ghar se bhagny wali larki ki urdu kahani | urdu kahani | urdu sachi kahani urdu kahaniyan | urdu story in urdu fount

گھرسےبھاگنے والی لڑکی

وہ ہانپتی کانپتی سیڑھیاں چڑھتی چھت پر پہنچی جانے کیوں نیچے جانے کے بجائے وہ اوپر آ گئی ٹرن ٹرن ۔۔ فون بجنے لگا یک دم سے نے اس نے سائلنٹ کا بٹن دبایا اور سیڑھیوں کی جانب دیکھنے لگی فارس وہ فون اٹھاتے بوہکلائے انداز میں بولی میں نے سب سامان تیار کر لیا ہے تم کہا ہوں بولتے بولتے اس نے سیڑھیوں کی جانب دیکھا، میں بس پہنچنے والا ہوں تم اطمینان رکھو اور ہاں جلدی سے نیچے آنا ہمارے پاس وقت بہت کم ہے فارس نے جلدی سے جواب دیتے فون بند کر دیارانی کے لئے یہ انتظار اتنا طویل ہو گیا جیسے برسوں وہ اس انتظار میں گزری ہو گھبراتے ہوئے وہ چھت کی دیوار کے پاس آئی اور یوں ہی نیچے جھانکنے لگی تھی مگر یہ کیا اسکا دل لمحے کے ہزارویں حصے میں جیسے روک سا گیا ہو

فارس گلی کے نکڑ پر بائیک پر اپنے دو دوستوں کے ساتھ تھا اور اسکے دونوں دوست بائیک سے اتر کر ایک سائیڈ پر ہو گئے اور فارس کا رخ اس کے گھر کی جانب تھارانی نے دوبارہ اپنا فون نکالا اور فارس کا نمبر ملایا اٹھاتے ہی فارس نے بولا جلدی نیچے آو میں آگیا ہوں اور ہاں دیکھو اپنا زیور اور نقدی ساتھ لیا ہے نا ؟تم اکیلے آئے ہو نا؟ رانی نے اسکے سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا، ہاں میں نے اکیلے آنا تھا تو ظاہر ہے اکیلا ہی آیا ہوں نا، فارس جھنجھلاتے ہوئے بولا تم فورا آو وقت کم ہے وہ گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بولامگر رانی پر تو جیسے سکوت طاری ہو گیا تم سچ کہ رہے ہو تم اکیلے آئے ہو؟رانی کی سوئی وہی اٹکی ہوئی تھی فارس پر جیسے شک گزرا وہ فورا نرم انداز اپنے ہوئے بولا، کیا کوئی اپنی زندگی سے بھی جھوٹ بول سکتا ہے؟  میں تمھیں کس طرح یقین دلاؤں کے میں تنہا ہوں تم آؤ اور 

خود دیکھ لو میں تنہا آیا ہوں اب کی بار وہ کچھ زیادہ ہی تفصیل سے جواب دے گیا،دونوں طرف سکوت چھا گیا،رانی کی آواز نے سکوت توڑا تو جیسے فارس پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑاوہ کانپتی آواز میں بولی چلے جاؤ اور اب دوبار کبھی میرے گھر کا رخ نا کرنا اگر تم یہاں آئے تو جان لو مجھ سے برا کوئی نا ہوگا اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی کونسی دوست تھی میری ایسی جس نے مجھے تم سے ملنے سے نا روکا ہو مگر میں نے کسی کی نا سنی یہاں تک اپنی ماں باپ کو دھوکہ دینے چلی تھی انکی آنکھوں میں دھول جھونک کر میں نے تمھیں اہم جانا اور تم نے تم آج بتا دیا 

مجھ سے بڑھ کوئی پاگل ہو ہی نہیں سکتابے دردی سے وہ گال رگڑتی کال بندی کرنے لگی تھی وہ گویا ہوا تم اگر میری اصلیت جان ہی چکی ہو تو سیدھی طرح زیور اور نقدی مجھے دے دو ورنہ میں تمھاری تصاویر سوشل میڈیا پر دونگا پھر تم کسی کو تو کیا اپنے گھر والوں کو منہ دکھانے کے قابل نا رہو گی غصے سے بولتا وہ چپ ہواہر بےایمان انسان کیطرح وہ اپنی اصلیت پر اتر آیا مگر رانی پر اس کا اثر نا پڑاوہ پھٹ پڑی جاؤ جو جی میں کر لو میں کسی صورت تمھیں پھوٹی کوڑی نہی دینے والی

 اور ایک بات یاد رکھنا جب کوئی توبہ کرے تو وہ اس نے آسمان کی طرف شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے کہا وہ کسی کی توبہ رد نہیں کرتا اور جب آزماتا ہے تو اپنے بندے کو رسوا نہی کرتا یہ کہتے ہی اس نے فون بند کرتے ہی دیوار پر دے مارا اور ایسے رونے لگی جیسے اسکا کوئی اپنا مر گیامر ہی تو گیا تھا ناں اسکا ضمیر آہ کیا ہوتا اگر میں چھت پر نا آتی اور اسکے دوستوں کو نا دیکھ لیتی یقینا میرا بھی ذکر ان لڑکیوں میں ہوتا جو اپنے والدین کی نافرمان ہوتی ہیں در در ٹھوکریں کھانے والی جہنیں پھر کبھی عزت نہی ملتی جو ماں باپ کی عزت کو اسکی دہلیز پر روند کر اپنی خواہشات کے پیچھے گھر سے نکلتی ہیں پچھتاوے کے آنسو بھاتی وہ اب سیڑھیاں اترتے نیچے آ رہی تھی جیسے صدیوں کا بوجھ اسکے کاندھوں پر آ پڑا ہویہ تو بہت کم ہوتا ہے کہ کسی لڑکی کو وقت پر عقل آ جائے یا عاشق کی اصلیت سامنے آ جائے اکثر کو بھاگ کر سمجھ آتی ہے کہ ان نے کتنی بڑی غلطی کر دی لیکن اس وقت پچھتاوے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتالڑکیو ہوش کے ناخن لواپنی اور اپنے خاندان کی عزت کو نیلام نہ کرو، چند دن کی جھوٹی محبت کے لیے


Post a Comment

0 Comments