Urdu Kahani Raksha Wala | sucess story of Auto drivar in urdu | urdu kahani in urdu fount

 رکشہ والےکےبیٹےسےسیشن جج تک

ہارا ہوا ہر انسان ضرور پڑھے

جن کے حوصلے بلند ہوںوہ کبھی ہار نہیں سکتے۔حالات چاہے کیسے بھی۔۔۔مقام چاہے کوئی بھی ہوجن کو منزل تک پہنچنا ہووہ کانٹوں پہ بھی چلتے ہیں۔وہ سلگتے کوئلوں سے گزر جاتے ہیں وہ پہاڑ کو چیر کو راستہ بنا لیتے ہیں ابو جان میں پہلی پوزیشن پہ آیا ہوں۔یہ دیکھو سکول والوں نے کپ دیا ہے مجھےہاشم بہت خوش تھا۔باپ رکشہ چلاتا تھا۔۔۔بلکل ان پڑھ ۔اپنا نام بھی لکھنا نہیں جانتا تھا باپ مسکرانے لگا ہاشم کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔تھپکی دی پھر۔۔۔ماتھے پہ بوسہ کیاجا اپنی ماں کو بھی بتا جا کرماں کو آواز دی لیکن امی تو ابھی تک گھر ہی نہں آئی ہاشم کی ماں ایک ہسپتال میں صاف صفائی کیا کرتی تھی ماں  گھر آئی۔ہاشم دوڑ کر ماں سے لپٹ گیا امی میں پہلی پوزیشن پہ آیا ہوں ماں بہت خوش ہوئی دعائیں دینے لگی ہاشم پڑھائی کے لحاظ سے بہت قابل تھا یوں کہہ لیں وہ کم عمری میں ہی بڑی بڑی باتیں کرنے لگا تھا۔۔۔

Read This Urdu Kahani   اردو سچی کہانی جان سے جان کو کون جدا کر پاتا ہے

لیکن اسے سرکاری سکول میں۔۔۔۔۔اس معیار کی تعلیم نہیں مل۔رہی تھی جیسا وہ چاہتا تھا۔۔۔

سکول میں وہ دیکھتا ماسٹر صاحب کوئی اتنی فکر نہ کرتے تھے۔۔۔

سرکاری سکول میں پڑھائی کے ناقص کارکردگی تھی۔۔۔۔

بچہ پڑھائی کرتا تو ٹھیک نہ کرے تو  ار ڈنڈے مار دیئے ۔۔۔

لیکن  ہاشم ۔۔۔کو ایسی نہں چلنا تھا ۔۔۔اس کی سوچ غلامی سی نہیں تھی  ۔۔۔

ایک دن کہنے لگا ۔۔ابو ۔۔مجھے پروئیوٹ سکول میں پڑھنا ہے۔۔۔

باپ مسکرا کر بولا۔۔۔پتر ہم غریب لوگ ہیں نہیں پڑھ سکتے اتنے مہنگے سکول میں۔۔۔۔

لیکن ۔۔۔ہاشم بضد تھا۔۔۔۔

اور جس سکول میں پڑھنے کی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔اس سکول  میں تو شہر کے نامور امیروں تاجروں اور وزیروں مشیروں کے بچے پڑھتے تھے۔۔۔۔

ہاشم اسی سکول میں پڑھنا چاہتا تھا۔۔۔۔

لیکن ۔۔۔کیسے باپ تو رکشہ چلاتا تھا ۔۔اور ماں ہسپتال میں خاکروب تھی۔۔۔۔

باپ سے بار  بار   ضد کرتا ۔۔۔مجھے اس سکول میں داخل کروائیں۔۔۔

بابا نے ۔۔۔۔سوچا ۔۔میرے بیٹے کی تعریفیں سب کرتے ہیں۔۔۔میرا بیٹا قابل ہے ذہین ہے۔۔۔۔

اور انشاءاللہ  پڑھ لکھ کر بڑا انسان بنے گا۔۔۔

کون باپ اپنی اولاد کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔۔

بابا نے کچھ پیسے جمع کر رکھے تھے۔۔۔

ہاشم ۔۔۔آٹھویں جماعت پاس کر چکا تھا۔۔۔

اب میٹرک وہ اسی سکول سے پاس کرنا چاہتا تھا۔۔۔

آٹھویں جماعت اس نے ضلع بھر میں ٹاپ کیا تھا۔۔۔۔

باپ ہاشم کو لیئے ۔اس امیر لوگوں کے سکول پہنچ گیا۔۔۔

سیکورٹی گارڈ نے پوچھا۔۔۔کہاں جانا ہے۔۔۔بابا جی۔۔۔

Read This Urdu Kahani  اردو سچی کہانی گرہیں اب باقی ہیں 

وہاں بڑی بڑی  کاریں تھیں ۔۔۔

ہاشم کے بابا نے رکشہ پارک کیا۔۔۔۔

سب حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔۔

سیکورٹی گارڈ نے پوچھا کہاں جانا ہے ۔۔۔تو بابا آہستہ سے بولے میں نے اپنے پتر کا داخلہ کروانا ہے ۔۔۔

سکیورٹی گارڈ نے ہاشم اور اس کے بابا کی جانب دیکھا۔۔۔اور۔۔مسکرا کر بولا بابا جی لگتا آپ غلط سکول آئے ہو۔۔۔یہاں آپ کا بچہ نہیں پڑھ سکے گا۔۔۔

خیر سکیورٹی گارڈ نے اندر بیجھ  دیا۔۔۔۔۔

سکول اندر سے کسی پارک سے کم نہ تھا ۔۔خوبصورتی تھی۔۔صاف صفائی۔۔۔۔

ہاشم بہت متاثر ہوا۔۔۔۔

جب پرنسپل نے بلایا۔۔۔تو بابا پرانے سے کپڑے پہنے۔۔۔۔

ہاشم  کا ہاتھ تھامے آفس میں داخل ہوئے ۔۔۔

پرنسپل میڈم حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔

بیٹھ جائیں ۔۔جی بزرگو۔۔۔کیسے آنا ہوا۔۔۔

ہاشم کے ابا ۔۔آہستہ سے بولے ۔۔۔میڈم جی میں اپنے پتر کا داخلہ اس سکول میں کروانا چاہتا ہوں۔۔۔

میڈم۔۔۔مسکرانے لگی۔۔۔بھائی صاحب  آپ کیا جاب کرتے ہیں کام کاج کیا یے آپ کا۔

بابا آہستہ سے بولے میرے نام ۔۔۔بشیر ہے   میں رکشہ چلاتا ہوں   ۔اور یہ میرا پتر ہاشم۔۔۔جو پڑھائی میں بہت تیز ہے اس کا خواب ہے اس سکول میں پڑھنا۔۔۔۔

میڈم مسکر کو بولی۔۔۔آپ اس سکول کے بارے جانتے ہیں کیا۔۔

بشیر آہستہ سے بولا میڈم جی بس اتنا جانتا ہوں۔۔یہاں پڑھنے والے بچے۔۔۔کامیاب ہوتے ہیں۔۔۔۔

میڈم بولی۔۔۔اس کے علاوہ آپ کیا جانتے ہیں۔۔۔

بشیر چپ ہو گیا۔۔۔۔

میڈم نے آہستہ سے بتایا یہاں کی ایڈمیشن فیس ۔۔۔5 لاکھ ہے ۔۔۔اور پھر سالانہ فیس ۔۔۔۔4 لاکھ روپے۔۔کیا آپ اتنی فیس 

ادا کر سکتے ہیں۔۔۔بشیر نے سر جھکا لیا۔۔۔میڈم آپ میرے پتر کو داخلہ دے دیں ۔۔۔میں فیس کا انتظام کر لوں ۔۔

میڈم۔۔۔بشیر کی جانب دیکھ کر بولی ۔کل آپ کے بیٹے کا انٹرویو کیا جائے گا  ۔۔۔جس کے بعد  ۔ہم فیصلہ کریں گے داخلہ دینا ہے یا نہیں آپ ابھی جائیں 

اتنے میں وائس پرنسپل آیا ۔۔کون تھا یہ ۔۔

میڈم نے بتایا۔۔۔رکشہ چلاتا یے کہتا ہے اہنے بیٹے کو یہاں پڑھانا چاہتا یے   

وائس پرنسپل قہقہ لگا کر ہنسا۔۔

کیسے کیسے لوگ ہیں دنیا میں آٹو والا اب اپنے بیٹے کو۔۔۔یہاں پڑھائے گا    

ویسے بھی اس سکول کا اصول ہے۔۔کوئی غریب بچہ یہاں نہں پڑھ سکتا۔۔

یہ سکول صرف امیروں کا ہے ۔۔

کسی چائے والے کا تندور والے کا رکشہ والے کا بچہ نہیں پڑھ سکتا یہاں ۔۔۔

خیر۔   بشیر بہت پریشان  تھا۔۔۔اتنے پیسے کہاں سے لاوں  میں اہنے ہاشم کو ہر حال میں پڑھانا چاہتا ہوں کسی مقام پہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔

Read This Urdu Kahani  اردو سچی کہانی خواب حقیقت بھی ہو جائیں گے

ہاشم ۔۔۔محسوس کر رہا تھا ابو کی پریشانی۔۔۔

ہاشم خاموش تھا۔۔۔ابو نے پریشانی کی وجہ سے کھانا بھی نہیں کھایا۔۔تھا۔۔

دوسرے دن بشیر بیٹے کو ساتھ لیئے  ۔سکول پہنچ گئا۔۔۔

انٹرویو کرنے والی ٹیم بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔

انھوں۔۔۔مختلف۔۔سوالات کیے  ۔ہر مشکل سے مشکل سوال کییے ۔

لیکن ہاشم ہر سوال کا جواب دیتا رہا  

سب کافی متاثر ہو رہے تھے ۔۔۔

حیران تھا اتنا قابل اتنا ذہین بچہ۔۔۔۔

انٹرویو پاس کر لیا۔۔۔لیکن وائس پرنسپل بولا۔۔۔

ہم کیسے۔۔۔کیس رکشہ والے کے بیٹے کو سکول میں داخلہ دے سکتے ہیں۔۔۔۔

یہ ناممکن ہیں۔۔۔یہاں بڑے لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں وہ اپنی توہین سمجھیں گے  ایک رکشہ والا کا بچہ یہاں پڑھے۔سب نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔بلکل درست کہہ رہے ہیں۔۔۔

لیکن پرنسپل میڈم نے کہا ۔۔بچہ قابل ہے۔۔۔سکول کا نام روشن کرے گا  ۔۔

وہ یہ باتیں کر رہے تھے کے ہاشم۔۔۔مسکرا کر بولا۔۔۔۔

آپ سب کو آپ کی مقام آپ کی امیری مبارک ہو   ۔۔۔

محنت میں نے کرنی ہے اور صلہ اللہ پاک نے عطا کرنا ہے۔۔۔

ہاشم اٹھا سلام کیا اور چل دیا۔۔۔

چھوٹا سا بچہ بہت بڑی بات کر گیا تھا۔۔

ہاشم ابو کے سینے لگ کر رونے لگا۔۔ابو جان آپ پریشان نہ ہوں۔ ہم کو اتنےبڑے سکول میں پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں یے یہاں انسان سے زیادہ پیسے کو اہمیت دی جاتی ہو۔۔۔

بشیر مسکرایا۔۔بیٹا۔۔جیسے تم کو اچھا لگےمیں ٹھہرا ان پڑھ مجھے کیا پتہ۔۔۔

ہاشم ۔۔۔واپس سرکاری سکول میں داخل ہو گیا۔۔۔

باپ دن رات محنت کرتا ماں ۔۔۔خاکروب بن کر ۔۔ہسپتال میں جگنو پونچھا کرتی۔۔۔۔

ہاشم نے میٹرک میں ٹاپ کیا۔۔۔پھر ایف ایس سی۔۔۔

اور ہھر وکالت میں داخلہ لے لیا۔۔

ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا ۔۔۔۔۔۔

بشیر نے اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا ہاشم کی خاطر۔۔۔

بشیر اب بوڑھا ہو چکا تھا۔۔۔۔

ہاشم۔۔۔محنت  کرتا رہا۔۔۔۔وہ جانتا تھا ۔۔۔محنت کرنے والوں کو اللہ پاک کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔۔۔

ہوا کچھ یوں بھی تھا  ۔کے سب رشتہ بھی چھوڑ گئے تھے غریب سمجھ کر۔۔۔کوئی منہ نہ لگاتا تھا ان کو۔۔۔

ہاشم کی ماں ۔۔50 سال کی ہو چکی تھی اج بھی وہ وہ ہاتھ میں جھاڑو لیئے۔۔۔صفائی کرتی تھی ہسپتال میں ۔۔۔

اور پھر۔۔۔۔۔وہ دن آیا۔۔۔۔۔ہاشم۔۔۔وکیل بن گیا۔۔۔۔۔

Read This Urdu Kahani  اردو سچی کہانی نازک لڑکی

اور پھر۔۔۔۔وکالت کے بعد مزید محنت کی اور ۔۔۔۔۔۔سیشن جج  کے عہدے پہ فائز ہو گیا۔۔۔۔۔

اصل کامیابی کا دن تو وہ۔۔۔۔۔جب۔۔۔سب رشتے دار منہ موڑ گئے تھے۔۔۔۔

جب کوئی ان سے بات کرنا گوارہ نہ کرتا تھا۔۔۔جب کسی کا بیٹا دبئی جاب کر رہا تھا اور کسی کا  امریکہ۔۔۔

اس لمحے ۔۔۔ایک 50 سال کی بوڑھیا۔۔۔ایک 55 سال کا بابا بزرگ۔۔۔پرانے سے کپڑے پہنے ۔۔۔اہنے بیٹے کی جج بننے کی خوشی میں ایک تقریب میں موجود تھے۔۔۔شہر کے بڑے بڑے آفیسر مبارک باد دے رہے۔تھے۔۔۔

بشیر کی آنکھوں میں آنسو تھے  ۔اہنے رکشے کے پاس کھڑا رو رہا تھا۔۔۔۔۔جسم میں تھکن تھی۔۔۔۔بوڑھی ماں۔۔۔زمین پہ بیٹھی ۔۔۔۔جھاڑو دیتے دیتے جو تھک گئی تھئ۔۔۔اج بیٹا جج بن گئا۔۔۔۔

ہاشم نے امی ابو کا ہاتھ پکڑا۔اسٹیج پہ لے گیا۔۔۔۔سب لوگ تالیان بجانے لگے ۔۔۔۔اور دوسرے دن ۔۔۔ہاشم کے ساتھ امی ابو کی فوٹو اخبار میں بھئ ا چکی تھی۔۔۔

سیشن جج مسٹر ہاشم صاحب اپنے والدین کے ساتھ۔۔۔۔خوشگوار لمحات میں۔۔۔

پھر۔۔۔یوں۔۔۔ہوا۔۔۔۔ایک بزرگ ۔۔۔۔چہرے پہ زخموں کے نشان تھے  ۔۔۔ایک وکیل۔۔۔ہاشم سے کہنے لگا جج صاحب ۔۔۔امریکن سکول کے چیرمین اور وائس پرنسپل صاحب ۔۔۔۔ان کے بیٹوں نے جائیداد تو باپ سے زبردستی اپنے نام کروا لی ہے لیکن اب ان کے بچے ان کو ساتھ رکھنے کے لیئے تیار نہیں ہیں ۔۔۔یہ چاہتے ہیں۔۔۔اب کو انصاف دیا جائے۔۔۔

ہاشم نے جب اس بوڑھے کی جانب دیکھا۔۔۔تو اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

اس بوڑھے کے قریب آیا ۔۔۔

بابا جی کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں میں کون ہوں  ۔۔

وہ بزرگ انکار میں سر ہلا کر بولا۔۔۔۔نہیں جانتا ۔۔۔

اتنے میں ہاشم کے ابا کا فون آیا۔۔۔پتر میں تیری عدالت کے باہر بیٹھا ہوں ڈاکٹر کے پاس جانا ہے میں انتظار کر رہا ہوں    ۔۔

ہاشم نے ابو کے عدالت کے اندر آنے کا کہا ۔۔

پھر اس بزرگ سے مخاطب ہوا۔۔۔

سر جی آپ امریکن سکول کے وائس پرنسپل اور مالک۔۔۔۔

یاد کریں ۔۔۔اج سے13 سال پہلے ایک بچہ ایا تھا جس کا باپ رکشہ چلاتا تھا۔۔۔۔اس بچے نے انٹرویو کے دوران ہر سوال کا جواب دیا۔۔۔لیکن آپ نے یہ کہہ کر اسے داخلہ نہ دیا۔۔۔کے اس سکول میں امیروں کے بچے پڑھتے ہیں اور کسی رکشہ والا کا بچہ یہاں پڑھے یہ ہماری توہین ہے۔۔۔

اور نے اس بچے کو داخلہ نہیں دیا تھا۔۔۔

جانتے ہو وہ بچہ کون ہے ۔۔

وہ آپ کے سامنے کھڑا ۔۔۔سیشن جج ہاشم۔۔۔۔

اور وہ جو بوڑھا سامنے سے چلتا ہے ا رہا ہے نا جسے آپ نے جاہل کہا تھا۔۔۔۔اور بہت باتیں سنائی تھیں وہ سیشن جج کا ابو ہے۔۔۔بشیر صاحب۔۔۔۔۔

اب میں آپ سے کیا کہوں

۔ہم۔کو جاہل کہنے والا ۔۔۔۔ایک جاہل کے سامنے رو رہا ہے۔کے میرے بچوں نے سب کچھ چھین لیا۔۔۔مجھے اہنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے۔۔۔۔۔

آپ کے بچے تو اسی سکول میں پڑھتے تھے نا ۔۔سنا ہے ایک بیٹا آپ کا پولیس میں ہے۔ جو آپ سے ملنے ہی نہیں اتا۔۔اور دوسرا۔۔۔کسی محکمے میں کلرک ہے۔۔۔

وائس پرنسپل۔۔۔۔رونے لگا ۔۔۔

ہاشم نے۔۔۔بزرگ کے آنسو صاف کیئے۔اور پیار سے بولا۔۔۔میرا مقصد آپ کو طعنہ دینا یا نیچا دکھانا نہیں تھا  ۔۔بس میں اتنا کہنا چاہتا ہوں  ۔۔مجھےلگتا تھا۔۔۔بڑے اور مہنگے سکول میں ہی پڑھ کر کامیابی مل سکتی ہے۔۔۔

جبکہ میں غلط تھا ۔۔۔

محنت کرنے والوں کے لیے سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔۔۔

میرے ابو میری امی ساری زندگی ۔۔۔محنت کرتے رہے۔۔۔سب لوگ ہمارا ساتھ چھوڑ گئے۔۔ہماری غریبی کا مذاق اڑایا گیا۔۔۔

مجھے غربت کی وجہ سے اچھے سکول۔میں داخلہ نہ ملا۔۔۔میں اپنی منزل کی جانب رواں رہا۔۔۔۔میں نے دن رات محنت کی۔۔۔میں کبھی ہار نہیں مانی۔۔۔میں حالات سے لڑتا رہا۔۔۔۔

اور اللہ نے میری محنت کا صلہ دیا۔۔۔۔اور اج میں الحمدللہ سیشن جج ہوں۔۔۔

کیا فرق پڑتا ہے اپ سرکاری سکول میں پڑھ رہے ہیں یا کسی مہنگے انگلش میڈیم میں۔۔۔پڑھنا آپ کو ہے۔۔۔محنت آپ نے کرنی یے۔۔۔۔۔

وائس پرنسپل جو آج اولاد کے ہاتھوں خوار ہو رہا تھا۔۔۔اسے اہنی غلطی پہ شرمندگی تھی ۔۔میں نے اہنی اولاد کو ۔۔۔انگلش کلچر سکھاتے سکھاتے انسانیت سکھانا بھول گیا تھا۔۔۔

Read This Urdu Kahani  اردو سچی کہانی  ہرکسی کو یہ دلدار ملتا نہیں

دوسری جانب سیشن جج ہاشم صاحب اپنے بوڑھے باپ کا ہاتھ تھامے۔۔۔اہنے کار کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔۔

فارس اتنا کہے گا ۔۔۔حالات کیسے بھی ہوں کوئی آپ کے بارے کچھ بھی سوچے۔۔سب ساتھ چھوڑ جائیں پھر بھی خود کو مضبوط رکھو۔۔۔اور ۔۔۔۔کامیاب ہو کر۔۔۔سب کو بتا دو ۔۔اللہ ساتھ ہو تو۔۔۔کوئی ہرا نہیں سکتا   ۔فارس کو پڑھنے والاا۔۔اگر کوئی۔زندگی سے ہار چکا ہے تو    اٹھیں اور ۔۔ہمت کریں ۔۔اللہ پہ یقین رکھیں۔۔۔بس تھوڑی سی ہمت کامیابی آپ کا مقدر بن جائے گئ۔۔۔

آپ پہ ہنسنے والے آپ کی تعریفیں کرنے لگیں گے بس۔۔۔۔خود کو تھوڑا سا مضبوط کریں۔۔۔

ایسے نہ بنو کے تم کسی سے مل کر فخر محسوس کرو  بلکہ خود کو ایسا بناو کے لوگ تم سے مل کر فخر محسوس کریں ۔۔۔۔



Post a Comment

0 Comments