urdu kahani maan ki fariad | urdu kahaniyan in urdu fount | urdu kahani with beautiful lesson | اردو سچی کہانی ایک ماں کی فریاد

 ایک فریاد 

بچوں کو ضد کے آگے ماں باپ کو نہیں جھکنا چاہیے خاص کر جب ماں باپ جانتے ہوں کے اس ضد کو مان لینے سے ۔۔کسی بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔۔

ایک ماں کی فریاد ۔۔۔جو رو رو کر مجھے بتا رہی تھی ۔۔۔

آو آپ کو ایک ماں کی تڑپتی روح آپ کا دکھاتا ہوں 


آو آپ کو بلکتی چیخیں سناتا ہوں 


آو آپ کو ایک ماں کی بے بسی محسوس کرواتا ہوں 

 

مجھے کہنے لگی  ۔

میں اس کو بھول نہیں پا رہی۔۔مجھے لگا ۔۔یہ لڑکی اپنی کسی محبت کے بارے بتانے والی ہے 

میں  لہجہ تھوڑا سخت کیا ۔۔دیکھیں میڈم آگر آپ نکاح سے پہلے والی محبت میرے ساتھ ڈسکس کرنا چاہتی ہیں تو پلیز ۔۔میرا ٹائم ضائع نہ کریں ۔۔

میں نہیں جانتا تھا وہ مجھے کیا کہنا چاہتی ہے  وہ 

آہستہ سے بولی۔۔نہیں نہیں فارس سر۔۔۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔

میں ایک ماں ہوں۔۔۔

اور آپ کو ایک ماں اپنی محبت بتانا چاہتی ہے 

میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔پھر ایک تصویر ۔۔مجھے موصول یوئی۔۔۔

وہ تصویر۔۔۔ایک 14 سال کے بہت پیارے بچے کی تھی ۔۔۔

وہ بچہ شہزادہ تھا ۔۔بہت خوبصورت ۔۔بہت پیارا۔۔۔

میں نے پوچھا یہ کون ہے۔۔

جواب ملا ۔۔۔یہ میرا لخت جگر ۔۔۔یہ میرا دونوں جہاں میرا بیٹا یے ۔۔

میں نے نے ماشاءاللہ کہا۔۔

بہت پیارا ہے۔۔

کون سی کلاس میں پڑتا ہے۔۔۔۔

اس بار وہ خاموش ہو گئی....

پھر مجھے ایک یونیفارم ایک سکول بیگ کتابیں سب کی تصاویر بیجھی۔۔۔

سر فارس ۔۔۔دیکھیں نا ۔۔یہ میرے بچے کے سکول کی چیزیں 

میں نے پوچھا سب ٹھیک ہے نا ۔۔۔

سر فارس ۔۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔۔یونیفارم صاف ستھرا رکھتا تھا ۔۔بہت لائک تھا سکول میں۔۔۔

ہر کلاس میں فرسٹ پوزیشن لاتا تھا ۔۔

میں نے پوچھا کیا ہوا اسے۔۔۔

سر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سر جی۔۔۔۔۔وہ رونے لگیں 

سر جی  ۔۔۔۔میرا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔۔

وہ چیخنے لگیں  ۔۔میں خاموش ہو گئا۔۔میری آنکھ سے آنسو چھلکا۔۔۔میری گود میں پڑی ہوئے کتاب پہ گرا۔۔۔

میں نے خود کو سنبھالا کیا ہوا  تھا آپ کے بیٹے کو کیسے ہوا  ۔

سر جی۔۔۔۔۔ہم نے پہلے کبھی قربانی نہیں کی تھی ۔۔اس بار وہ بضد تھا امی ہم نے قربانی کرنی ہے ۔۔۔بکرا لے کر آئیں۔۔حالات ایسے تھے نہیں لا سکتے تھے   لیکن اس کی ضد تھی کزن لوگوں نے لیا یے مجھے بھی لا کر دیں ۔۔خیر یم۔نے بکرا خرید لیا ۔عید سے کوئی دو ماہ پہلے ۔۔

پھر ضد یہ کر رہا تھا ۔۔۔۔

مجھے موٹر بائک لے کر دیں ۔۔ضد تو وہ پچھلے ایک سال سے کر رہا تھا ۔۔لیکن میں۔۔اسے منع کر دیتی۔۔۔

وہ اداس ہو کر چپ ہو جاتا ۔۔

وہ مجھے روز بتاتا آج اس کے فلاں کے کزن نے بائیک لی۔

آج اس کے فلاں کزن نے نئی بائیک خریدی ۔۔

میں کمزور پڑ جاتی ۔۔میرے شہزادے کا پتہ نہیں کتنا دل کرتا ہے موٹر سائیکل لینے کا ۔

میں پھر ۔۔۔خاموش ہو جاتی کہتی جب کالج جایا کرو گے لے دوں گی  

لیکن وہ بہت ضد کرتا امی لے دو نا۔۔میری گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتا۔۔۔

مجھے لاڈ کرتا ۔۔میں ماں ہوں نا۔۔۔اس کا ماتھا چوم کر کہتی اچھا کمیٹی نکلے تو لے دوں گی  ۔

وہ مسکرانے لگا ۔۔۔ٹھیک ہے امی۔۔۔

بخت محنتی تھا    گھر کے چھوٹے چھوٹے سارے کام کیا کرتا تھا اس  کے بابا ایک دن کچھ پریشان تھا ۔۔۔

پاس آیا۔۔۔کہنے لگا بابا آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔۔

میں بہت محنت کر رہا ہوں۔۔

میں اچھے نمبروں میں پاس ہو رہا ہوں۔۔پڑھ لکھ کر میں بڑا افسیر بن جاون گا پھر ساری پریشانیاں ہماری ختم ہو جائیں گی۔ .پاپا کے ساتھ بیٹھا۔۔۔پاپا کو حوصلہ دے رہا تھا 

میں دیکھ کر مسکرانے لگی ۔چھوٹا سا ہے ۔لیکن کتنا سمجھدار ہے۔۔۔

وہ آٹھویں میں فرسٹ ایا تھا ۔۔بہت خوش تھا ۔۔

پھر اس کی ضد دن بدن بڑھنے لگی۔۔۔

امی موٹر بائیک لے دیں نا۔۔

وہ بہت بہت ضد کرت رہا تھا۔۔۔رونے لگا۔۔

میں نے اسے مارا بھی ڈانٹا بھی۔۔لیکن وہ بضد تھا مجھے لیکر کر دیں موٹر بائیک ۔۔۔وہ رو رہا تھا اداس تھا ۔۔۔

مجھ سے اس کی اداس دیکھی نہیں گئی۔۔۔

میں نے اپنے شوہر سے  بات کی کمیٹی نکلی ہے شہزادے کو موٹر بائیک لے دیں ۔۔شوہر نے کہا ۔۔۔وہ ابھی بچہ ہے دو چار سال رک جاو لے دیں گے ۔۔لیکن میں تو ماں تھی میں نے کہا وہ پچھلے دو سال سے کہ رہا ہے لے دیں ۔۔۔

خیر میری ضد پہ شوہر نے بائیک لے دی۔۔۔

وہ بہت خوش تھا ۔۔۔خوشی میں میرے سینے سے لگ گیا ۔۔۔وہ بائیک کو بہت صاف ستھرا رکھتا ۔۔۔

اس نے دعا سفر بھی یاد کر لی ۔۔

میں پوچھا کیا یاد کر رہے ہو ۔۔کہنے لگا ماما ۔۔سفر پہ جانے کی دعا۔۔۔

جب بھی گھر سے نکلتا بائیک لے کر دعا پڑھتا سفر کی۔۔

بہت خوش تھا ۔۔گھر اتا ۔۔بائیک کو اچھے سے صاف کرتا۔۔۔

میں اس کو بہت سمجھاتی تھی ۔۔

بابا بھئ اس خے بہت سمجھاتے تھے  بائیک تیز نہیں چلانی۔۔

کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں کرنا۔۔۔

وہ خود بہت سمجھدار تھا۔۔مسکرا کر کہتا بابا ۔۔میں پاگل نہیں ہوں جو ایسا کروں گا۔۔۔

مجھے پتہ ہے بائیک آہستہ چلاتے ہیں۔۔۔

وہ قربانی کے بکرے کے پاس بیٹھ جاتا۔۔اسے ہاتھ سے چارا کھلاتا ۔۔۔

اس سے باتیں کرتا ۔۔۔

پھر مجھے کہتا امی۔۔میرا ایک دوست ہے ۔۔وہ بیچارہ بہت غریب یے  ۔اس بار نا میں گوشت اس کو بھئ دوں گا 

میں مسکرا کر کہا اچھا میرے بچے جس جس کو تیرا دل ہوا دے دینا ۔۔۔

وہ سب کو بتاتا اس بار ہم نے قربانی کرنی ہے ۔۔

بہت جیت خوش ہوتا بکرے کے ساتھ ۔۔ایک دن یوں ہوا میں نے اہنی چھوٹی بیٹی کو ۔۔۔گھر کے پاس دکان ہے وہاں کچھ لینے بیجھا ۔۔جب بیٹے کو پتا چلا تو مجھ سے لڑکے لگا۔ 

بہنا کو کیوں دکان پہ بیجھا میں ہوں نا سارے کام کرنے کے لیئے مجھے کہا کرو ماما اج کے بعد بہنا کو نہ بیجھنا کہیں بھی ۔

پھر عید سے 20 دن پہلے ۔۔اس کا کزن جو اس کا ہم عمر تھا ۔۔وہ ہمارے گھر آیا ۔۔کہنے لگا۔۔آنٹی۔شہزادے کو میرے ساتھ بیجھیں ۔۔ہم پھوپھو کے گھر جانا ہے۔۔میں نے کہا ۔۔بائیک کون چلائے گا  تو کزن کہنے لگا مں خود چلاوں گا  ۔

میں نے کہا جی ٹی روڈ سے دھیان سے جانا ۔۔

وہ مسکرا کر بولا آنٹی تم فکر نہ کرو ہم دھیان سے جائیں گے۔۔

جاتے ہوئے مجھے کہنے لگا  ماما ۔۔اج میرے لیئے آلو والا پراٹھا بنانا میں رات کو گھر  آ کر وہی کھاوں گا  

اس کو بہت بہت پسند تھا آلو پراٹھا۔۔۔

میں  نے دعا دی ۔۔اچھا اللہ خیریت کرے جاو ۔۔دھیان سے جانا ۔۔اور جلدی آ جانا واپس۔۔

وہ تیار ہوا۔۔نئے کپڑے پہنے ۔۔کہنے لگا۔۔آ کر میں نے عید کی شاپنگ بھی کرنے جانا یے ۔۔میں نے دعا دی ۔۔اور رخصت کیا۔۔۔

شام ہونے کو تھی ۔۔میں نے آلو ابالے۔۔اس کے لیے دو پراٹھے تیار کییے اور رکھ دئیے اس کا انتظار کرنے لگی۔۔۔

ادھر۔۔۔اس کا کزن ۔۔۔اس کے دماغ میں شرارت سوجھی۔۔اس نے بائیک پہ ون ویلنگ  شروع کر دی  میرا  بیٹا ڈرا ہوا پیچھے بیٹھا تھا۔۔۔اسے کہہ رہا تھا ایسا نہ کرو  لیکن  کزن بھئ بچہ تھا وہ ایک ٹائر پہ بائیک فل سپیڈ پہ چلا رہا تھا۔۔۔۔

پھر کیا ۔۔۔۔ایک ہوا کا جھونکا آیا۔۔۔

ایک ڈیمپر ٹرک آیا ۔۔۔میرے بچے کو کچل کر چلا گیا ۔۔

کزن تو بچ گئا میرا بچہ میرا لخت جگر ۔۔مجھے تنہا چھوڑ گیا۔۔۔

میں اس کا انتظار کر رہی تھی منڈا ابھی تک آیا نہیں۔۔

پراٹھے ٹھنڈے ہو جائیں گے ۔۔پھر کہے گا ۔گرم کر کے دو۔۔۔

میں اس کا فون ڈائل کر رہی تھی۔۔نمبر بند آ رہا تھا ۔۔اس کئ پھوپھو کو فون کیا۔۔۔پتہ چلا وہ تو وہان گئے ہی نہیں۔۔

میں بہت پریشان ہوئی۔۔دل گھبرانے لگا ۔۔

عجیب عجیب خیال آنے لگے ۔۔

اس کے پاپا کو فون کیا پاپا نے فون نہ اٹھایا۔۔

میں دروازے پہ بیٹھ گئی جا کر۔۔۔میں گلی میں دیکھنے لگی  ننگے پاوں تھی۔۔۔کزن کے گھر گئی پوچھا بچے ابھی تک نہیں آئے۔سب نے کہا ہم بھی پریشان ہیں۔

میں اداس ہو گئی۔۔۔

پھر ۔۔۔۔۔قیامت گزری۔۔۔ایک ایمبولینس ہمارے گھر کے سامنے رکھ آ کر ۔۔۔میرا  بیٹا میرا شہزادہ ۔۔اس کی لاش میرے سامنے تھئ ۔۔۔

وہ مجھے چھوڑ گئا تھا۔۔۔

وہ سو چکا تھا۔۔

میں یقین نہیں کر پا رہی تھئ میں نے مسکرا کر کہا ہائے میرے لعل بنا کھانا کھائے سو گئا ۔

اٹھ میں تیرے لیئے پراٹھے گرم کر کے لاتی ہوں

میں کچن میں گئی پراٹھے گرم کر لے لائی ۔۔سب میری طرف دیکھ رہے تھے۔۔میں نے اپنے شہزادے کو بہت آواز دی ۔۔شہزادے اٹھ نا ۔۔کھانا کھا لے۔۔بھوکے تم کو نیند بھی نہیں آتی ۔۔اتھ جا۔۔۔

میری دہائی وہ نہیں سن رہا تھا۔۔۔

وہ اپنی ماں سے بات نہیں کر رہا تھا ۔۔۔وہ ہمیشہ کے لیئے سو گیا تھا 

میں بلک بلک کر روتی رہی۔۔۔۔

اسے اللہ کے واسطے دیتی رہی اٹھ جا۔۔۔وہ میری ایک نا سن رہا تھا۔۔

پھر میرے سامنے اسے منوں مٹی تلے دفنا ائے۔۔

میں اس کی ایک ایک چیز کو سینے لگائے رو رہی ہوں 

وہ میرے دل کا سکون تھا ۔۔۔

فارس سر ایک اور بات بتاوں آپ کو اس کی۔۔

وہ آپ کی کہانیاں پڑھا کرتا تھا ۔۔

میرے پاس بیٹھ جاتا ۔۔۔پھر مجھے آپ کی کہانیاں سنایا کرتا تھا ۔۔وہ کہانی پڑھتے پڑھتے رونے لگتا ۔۔میں بھی آپ کی کہانی سن  کر رونے لگتی۔۔پھر وہ کہتا امی ۔۔فارس چاچو کیسے ہوں گے ۔۔کیسے یہ سب لکھ لیتے ہیں۔۔

میں اسے سمجھاتی۔۔دیکھو فارس چاچو۔۔ذندگی کو کتنے پیار سے سمجھاتے ہیں۔۔۔

لیکن وہ اداس ہو جاتا۔۔مجھے کہتا۔۔

ماما ۔۔فارس چاچو کو اتنے میسج کرتا ہوں وہ میرے میسج کا جواب ہی نہیں دیتے میں ان سے ملنے جاوں گا۔۔

اسے نے آپ کو نہ جانے کتنی آئی ڈی سے میسج کیئے تھے ۔۔۔

لیکن آپ نے اس کے کسی ایک میسج کا بھی جواب نہیں دیا تھا۔۔وہ آپ کو پڑھتا تھا ۔۔آپ سے ملنا چاہتا تھا آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

لیکن آپ نے کبھی اس کی زندگی میں میسج کا ریپلائی نہیں دیا تھا ۔۔اج دیکھو نا فارس سر۔۔

وہ اس دنیا میں  نہیں ہے اور آپ نے بھی میسج کر ریپلائی کر دیا۔۔۔۔

وہ اج زندہ ہوتا تو کتنا خوش ہوتا ۔۔

میری آنکھ نم ہوئی۔۔میں  نے معافی مانگی ۔۔۔

مجھے سیکنڑوں لوگ میسج کرتے ہیں میں ہر کسی سے بات نہیں کر سکتا۔۔۔

میں نے اس کے نام کی سب آئی ڈی دیکھی اس نے نہ جانے کتنے میسجز کیئے ہوئے تھے فارس چاچو آئی لو یو ۔فارس چاچو آپ بہت اچھے ہیں۔۔

میری آنکھ نم تھی ۔۔

اس کی ماں ۔۔اپنے بیٹے کی قبر پہ بیٹھی تھی۔۔۔

میرے لاڈلے باہر آ جا۔۔

دیکھ آج تیرے سر فارس نے میسج کا جواب دے دیا ہے ۔باہر۔آ اللہ کے لیئے باہر آ جا  ۔قبر سے

۔دیکھ نا تیرے فارس سے بات کر ہی ہوں ۔۔

ا نا توں بھئ بات کر نا ا آکر۔۔۔

فارس سر۔۔میں سارا دن قبر کے پاس بیٹھی آپ کی آنے والی نئی کہانی اسے پڑھ کر سنائی ہوں۔۔۔

اسے کہتی ہوں ۔۔واپس لوٹ آ۔۔۔۔اب اپ یوٹیوب پہ کہانی دیتے ہیں میں اسے آپ کی آواز بھی سناتی ہوں ۔

وہ میری ایک بھی نہیں سنتا ۔۔

وہ اب لوٹ کر آتا ہی نہیں۔۔

میں بہت پچھتاتی ہوں ۔۔میں کیوں کمزور ہو گئی تھی۔۔میں  نے کیوں اس کی بات مان لی تھی۔۔وہ تو بچہ تھا نا ۔۔میں۔نے کیوں اس کو بائیک لے کر دی۔۔میں کیوں اس کی باتوں میں آ گئی۔۔میں اس کی ضد کے سامنے نہ جھکتی تو۔۔وہ اج میرے ساتھ ہوتا ۔

میں سب ماں باپ سے ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں ۔۔۔

اپنے چھوٹے بچوں کو  بائیک نہ لے کر دیا کریں ۔۔اب کا خیال رکھا کریں ۔۔بچے ناداں ہوتے ہیں  

وہ عقل سمجھ نہیں رکھتے وہ تو ناسمجھ ہوتے ہیں 


خدارا خدارا ۔۔۔اہنے بچوں کی کسی ایسی ضد کے سامنے کمزور  نہ پڑیں جس پہ بعد میں آپ کو پچھتانا پڑے

جیسے اج میں تڑپ رہی ہوں پچھتا رہی ہوں 

کاش میں نہ مانتی بیٹے کی بات۔۔۔

سب ماں باپ سے ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں ۔۔۔

اپنے نا سمجھ بیٹوں کو اکیلے نہ بیجھا کریں بائیک دے کر۔۔ابا کا خیال رکھا کریں ۔۔۔

میرے بیٹے کے لیئے دعا کرنا۔۔۔۔


فارس ۔۔۔اتنا کہے گا ۔۔اس بہن کی فریاد سن لیں۔۔اور اپنے بچوں کے لیئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کریں۔۔کے بعد میں اس بہن کی طرح پچھتانا پڑے

زندگی موت تو اللہ کی رضا سے ہے۔۔لیکن ۔۔اللہ نے سوچنے سمجھنے اچھے برے کی پہچان بھی ہم کو عطا کی ہے 

پچھتانے سے بہتر ہے سمجھداری سے کام۔لیا جائے۔۔



Post a Comment

0 Comments