کے لیے کیا ضروری ہے۔۔۔

تو برگیڈیر صاحب نے بتایا ۔۔۔اس کے لیے بہت پڑھنا پڑتا ہے ہر انسان  اس مقام پہ نہیں پہنچ سکتا۔۔۔

جائیں ماسٹر صاحب ۔۔۔۔اب ہم ضروری میٹنگ کر رہے ہیں۔۔

میں مسکرایا۔۔۔میں نے کہا برگیڈیر صاحب میرا چہرہ یاد رکھنا ۔۔۔اللہ نے چاہا ہم ایک بار پھر ملیں گے۔۔۔۔

میں گھر آیا۔۔۔اللہ نے مجھے 3 بیٹے عطا کیے  تھے ۔۔

میں نے بچوں کو کہا ۔۔پتر ۔۔اب گائے بھینس سب بیچ دوں گا ۔اب سے آپ تینوں کو من لگا کر پڑھنا۔۔اور صرف پڑھنا ہے ۔۔۔میں اپنے بچوں کو پڑھاتا رہا ۔۔۔مہنگے سکول مہنگے کالج۔۔۔میں ایک ایک کر کے بچوں کی پڑھائی کی خاطر۔۔۔سب کچھ بیچتا گیا ۔پہلے زمین پھر گائے بھینس۔۔پھر گھر جائیداد ۔۔۔اور پھر۔۔۔میں۔۔۔سکول پڑھانے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔گاوں کے لمبردار صاحب کی حویلی میں کام کرنے لگا۔

میرے بچے پڑھتے رہے۔۔۔اور میرے سب عزیز رشتہ دار دوست احباب سب مجھے چھوڑ گیے۔۔۔لوگ مجھے پاگل اور نفسیاتی کہتے ہے۔۔۔

اور لوگ سچ کہتے ہیں۔۔میں نے بچوں کی پڑھائی کے لیے سب کچھ بیچ ڈالا تھا ۔۔۔

مجھے کوئی منہ نہ لگاتا تھا ۔۔۔۔

حالات ایسے بھی آئے تھے۔۔۔مجھے یاد ہے۔۔2000 کی بات ہے ۔۔۔میں نے کچرے کے ڈبے سے کھانا نکلا کر کھایا تھا ۔۔۔جو کچھ تھا پاس  بچوں پہ خرچ کر دیا۔۔۔

بچوں کی تعلیم مکمل  ہوئی ۔۔۔اور میرا بیٹا ۔۔۔اللہ کی رحمت کرم سے ۔۔۔اپنی محنت اور قابلیت سے ۔۔۔۔

بریگیڈئر بھرتی ہو گیا۔۔۔۔جو کے ایک خواب اور ناممکن تھا میرے لیئے

اب میں ایک برگیڈیر کا باپ تھا۔۔۔۔

اور پھر  ۔میرے چھوٹے دونوں بیٹے بھی برگیڈیر بھرتی ہوئے ۔۔۔اور الحمدللہ اج میں تین برگیڈیر کا باپ ہوں۔۔۔مجھے وہ لمحہ یاد ہے ۔۔۔

کیا اتفاق تھا۔۔۔۔۔میں سکول ماسٹر۔۔۔غریبی کا مارا ہوا۔

اپنوں کا چھوڑا ہوا۔۔لوگوں کا دھتکارا  ہوا ۔۔۔مجھے سب پاگل کہتے تھے۔۔۔

جب میرے بیٹے کی پاسنگ اوٹ تھی ۔۔۔۔اور مائیک میں اعلان کیا جا رہا تھا۔۔۔۔

ایک ہی خاندان کا تیرا سپوت ۔۔۔بڑی بھائی برگیڈیر مزمل بھٹی ۔۔۔۔چھوٹا بھائی برگیڈیر جنید بھٹی ۔۔اور سب سے چھوٹا بھائی۔۔۔جس کو آج برگیڈیر کے عہدے سے نوازا جائے جا گا برگیڈیر دانش بھٹی۔۔۔

اور ہم سلیوٹ پیش کرتے ہیں۔۔۔اس باپ کو  ۔۔جس کے تینوں بیٹے پاک آرمی کے آفیسرز ہیں۔۔۔۔

جب مائیک میں اعلان کیا جا رہا تھا ۔۔۔میں اور میری بیوی رو رہے تھے۔۔ہماری اآنکھون میں آنسو تھے ۔۔۔۔ہم کو باعزت طریقے سے اسٹیج پہ لے جایا گیا۔۔۔ہم کو سپاہی سلیوٹ کر رہے تھے ۔۔۔میرے تینوں بیٹے۔۔۔مجھے سلیوٹ کیا۔۔۔

میں زور زور سے رونے لگا ۔۔

ہر طرف تالیوں کی آواز تھی ۔۔۔۔

مجھے وہ دن یاد آئے۔۔۔جب میں کچرے  سے کھانا اٹھا کر کھاتا تھا۔۔۔۔پھٹے پرانے کپڑے پہنتا تھا۔۔۔۔

مجھے مسجد سے ایک بار یہ کہہ کر نکال دیا تھا محلے والوں ںے کے مجھ سے گندی بدبو آتی ہے۔۔۔

لیکن میرا اللہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔وہ سب دیکھ رہا تھا اور مجھے آزما رہا تھا ۔۔۔اور الحمداللہ میں آزمائش میں صبر شکر کے ساتھ کامیاب رہا ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں اردو سچی کہانی محبت کا سفر

پھر مجھے اس برگیڈیر کے گھر جانا تھا۔۔۔۔جس کو میں نے پوچھا تھا برگیڈیر بننے کے لیے کیا کرنا پڑتا یے ۔۔

اس کا ایڈریس ملا۔۔۔میں اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ اس کے گھر گیا۔۔۔

وہ میجر جنرل کے بعد ریٹائر ہو چکا تھا ۔۔۔میں اپنے بیٹوں کے ساتھ سرکاری گاڑی میں گیا تھا ۔۔۔

اس وقت کے برگیڈیر صاحب مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے۔۔

حیران تھے۔۔۔سلام ہوا۔۔

میں نے ان کی طرف مسکرا کر کہا۔۔۔

سر جی۔۔۔اللہ کی رحمت دیکھیں۔۔۔

ایک وقت تھا مجھے برگیڈیر سے ملنے کے لیئے ہاتھ کی انگلی تڑوانا پڑی تھی۔۔۔اج میں 3 برگیڈیر کا باپ ہوں۔۔

میجر جنرل صاحب ہنسنے لگے  ۔مجھے گلے سے لگایا ۔۔۔اور تعریف کرنے لگے۔۔۔

ہونے کو کیا نہیں ہو سکتا۔۔۔انسان کیا کچھ نہیں کر سکتا ۔

آپ نے ہمت کی ۔۔۔اللہ پہ بھروسہ رکھا ۔۔آپ ہر طوفان سے لڑتے رہے ۔۔آپ کی اولاد نیک تھی ۔۔جس نے آپ کا سر جھکنے نہیں دیا۔۔۔اور اج اپ آرمی کے 3 طاقتور  آفیسرز کے باپ ہیںں۔۔۔اور پھر میں نے میجر جنرل صاحب کی دو بیٹیوں سے اہنے دو بیٹوں کا رشتہ کیا اور ایک فیملی بن گئے۔۔

پتر فارس ۔۔۔میری اولاد نیک تھی۔۔میرے بچے ۔۔عشق معشوقی  اور اس طرح کے فضول اور برباد کاموں کی طرف نہیں گئے ۔۔وہ محنت کرتے رہے بھوکے بھی رہے اور دو دو سال پرانے کپڑوں پہ گزارہ بھی کیا۔۔

اور اج الحمدللہ لاکھوں نے کروڑوں کا مالک ہوں ۔۔

اب مجھے برگیڈیر سے ملنے کے لیئے انگلی نہیں تڑوانا پڑتی بلکہ وہ مجھے سلیوٹ کرتے ہیں۔۔۔

ہمت کی ضرورت ہے۔۔۔ہر مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔۔کامیابی آپ کی ہمت اور صبر کی محتاج ہے ۔۔جب تک آپ ہمت اور صبر سے آگے بڑھتے رہیں گے کامیابی قریب آتی جائے گی۔۔۔

فارس کی آنکھوں میں آنسو تھے   ۔۔۔۔

فارس اتنا کہے گا۔۔۔یہ تحریر ٹک ٹاک پہ ناچنے والوں کے لیے نہیں یے یہ تحریر ماں باپ سے چھپ کر گناہ کرنے والوں کے لیے نہیں یے یہ تحریر ۔۔۔غلام  سوچ کے لوگوں کے لیے نہیں یے یہ تحریر صرف اور صرف ۔۔با ضمیر اور غیرت مند اور باہمت  لوگوں کے لیے ہے   ۔۔۔ہاں اگر زندگی نے تھکا دیا ہے تو ۔۔۔یہ فارس کی تحریر آپ کو جینے کا راستہ دکھا چکی ہو گی۔۔۔

فیصلہ آپ کا ہے۔۔ہارے ہوئے لوگوں میں شمار ہونا ہے۔۔یا جیت کر۔۔۔لوگوں کے لیئے آئیڈیل بننا یے ۔۔

القرآن ۔۔۔۔۔فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا [الشرح: 5، 6]

’’ پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘


پھر فرمایا:سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا[الطلاق: 7]

’’اللہ تنگی کے بعد آسانی و فراغت بھی کر دے گا۔ ‘‘



Post a Comment

0 Comments