Teesra Nikah Urdu Kahani | Urdu story | Urdu stories Urdu kahaniyan in Urdu Fount

 ایک شہزادی کی سچی کہانی ۔۔۔ایک بار صرف پڑھیں 


از قلم۔۔۔۔#شہزادہ_فارس


تحریر۔۔۔#امربیل


ایک لڑکی جو بہت خوبصورت تھی اس نے مجھے میسج کیا اسلام و علیکم سر میں لڑکی ہوں میرا نام آمربیل  ہے سر میں آپ کو پڑھتی ہوں تو دل۔کو سکون ملتا ہےسر کیا آپ مجھے اپنے صرف 5 منٹ دیں گےمیں اکثر بہت کم۔بات کرتا ہوں کیوں کے میرے پاس وقت نہیں ہوتا میں نے اسے پیار سے کہا آپ بتائیں میں سن رہا ہوں۔ سر میری عمرابھی 24 سال ہے۔میں نے بی ایڈ کیا ہوا ہے لیکن جانتے ہیں سر میری دو طلاقیں ہو چکی ہیں  میں پہلے اس کی بات اگنور سی کر رہا تھا میں نے قلم۔سائیڈ پہ رکھا پیار سے پوچھا بیٹی کیا کہہ رہی ہیں آپ ۔وہ مسکرانے لگی۔سرکیا آپ کو اپنی زندگی کے بارے بتاوں میں پچھلے دو دن سے نہیں سویا تھاکیوں کے آوٹ آف کنٹری سے واپس آیا تھا کافی مصروف تھا ۔نیند میری آنکھوں میں تھی بوجھل آنکھوں سے اسے میسج کیا آپ بتائیں ۔سر میری پہلی شادی جہاں ہوئی تھی ناوہ لڑکا بہت اچھا تھا ۔پھر نہ جانے اسے کیا ہوا وہ مجھ پہ شک کرنے لگا وہ مجھے نہ جانے کیوں بدکردار کہنے لگا جب کے میرے پاس تو موبائل تک نہیں تھامیرا تو گھر سے باہر بھی بھی آنا جانا نہیں تھا میں حیران تھی۔ سر نہ جانے کیوں مجھ پہ شک کرتا تھا  ۔۔کہتا تھا تمہارا چکر ہے کسی کے ساتھ۔ سر آپ کو ایک بات بتاوں اللہ پاک نے مجھے بہت پیارا بنایا ہے اتنا خوبصورت کے دیکھنے والا حیران رہ جائے اللہ پاک نے مجھے بے پناہ خوبصورت بنایا ہے۔اس نے مجھے اپنی ایک تصویر بیجھی  میرے منہ سے بے ساختہ ماشاللہ کے الفاظ ادا ہوئے شاید کے میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی پیاری لڑکی نہیں دیکھی تھی۔کہنے لگی فارس سر پھر وہ آہستہ اہستہ مجھ سے دور ہونے لگا وہ مجھے گالیاں دیتا۔مارتا پیٹتامیں نہیں جانتی تھی آخر میرا قصور کیا ہے پھر ایک دن مجھے پتا چلامیرا کزن ایک دن ہمارے گھر ایا تھامجھے عیدی دینے کیوں کے میرا بھائی کوئی نہیں ہے اسلیئے امی نے اسے بیجھا تھاامی بیمار ہیں اسلیئے نہیں آئی تھی اور ابو تو کہیں آتے جاتے ہی نہیں تھے۔۔اور اس کزن کو میری جھٹانی  نے دیکھا تھا گھر آتے نہ جانے اس نے کیا کھیل کھیلا کے میرا شوہر میرا دشمن بن گیا جب بہت ظلم سہہ لیا تو میرے میرے منہ پہ طلاق کے کاغذ پھینک کر گھر سے نکلا دیا روتے  ہوئے گھر آ گئی میں چھپ چھپ کر بہت رویا کرتی تھی دو سال گزرے بابا نے کہا بیٹی اپنا گھر بسا لو میں نے چپ رہی اس بار میرا رشتہ میرے سگے چاچو کے گھر سے آیا تھا ہم گاوں میں رہتے تھے اور چاچو لوگ شہر میں ہم دو سال چاچو لوگوں سے ناراض رہے تھے لیکن میری طلاق کے بعد چاچو کا آنا جانا شروع ہوافارس سر میں خاموش تھی چاچو نے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہنے لگےبیٹی تم میری بھی بیٹی ہومیں اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جاوں گا  ۔تم پریشان نہ ہوا کرو  اب تمہارا چاچو تمہارے ساتھ ہے  چاچو کے بیٹے سے نکاح ہو گیا فارس سروہ رات مجھے یاد ہےمیرے چاچو کا بیٹا میرا کزن جو اس وقت میرا شوہر تھا  اس کو نہ جانے کیسے دورے پڑتے تھے چاچو لوگوں نے چھپا کر رکھا۔تھا اس نے مجھے بالوں سے پکڑامجھے دیوار کے ساتھ ٹکریں کروانے لگا  ۔میں چیخ چیخ کر رونے لگی سب دوڑے چلے ائےمیرے سر سے خون بہہ رہا تھا ۔اور میرا شوہر۔۔زمین پہ پڑا کانپ رہا تھا ۔۔چاچو نے میرے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹی معاف کر دو ہم نے تم کو بتایا نہیں تھا میں کیا کہہ سکتی تھی میں چپ ہو گئی اس سے مجھے ڈر لگنے لگا تھا اصل میں چاچو لوگوں نے  مجھے اپنے بیٹے کی نوکرانی بنا کر لائے تھے کے چلو ہمارے پاگل بیٹے کو سنبھالے گی پھر دو مہینے تک اس کا ٹارچر سہتی رہی میں نے بہت سے ڈاکٹرز سے بات کی تھی لیکن وہ لاعلاج تھا یہ نہیں کے وہ جان بوجھ کر مارتا تھا مجھے لیکن جب اسے دورا پڑتا تھا۔اسے کچھ سمجھ نہیں آتی تھی پھر ایک دن وہ مجھے کہنے لگا۔۔میں تمہاری زندگی برباد نہیں کر سکتا جاو تم کو آزاد کرتا ہوں  اور مجھے طلاق دے دی سب مجھ سے معافی مانگنے لگےفارس سراب میرے دامن پہ دو طلاقیں ہیں  اب لوگ مجھے بہت بری نگاہ سے دیکھتے ہیں فارس  سر میں بہت تنگ ہوں ۔آپ کا این جی او ہے اگر آپ مجھے یتیم بے سہارا سمجھ کر اپنے پاس رکھ لیں تو آپ کا احسان  ہو گا میں نوکرانی بن جاوں گی میں اب بہت دور جانا چاہتی ہوں ۔میرے ابو پھر مجھے شادی کر کہہ رہے ہیں اب میں تھک چکی ہوں میں نے اسے سمجھایا۔دیکھیں وقت بدل جاتا یے ۔ضروری نہیں ہر بار حالات ایک سے ہوں اس بار میں گارنٹی دیتا ہوں تم شادی کرو   اچھا ہمسفر ملے گا ۔وہ چپ ہو گئی  ۔سر آپ بھی جان چھڑوا رہے ہیں مجھ سےمیں نے اسے کافی حوصلہ دیا۔وہ مسکرانے لگی سر آپ کی باتوں میں ایک سکون ہے اچھا سر فجر کی اذان ہونے والی۔ ہے  اپ بھی نماز کی تیاری کر لیں اللہ حافظ پھر کبھی بات کروں گی میں تھکا ہوا تھا۔صوفے پہ لیٹ گیا۔کب آنکھ لگی۔۔پتا نہ چلا خیر وقت گزرنے لگا ۔8 ماہ گزر گئے مجھے میسج آیا ۔۔سر ۔میں امربیل  یاد ہوں آپ کو؟ میں مسکرایا۔۔جی میرا بچہ حال وال پوچھا کہنے لگی  ۔سر جی ۔۔آپ کو کہا ہے مجھے اپنے این جی او میں رکھ لیں۔۔نوکرانی بنا کر آپ بھی نہیں  سنتے میں نے مذاق میں بات ٹال دی سر جی میرے بابا مجھے اب بہت گالیاں دیتے ہیں وہ کہتے ہیں اپنا گھر بساو   ۔یوں کہیں وہ مجھ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں سر کیا کروں میں خدا کی قسم پاگل ہو جاوں گی میں نے سمجھایا۔بابا کوئی تمہارے دشمن تو نہیں ہیں ۔وہ سہی کہہ رہے ہیں شادی کر لو۔چپ ہو گئی کچھ ماہ گزرے مجھے مجھے میسج آیا ۔۔۔اسلام۔و علیکم  سر جی میں نےسلام۔کا جواب دیا سر فارس   مجھے مبارکباد دیں میں نے مسکرا کر کہا کیوں شادی ہو گئی کیا۔ارے سر آپ تو جادو بھئ جانتے ہیں۔۔ہاں میری شادی ہو گئی ہے۔میں مسکرایا  واہ جی مبارک ہو کیسی گزر رہی ہے لائف  سر جی بس دعا کر دیا کریں۔اچھا بتاو۔۔شوہر کیا کرتا یےسر جی نہیں پتا کیا کرتا ہےمیں نے حیرت سے پوچھا کیا مطلب سر جی شاید کے اس کے بعد میں آپ سے بات نہ کر سکوں میرا دل چاہ رہا تھا آج جی بھر کر رو لوں میں نے حیرت سے پوچھا ایسا کیوں۔سر جی تھک گئی ہوں  جانتے ہیں۔۔میرا شوہر کون ہے۔اس نے اپنی شادی کی ایک تصویر سینڈ کی ایک 60 سال کا بوڑھا میرا جسم کانپ گیا سر جی میری زندگی اب ختم ہونے کو ہے۔سر جی حاجی صاحب کی چوتھی بیوی ہوں حاجی صاحب بہت امیر ہیں مجھے پھرخاک کر دیا گیا یےفارس سر ۔خیر مبارک آپ لکھتے رہناشاید کے آپ کو پڑھ کر میرے دل کو چند لمحے سکون آ جایا کرے سرآپ کا بہت شکریہ آپ نے مجھے اتنا ٹائم دیاحاجی صاحب کی دوا کا ٹائم ہو گیا ہے۔میں اب چلتی ہوں خاکزادی کو دیجئے اجازت سر فارس مجھے بہت اچھے سے جینا تھا لیکن مجھے بہت سلیقے سے برباد کیا گیا یے سر امربیل اج خاک ہو گئی۔میرے الفاظ اب شاید کے آپ کبھی نہ دوبارہ سن سکیں امربیل کو یاد رکھنا سر۔سرہم بیٹیاں کیوں ایسی ہوتی ہیں سر  مجھے جینا تھاوہ اللہ حافظ کہنے لگی میں نے اس سے پوچھا کیا تم خوش نہیں ہومسکرا کر بولی۔۔سر زندہ لاشیں  بولا نہیں کرتی میں نے اسے کہاشوہر کیسا یےکہنے لگی دو ماہ ہوئے ہیں شادی کوحاجی صاحب دل کے مریض ہیں ان کی نوکرانی ہوں یوں سمجھ لیں مجھے خریدا گئا ہےمیں نے اسے کہا اللہ پہ یقین  رکھتئ ہو۔۔۔امربیل خاموش ہو گئی  ۔میں نے اسے کہا۔۔۔اپنا نمبر بند نہ کرنا رات کو کال کروں گا  میرا ایک دوست پولیس آفیسرمزمل فاروق اسے میں نے کال کر کے بلوایا مزمل سے پوچھا ۔تمہارے بابا ماما تمہارے لیئے رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں مزمل مسکرایا ہاں فارس بھائئ میں نے مزمل سے بات کی اگر میں تمہاری شادی ایک لڑکی سے کروا دوں تو  مزمل حیرت سے بولا کون ہے لڑکی میں نے سب کچھ سچ سچ بتایا امربیل کے بارے میں مزمل نے میرا ہاتھ پکڑافارس بھائی مجھے قبول ہے میں نے امریبل کو کال کی حاجی سے طلاق لے لو۔امربیل حیران تھی۔فارس سرآپ جانتے ہیں کیا کہہ رہے ہیں میں نے اسے یقین دلایا۔کچھ نہں ہو گاچونکہ مزمل خود پولیس میں تھا  حاجی سے مشکل سے طلاق دلوائی۔۔کیسے طلاق ہوئی وہ کھٹن سفر الگ ہے۔نوٹ میں نہیں جانتا یہ غلط ہوا یا صیح شاید کچھ لوگوں کو لگتا ہو فارس نے تو گناہ کیا ہے گناہ ہے تو گناہ ہی سہی امربیل کو اعتماد میں لیا پھر۔مزمل کے ساتھ امربیل کا نکاح کروا دیا اج دونوں بہت خوش ہیں دونوں عمرہ پہ گئے تھے مجھے ملنے آئےتھےاللہ نے ان کو بیٹی جیسی رحمت سے نوازا یےامربیل مجھے دیکھ کر رونے لگئ پھر مجھے آب زم زم تھمایا۔۔۔فارس بھائ اللہ کے گھر جا کر آپ کے لیے بہت دعائیں کی ہیں مزمل بہت خوش ہے امربیل کے ساتھ مزمل میرے پاس آ کر  بولا۔فارس بھائی شاید کے مجھے اتنی خوشی کبھی نہ ملتی جتنی میں امربیل کو مسکراتا دیکھتا ہوں تو میرے دل کو ٹھنڈک پہنچتی ہےامربیل پھول سی شہزادی اپنے گھر میں اب بہت خوش ہے۔فارس تو اتنا ہی کہے گاکسی شہزادی کا مزمل کی طرح سہارا بن جاو۔نہ کہ درندے بن کرکسی امربیل کا سودا کرو ۔اور اسے زندہ لاش بنا دوخدا کی قسم کسی کے لیئے جی کر دیکھواللہ کی رحمت نہ برس جائے تو کہناکسی کو رسوا نہ کیا کرو کسی مجبور کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھایا کرو طلاق والی لڑکی ضروری نہیں کے بد کردار ہےامربیل کی طرح حالات کی ماری بھی ہو سکتی ہے کسی امربیل کا سہارا بن کر دیکھواللہ کی رحمتیں اپنی سانسو ں میں محسوس کرو گے۔اگر کوئی فارس پہ تنقید کرنا چاہتا ہے تو جی بھر کر کرےلیکن سچ تو یہی ہے ۔۔مجھے جو اچھا لگا میں نے کیا یہ معاملہ میرا اللہ کے ساتھ ہے ۔۔آپ تنقید کرنا چاہتے ہیں تو جی صدقے کریں ۔۔۔اگر اصلاح کی جانب آنا چاہتے ہیں تو ۔۔فارس آپ پہ قربان 

Post a Comment

0 Comments