urdu kahani urdu story | urdu kahaniyan sachi kahaniyan

 



دروازہ کھولو شہرین ۔باہر سورج آگ برسا رہا تھایہ ایک بڑا گھر تھا جس کے تین حصے تھے گھر کے بیچ کی گیلری ان تینوں مکینوں کو جوڑے رکھتی تھی اس کے دونوں تایا ان دو پورشن میں رہتے تھے اور شہرین کیماں کے حصے میں 2 مرلے کا پورشن آیا تھاجو کہ ایک کمراہایک سٹور اور کچن ایک شیڈ بنا کر جگہ دے دی گئی تھی ۔


شہرین میری دھی دروازہ کھول ۔اماں نے زور سے کنڈی کھٹکٹاتے ہوئے زور سے آواز دی شہرین کا ایک بھائی چھوٹا تھا اور ایک بہن زرین بی جو کہ آٹھویں کلاس میں پڑھتی تھی اور شہرین بی اے کی سٹوڈنٹ تھی۔اس نے اماں کی آواز سنتے ہی بھاگ کر دروازہ کھولا باہر اماں پسینے سے بھیگی کھڑی تھی اس نے بھاگ کر روح افزاءکا شربت برف ڈال کر گلاس اماں کو پکڑا یا جسے اماں نے ایک ہی سانس میں ہی خالی کر دیا۔ 


اف اللہ غصب خدا کا اتنی گرمی ہے باہر سمجھو جہنم آگ برسارہی ہے ۔اماں نے شربت کے اوپر ایک ٹھنڈا پانی غٹاغٹ چڑھالیا۔


تو اماں کس نے کہا تھا کہ ابا کی پنشن آتے ہی بازار سے سودا لینے چلی جاؤ تھوڑ اٹھنڈا ٹائم   ہونے کا انتظار کر لیتیں ابا تو اوپر چلےگئے ۔یہ نہ سوچا کہ پیچھے ان کےبچے اور بیوی کیا کریں گی۔شہرین بغیر سوچے سمجھے بولنا شروع  ہو گئی۔


پتر تجھے خدا کا واسطہ خدا کا بندہ تھا اس نے واپس لے لیا مجھے تو تمہاری دماغی حالت پر شبہ ہونے لگ پڑا ہے۔کون ہے ہمارا کرنے والا چھوٹا بھائی جو چار سال کا ہے ہا وہ تمہارے تایا زاد جن کو کبھی فرصت نہیں ملی کہ چھوٹے چچا کی اولاد کی کوئی ضرورت ہی پوچھ لیں۔


شہرین کے دونوں تایازاد ظفر اور اجمل تھے بڑے تایا جن کا نام اکرم تھا وہ سرکاری نوکری پر تھےانہیں جو حصے میں 2 مرلے ملے تھے اس میں 5 مرلے کا ساتھ والا گھر خرید کر ملا کر بہت اچھا گھر سیٹ کر لیا تھا ان کی ایک  بیٹی جو کہ بڑی مغرور اور نک چڑھی تھی کالج کی اسٹوڈنٹ تھی ایم اے کر رہی تھی۔



اور دوسرا بیٹا ظفر جو کہ ایک پرائیویٹ جاب کر رہا تھا اور دوسرے تایا جن کا نام اضغر تھا انکے دو بیٹے تھے ایک ایف اے کر کے کویت چلا گیا اور دوسرا بیٹا اجمل تھا جو کہ میٹرک کا طالب علم تھا۔ تایا کی بازار میں ایک پنساری کی دکان تھی جو کہ خوب چلتی تھی مگر شہرین کے بابا سرکاری دفتر میں ملازم تھے ان کی ہارٹاٹیک ہونے سے ہو گئی اب ان کی پنشن ان کی بیوہ کو ملتی تھی شہرین کی والدہ جیسے تیسے کھینچ کر گزر بسر کرتیں تھیں ۔


اماں آخر کار اٹھکر بڑبڑ آتی برامدے میں چلی آئیں اور گھر گھر کی آواز سے پیڈسٹل فین چلنے لگا۔


وقت پر لگا کر اڑنے لگا وقت کا کام گزر ہی جانا ہے شہرین نےبی اےکر لیا اور ایک پرائیویٹ اسکول  میں جاب کرنے لگی زرین بھی اب میٹرک کر لیا اور کالج جانے لگی ۔


یہ بھی لازمی پڑھیں تھوڑی سی زندگی


اچانک ایک رات اماں کی طبعیت خراب ہو گئی شہرین نے بھاگ کر تایا اکرم کا دروازہ بجایا رات کے تین بجے انھوں نے دروازہ نہ کھولا تو شہرین بھاگ کر دوسرے تایا کے گھر گئے جو نیند میں تھے اس نے زور سے دروازہ بجا یا تو انھوں نے کھول دیا۔کیا ہوا ہے اتنی رات کو اتنی زور سے دروازہ بجایا تم نے ۔وہ باہر نکلتے ہی زور سے دھاڑے۔


وہ وہ اماں کی طبعیت خراب ہو گئی ہے ۔شہرین نے زارو قطار روتے ہوئے کہا۔


لو جی اچھی بھلی تھی تمھاری اماں کو کیا ہو گیا بھائی خود تو گیا  پیچھے مصیبت چھوڑگیا۔وہ بڑبڑاتے ہوئے شہرین کے پیچھے گئے جب کمرے میں آئے تو اماں بے خوش تھیں انھوں نے اجمل کو بلوا کر گاڑی میں لتا کر ہاسپٹل لے آئے۔


آپ کی اماں کو دل کا دورا پڑا ہے ڈاکٹر نے ایمرجنسی روم سے باہر آتے ہوئے کہا ۔


پلیز ڈاکٹر صاحب میری اماں کوبچالیں کچھ بھی کر کے شہرین کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔


انشااللہ آپ دعا کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ڈاکٹر نے شہرین کو تسلی دی اس تایا نے اس کے سر پر ہاتھ بھی نہیں پھیرا اور اجمل کو بٹھا کر چلے گئے کہ میری طبعیت خود ٹھیک نہیں  ہے ۔اجمل جو کہ اب ایف اے  کر کےایک پرائیویٹ جاب کر رہا تھا اس نے کہا۔


شہرین آپی چچی ٹھیک ہو جائیں گی آپ خود کو سنبھالیں ورنہ زرین اور علی کا کیا ہو گا اگر پیسوں کی ضرورت ہے تو آپ مجھ سے لےلیں ۔شہرین نے کہا۔


شکریا بھائی آپ نے اتنا کہہ دیا  بہت ہے ابا کی پنشن اور میری تنخوا کے کچھ پیسے  پڑےہیں ابھی ضرورت نہیں ۔


انتظار کرتے کرتے صبح ہو گئی کہ اچانک ڈاکٹر نے نکلتےہوئے کہا ۔



آپ کی امی کا آپریشن کرنا پڑے گا سرجری کرنی پڑے گی اس کے لیے دس لاکھ روپے لگیں گے ورنہ آپ اپنی اماں کو لے جائیں ان کا دل بہت کمزور ہو چکا ہے۔


شہرین نے گھبرا کر اجمل کی طرف دیکھا  کہ دس لاکھ کہاں سے آئیں گے ان کے دو مرحلے ہیں ان کو بیچ کر بھی اتنےپیسے نہیں ملیں گے اس نے اجمل سے کہا ۔


مجھے گھر لے چلو گھر جاکر شہرین نے دونوں تایا کی منت سماجت کی کہ آپ یہ پورشن اپنے نام کروا لیں اور اماں کے علاج کے لیے پیسے دے دیں ۔


یہ بھی لازمی پڑھیں نا قابل معافی 


تم کو تو ہے کہ میرا سارا پیسہ گھر پر لگ چکا ہے برے تایا نے فوری کورا جواب دیا تو چھوٹے تایا کیسے پیچھے رہتے انہوں نے جواب دیا ۔


مین نے اپنا سارا پیساافضل پر لگا کر اسے کویت بھجوایا ہے ۔شہرین کی التجا کو سب نے نظرانداز کردیا تو شہرین نے عجیب سی نظروں سے ان کو دیکھ کر اجمل کے ساتھ ہاسپٹل چلی آئی ۔


میرے ذہن میں ایک خیال آرہا ہے کیوں نہ افضل بھائی سے رابطہ کروں اب تو انہوں نے کافی پیسہ کمالیا ہو گا ۔اجمل نے کچھ سوچتے ہوئے شہرین سے کہا۔


جب کوئی کام نہ آیا تو وہ کیا کام آئیں گے  ۔شہرین نے بے اعتباری سے کہا لیکن اجمل نے افضل سے رابطہ کر کے ساری بات بتائی ۔


مبارک ہو شہرین آپی افضل بھائی پیسے بھیج رہے ہیں کل تک پہنچ جائیں گے ۔اجمل نے کہا ۔کیاکیاکہہ رہے ہو تم ؟شہرین آنسو پیتے ہوئے بولی۔


ڈاکٹر صا حب میری اماں کا آپریشن شروع کریں اڈوانس میں 2لاکھ جمع کروا رہی ہوں باقی انشاللہ کل تک دے دوں گی اماں کا آپر یشن ٹھیک ہو گیا اب وہ ہوش میں تھیں  ۔


میرے علاج کے پیسے کس نے دیے ؟اماں نے شہرین سے پوچھا جو کہ اماں کے ہوش میں آنے کا سن کر کمرے میں آئی تھی۔


اماں دیکھا اللہ نے کیسی مدد کی آپ کی افضل بھائی نے پیسے بھیجے ہیں۔شہرین نے اماں کو جواب دیا اماں افضل کو دعائیں دینا شروع کر دیں اگلے دن اماں کو ڈسچارج کر دیا گیا ۔جب وہ گھر آکر خوشدلی سے ملیں۔اجمل اور شہریننے پیسوں کاذکر کسی سے نہیں کیا ۔


ایک رات زور سے چیخوں پکار سے شہریناور اس کی ماں کی آنکھ کھلی تو وہ  بھاگ کر  باہر آئیں تو دیکھتی ہیں کہ تایا اکرم کے  گھر آگ لگ گئی بجلی کی تاروں کے سرکٹ سے پورا گھر جل کر راکھ ہو گیا مگر                                            شکر ہے کہ تایا تائی اور سارہ  کی جان بچ گئی  تایا کے دونوں ہاتھ جھلس گئے تھے ان کو شہرین کی اماں نے اپنے پورشن میں لے آئیں۔



جب تک گھر ددبارہ نہیں بن جاتا آپ ادھر رہیں۔ 


مجھے معاف کر دو سکینہ میں دن رات حسد کی آگ میں جلتا رہا تمھاری کوئی مدد نہ کی تو خدا نے میرے ساتھ کیا کیا ۔بڑے تایا معافیاں مانگنے لگے۔آپ ایسا کہہ کر مجھے شرمندہ نہ کریں یہ آپ کا ہی تو گھر ہے۔ شہرین کی اماں نے جواب دیا ۔پھر دوسرے تایا کی فیملی بھی آگئی اور ہاتھ جوڑ کر کہا ۔


مکافات عمل ہے اگر ہم کسی کے کام نہ آئیں تو کل ہمارے کام بھی نہیں آئے گا ۔ہم آج افضل کےلیے شہرین کا ہاتھ مانگتے ہیں ۔چھوٹے تایانے کہا ۔


اماں کیوں خداکی رحمت سے انکار کرتیں ادھر شہرین کے خوشی کے مارے آنسو نکل آئے کہ  اتنا اچھا انسان اس کی زندگی میں داخل ہونے جارہا تھا جس نے بروقت مددکر کے اماں کی کو نئی زندگی دی تھی بلکہ اس نے دونوں گھروں کی آنکھیں  بھی کھول دیں خدا ہمارے لیے جو بھی کرتا ہے بہتر کرتا ہی آج اس کو اس بات کی سمجھ آئی تھی۔


Post a Comment

0 Comments