Un parh Shohar Urdu Kahani | Urdu Story Urdu Sachi kahani | Urdu Kahaniyan in Urdu Founts


وہ میرے روح میں اترتی گئی

میرا نام علی میر ہے میں آٹھ جماعتیں پاس ہوں۔لیکن اردو پڑھ لکھ لیتا ہوں  میری شادی کو آج 5 سال گزر گئے ہیں اور آج میری بیوی کی برتھ ڈے بھی ہے پہلے چلتے ہیں میری بیوی  ۔میری ہمسفر ۔سجل  کے ماضی کی جانب۔سجل پڑھی لکھی لڑکی ہے مجھے زیادہ تو نہیں پتا لیکن اتنا جانتا ہوں وہ لاہور پنجاب یونیورسٹی کی ٹاپ اسٹوڈنٹ رہ چکی ہے۔اس کے پاس ڈگریاں ڈپلومے ہیں اور سجل نے ایک کتاب لکھ رکھی ہےجس میں حالات سے مقابلہ کرنا سکھایا ہے اس نے۔لیکن جانتے ہیں   سجل خود زندگی سے ہار گئی تھی سجل بہت  خوبصورت ہےبہت خوبصورت۔اللہ پاک نے سجل کو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ خوب سیرت بھی بنایا ہےمجھ سے پہلے سجل کسی اور کے نکاح میں بھی رہ چکی ہے۔سجل کی منگنی اس کے ایک کزن سے ہوئی تھی کزن سجل کی نسبت کچھ زیادہ خوبصورت تھا۔کزن کا نام وصی تھا ۔وصی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھا   سجل بہت خوش تھی۔کہتے ہیں نا قسمت والوں کو محبت ملتی ہے اور سجل یک طرفہ محبت کرتی تھی شادی سے پہلے  وصی سے۔اور سجل بھی اُن قسمت والوں  میں سے تھی۔ جس کو اس کی محبت ملی تھی اور پھر۔وصی اور سجل کا نکاح ہو گیا۔سجل دلہن بنی ہوئی تھی وصی سامنے بیٹھا ہوا۔ دونوں میں  ساتھ نبھانے کے کچھ قول قرار ہوئے دونوں نے قسم کھائی۔کبھی جدا نہ ہوں گے کبھی کوئی خفا ہوا تو ایک دوسرے کو منا  لیا کریں گے۔کبھی کوئی غلط ہوا تو مل کر غلطی سدھار لیا کریں گے۔دونوں نے محبت پہ قائم رہنے کی قسمیں کھائی تھیں۔سجل نے وصی کا ہاتھ تھاما چوما پھر آنکھوں سے لگایا اور آہستہ سے بولی وصی میری جان میں شکرانے کے نفل پڑھنا چاہتی ہوں کہ اللہ پاک نے ہم کو ایک کر دیا۔میں بہت خوش ہوں میری جان ۔سجل نے وضو کیا نفل ادا کرنے لگی۔پھر زندگی اپنے سفر پہ رواں ہوئی کچھ مہینے گزرے وصی نہ جانے کیوں سجل سے خفا سا خفا سا رہنے لگا  یہ عجیب سی  بات تھی نہ کوئی جھگڑا نہ کوئی  ناراضگی زندگی اپنے معمول پہ تھی پھر بھی وصی دور دور سا رہنے لگا تھا۔ایک دن سجل نے وصی کا ہاتھ تھاما پیار سے پوچھنے لگی۔میری جان آپ کو کیا ہوا ہے ۔آپ مجھ سے دور دور سے رہنے لگے ہیں۔وصی مسکرا کر بات ٹال گیا   سجل حیران تھئ دل میں پریشانی سی پیدا ہونے لگی اللہ پاک سب خیر کرے    وصی ایسا تو کبھی بھی نہیں تھا وصی اب تو گھر بھی بہت کم کم آنے لگا تھا سجل کی پریشانی مزید بڑھ گئ جو وصی کبھی   شادی سے پہلے گھنٹوں فون پہ باتیں کیا کرتا تھا اب وہ وصی آہستہ آہستہ دور ہوتا جا رہا تھا لیکن  آخر کیوں     وصی کیوں اس سے دوری بنا رہا تھا۔۔جس سے پسند کی شادی کی تھی۔ایک دن جب وصی گھر آیا ۔۔تو سجل نے وصی کا ہاتھ تھاما پاس بیٹھ گئی  ۔اپنے ہاتھوں میں وصی کا ہاتھ دبایا۔پھر  ۔پیار سے پوچھنے  لگی میری جان   ہماری شادی کو  9 ماہ گزر گئے ہیں لیکن آپ پہلے دو یا تین ماہ کے بعد اچانک سے مجھ سے بات کرنا کم کر گئے  میرے ساتھ کھانا کھاناچھوڑ دیا۔سب ٹھیک ہے نامجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے کیا ۔وصی مسکرایا آہستہ سےبولا سجل وقت آنے پہ سب کچھ بتا دوں گا پریشان نہ ہوسجل تڑپ اٹھی وصی میری جان سب ٹھیک ہے نا آپ بھی ٹھیک ہو نا۔مجھے بتاو نا میری جان ایسی کیا پریشانی  ہے آپ کو۔وصی بیڈ پہ لیٹ گیا کروٹ بدلی اور آہستہ سے بولا۔سجل کھانا کھا لو اور لائٹ آف کر دینا۔مجھے نیند آئی ہے۔سجل چپ ہو گئی۔کھانا کیا کھاتی دل کو سکون کہاں تھاسجل وصی کے پیروں کی جانب سر کر کے لیٹ گئی ۔محبت جب بے رخی کرے تو  ۔خدا کی قسم۔روح کانپ جاتی ہے   ۔محبت میں جب کوئی آپ کو اہمیت دینا چھوڑ دے تو اس کو موت کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے۔سجل من ہی من میں نہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھی پھر شادی کی تصویریں نکالی البم دیکھنے لگی    آنکھیں نم سی  تھیں دل اداس بھی بہت تھاجسے بے پناہ چاہا ہے وہ پاس پڑا دل کے حال سے بے خبر سو رہا ہے  خیریہ بے چینی زیادہ دن ۔نہیں تڑپانے والی تھی۔آج بارش کا موسم تھا۔سجل کو ہرے بھرے کھیت بہت پسند تھے چھت پہ کھڑی تھی  ۔تیز ہوا کو جسم میں اترتے ہوئے محسوس کر رہی تھی بارش میں بھیگنا اسے بہت اچھا لگتا تھاسجل نورجہان کا گانا فرصت ملے بلا لیا کردنیا دے غم بھلا لیا  کر اسے بہت پسند تھا۔گنگنا رہی تھی پھر اچانک سے وصی کی یاد آئی آج وصی اور میری شادی کو سال ہو گیا ہےلیکن وصی دور ہوتا ہوتا دور ہی ہو گیا ہے۔دل کو تسلی دے رہی تھی۔ کوئی بات نہیں۔ڈاکٹر ہیں مصروف ہوں گے اپنی زندگی میں۔لیکن سجل نہیں جانتی تھی آج اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے بارش میں بھیگ گئی تھی اب اسے  سردی لگ رہی تھی۔جلدی سے چینج کیا۔پھر کچن میں جا کر چائے بنانے لگی چائے بنا کر۔ہال میں کمبل اوڑھ کر بیٹھ گئی اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئی جلدی سے دروازہ کھولا سامنے وصی کھڑا تھا وصی نے سلام کیا۔ اور کمرے میں چلا گیا ساتھ ایک لڑکی بھی تھی ۔سجل سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی وصی نے الماری سے کچھ پیپرز نکالے اس لڑکی کو تھمائے اور پھر  سجل کی جانب دیکھنے لگاسجل ہمارا سفر یہاں ختم ہوتا ہے سجل مسکرانے لگی کیا مطلب میری جان سجل مطلب یہ کے یہ طلاق کے پیپرز ہیں میں نے سائن کر دیئے ہیں تم بھی کر دو ۔اور ہاں یہ ہیں ڈاکٹر اوکاشہ  ہم نے شادی کر لی ہے اور آج رات کی فلائٹ سے ہم ہمیشہ کے لیے امریکہ جا رہے ہیں ہم دونوں کو وہاں جاب مل گئی ہےسجل کو یقین نہیں ہو رہا تھا اسے لگ رہا تھا وصی مذاق کر رہا ہے سجل آہستہ سے بولی وصی میری جان آپ مذاق کر رہے ہیں نا ؟وصی نے پاسپورٹ اور ٹکٹ دکھائی پھر وہ الفاظ ادا کیے  جس سے سجل کی زندگی خاک ہوئی ۔سجل تم کو طلاق دیتا ہوں تین بار یہ الفاظ کہے اور وصی اوکاشہ کا ہاتھ تھامے ہوئے چلا گیا سجل چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی لیکن وہ شاکڈ تھی چند لمحوں میں ہی یہ کیا ہو گیا وصی کار میں بیٹھا امریکہ کے لیے روانہ ہو گیا سجل خاموش بیٹھی رہی بجلی چمک رہی تھی طوفانی بارش تھی سجل اب بے خبر ہو چکی تھی خود سے۔دوسرے دن بابا کے گھر آگئی سجل صدمے میں تھی آخر کیوں وصی نے اس کے ساتھ ایسا کیاآخر کیوں میرا قصور تو بتا کر جاتا کون بتاتا سجل کوچھوڑنے والےجب چھوڑنے کا ارادہ کر لیں تو پھر چاہے آپ اس کے قدموں کی خاک بھی چوم لیں تو بھی وہ چھوڑ جائیں گے۔سجل اب کمرے میں بند تنہا بیٹھی  بلکل خاموش نہ کسی سے کوئی بات  نہ کسی سے کوئی شکوہ۔ نہ کسی سے ملنا ۔ کمرے کی لائٹ بند کی ہوئی۔سجل خاموش بیٹھی رہتئ۔ایک سال گزرنے کے بعد  سجل کچھ سنبھلی تھی۔پھر اس کے گھر والے رشتہ دیکھنے لگے۔لیکن سجل کا اعتبار اس رشتے سے اٹھ چکا تھا اب وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔لیکن ماں باپ نے سوچا  ۔شادی کرے گی تو۔شاید وصی کو بھول سکے۔پھر وہ دن آیا جب علی میر کے ساتھ سجل کا نکاح ہو گیا علی میر۔  انپڑھ سا تھا دوسری طرف سجل یونیورسٹی کی ٹاپ اسٹوڈنٹ تھی جس کی تعلیم  بہت اعلی تھی لیکن بیچاری قسمت سے ہار گئی تھی۔چونکہ بات کچھ یوں ہے میں علی میر۔ایک شرابی تھا۔میرے بھی ماں باپ نے اس لیئے میری شادی کی کے شاید میں سدھر جاوں شادی کے بعد جب شادی ہو گئی کچھ دن گزرے میں باہر سے شراب پی کر آیا۔گھر آیا تو دیکھا سجل سو رہی ہے۔میں نے آواز دی اٹھ مجھے کھانا دےسجل سو رہی تھی۔میں نے پھر  آواز دی سن  نہیں رہی مجھے کھانا دے۔میں نشے کی حالت میں تھا۔میں نے جوتا اٹھایا سجل کو مارنا شروع کر دیا۔وہ جلدی سے اٹھی سر جھکائے جوتے کھاتی رہی جب میں تھک گیا تو اسے گالی دے کر کہا جا میرے لیئے کھانا لا۔میری بلا سے۔سجل نے ایم ایس سی کیا ہوا ہے۔سجل پڑھی لکھی۔سمجھدار لڑکی ہےمیرے لیے تو بس نوکرانی تھی سجل کھانا لے کر آئی میرے پاس بیٹھ گئی ڈر رہی تھی میں نے کھانا کھایا اور برتن اٹھا کر دیوار کے ساتھ دے مارے پھر میں نے ٹی آن کیا فلم دیکھنے لگا   سجل میرے پاس بیٹھی روتی رہی اسے نیند آ رہی تھی لیکن میرے ڈر سے چپ چاپ بیٹھی رہی نہ جانے کب میری آنکھ لگی اور سو گیا صبح جب نشہ اترا تو دیکھا سجل کے چہرے پہ زخم تھامجھے کچھ کچھ یاد تو تھا کے میں نے رات کو سجل کو مارا تھا میں پاس گیا سجل کا ہاتھ پکڑ ا آہستہ سے بولا سوری یار نشے میں نہیں پتہ چلتا  ۔سجل ہلکا سا مسکرائی   پیار سے بولی علی میر صاحب میں نے کب کوئی شکوہ کیا ہے ۔۔جی بھر کر ظلم کیا کریں ۔ میں کب کچھ کہہ رہی ہوں جب جی چاہے۔ڈنڈا اٹھا لیں جب جی چاہے  جوتوں سے مار لیں۔  میرا اب ٹھکانہ ہی کیا ہےخودکشی حرام ہےجینا جہنم ہے سوائے خاموش رہنے کے میں کر بھی کیا سکتی ہوں۔  آپ یہ بتائیں آپ کے لیئے ناشتے میں کیا بناوں   ۔میں نے آہستہ سے کہا آلو والا پراٹھا سجل نے میرے لیے ناشتہ تیار کیاناشتہ میرے سامنے رکھا اور میرے پاس ہی بیٹھ گئی میں نے اس کے چہرے کی جانب دیکھازخم کافی گہرا  تھامیں نے پوچھا یہ زخم اتنا گہرا کیسے لگا سجل ہلکا سا مسکرائی آپ کی بیلٹ لگی تھی مجھے نشے میں نہیں تھا یاد کے میں نے بیلٹ کے ساتھ بھی مارا تھا  میں چپ ہو گیا ناشتہ کیا اور گھر سے چلا گیاسجل خاموش بیٹھی چھوڑ گیا  رات کو پھر گھر آیا اج سجل جاگ رہی تھی میں نے کھانے کا کہا وہ جلدی سے کھانا لے آئی میں نے پھر بھی بہت گالیاں دی سجل کو۔ وہ ہر روز میرا ظلم سہتی اور خاموش ہو جاتی ۔ایک دن میں گھر گیا۔   دیکھا    سجل میرے کپڑے پریس کر رہی تھی۔اسے بہت تیز بخار تھا میں نے سجل کو آواز دی۔سجل جلدی سے میرے پاس آئی میں  نے کہا سجل ادھر میرے پاس بیٹھو سجل پاس بیٹھ گئی میں نے آہستہ سے کہا۔ایک بات کہوں سجل پریشان سی اداس خاک زادی آہستہ سے بولی ہاں کہیں علی میر ۔میں نے شرماتے ہوئے کہا آئی لو یو اتنا کہنا تھا ۔سجل مسکرانے لگی۔میں نے دو سال میں پہلی بار سجل کو ہنستے دیکھا تھا۔مسکراتے ہوئے سجل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔پھر آہستہ سے بولی آئی لو یو ٹو ۔میری جان ۔سجل کی خوشی مسکراہٹ دیکھ کر میرے دل کو ایک سکون سا ملا سجل کا ہاتھ پکڑا سجل سے آہستہ سے بولا سجل میں بہت غلط کرتا ہوں نا تمہارے ساتھ تم کو مارتا پیٹتا ہوں گالیاں دیتا ہوں کیا کچھ نہیں کرتا تمہارے ساتھ تم پھر بھی سر جھکائے میرے لئے سب کچھ کرتی ہو سجل آہستہ سے بولی کیا فرق پڑتا ہے علی۔میر ۔آپ مجھ پہ ستم ڈھائیں یا جان سے مار دیں ۔میں تو زندہ لاش ہوں  تم سے جدا ہو کر کہاں جاوں گی میرے دامن پہ ایک طلاق کا داغ تھا اور لوگ مجھے کیا کچھ نہیں کہتے تھے۔تم سے طلاق لوں گی تو شاید طوائف بن جاوں گی سجل آہستہ سے بولی اچھا علی میرشراب پی کر نہ آنا آج رات۔۔پلئز مجھے بہت بخار ہے آج میں آپ کی مار نہیں برداشت کر سکوں گی ۔آج پہلی بارمیں نے دھیان سے دیکھا تھا۔اس کے جسم پہ نہ جانے کتنے زخموں کے نشان تھے ۔وہ پھر بھی خاموش تھی۔بہت عجیب تھی ۔سب کچھ خاموشی سے برداشت کر رہی تھی۔مجھے شرمندگی محسوس ہونے لگی۔میں نے وضو کیا۔قرآن پاک ہاتھ میں پکڑا پھر سر پہ رکھا اور سجل کے سامنے قسم کھائی ۔سجل میں قسم کھاتا ہوں آب کبھی شراب یا کوئی بھی نشہ نہیں کروں گا ۔میں نے جب اتنا کہا سجل چیخ چیخ کر رونے لگی  ۔میرے سینے سے لگ گئی میرے ہاتھ چومنے لگی    میں نے خود کو بدلنے کی قسم کھا لی میں سجل کی محبت اور اس کا رشتہ نبھانا دیکھ  کر ہار گیا تھا۔سجل آج بہت خوش تھی مجھے کہنے لگی۔جاو حجام کے پاس  ۔اورداڑھی منڈا کر آو اور بال کٹوا کر آو  ۔میں جلدی سے حجام کے پاس گیا ۔2 روپے میں شہزادہ بن کر آ گیا۔آج سجل بہت خوش تھی اس کے چہرے پہ آج ایک خوشی تھی میں اس کو دیکھ کر مسکرانے لگا   بازار سے واپس آتے ہوئے میں سجل کے لیے چوڑیاں بھی لے آیا تھا۔سجل کو اپنے پاس بٹھایا۔پھر اپنے ہاتھوں سے چوڑیاں پہنائی۔سجل بہت خوش تھی ۔مجھے شراب نہ ملنے پہ بے چینی ہونے لگی تو سجل نے قرآن مجید کھولااور مجھے تلاوت سنانے لگی    نہ جانے کیا قدرت تھی میرے دل کو سکون آ جاتا ۔سجل کی آواز بہت پیاری ہے تلاوت میں ۔پھر رفتہ رفتہ میں مکمل بدل گیا۔میں نے شراب چھوڑ دی۔اب میں ایک جاب کرنے لگا۔سجل جو ہر وقت مرجھائی  سے رہتی تھی۔وہ اب گلاب کی طرح مہکنے لگی تھی۔سجل اب میرا پہلے سے زیادہ خیال رکھنے لگی تھی۔مجھے خود سجاتی سنوارتی۔مجھے بول چال کا ادب سکھاتی۔مجھے ٹیوشن بھی پڑھاتی۔خدا کی قسم سجل کو ایسا دیکھ کر میری دنیا ہی بدل گئی تھی سجل جو ہر روز میرا ظلم سہتی تھی مجھے خود پہ غصہ آتاپھر ایک دن میں نے جب الماری کھولی سجل کی ڈگریاں ڈپلومے سب پڑا ہوا تھا مجھے اس دن پہلی بار پتہ چلا میری سجل تو بہت پڑھی لکھی ہےسجل کی جانب دیکھاسجل کا ہاتھ چوما اور سینے سے لگایا۔اب میں اچھا انسان بن چکا تھا    سجل نے مجھے 5 وقت نماز پڑھنے کی عادت  بنا دی تھی میں 5 وقت نماز ادا کرتا میرا دل اب بدل  چکا تھا میری زندگی بھی بدل چکی تھی سجل ایک دن اپنی دوست سے بات کر رہی تھی۔مجھے کہنے لگی  علی میر   میری ایک دوست کو جاب مل گئی ہے وہ ایف آئی اے ڈیپارٹمنٹ میں آفیسر بھرتی ہوئی ہے  ۔سجل کی آنکھوں میں کوئی خواب چھلک رہا تھا    ۔میں نے سجل کا ہاتھ تھاما اپنے سینے پہ رکھامیری جان تم نے ایک شرابی ایک جاہل کو جینا سکھایا ہےمیں چاہتا ہوں   ۔تم جاب کرو   سجل آہستہ سے بولی علی میر اب میری زندگی ختم ہو گئی ہے اب میں کوئ  جاب نہیں کرنا چاہتی ۔میں نےضد کی پھر میری ضد پہ ایک جگہ اپلائی کر لیادو ماہ گزرے ہمارے گھر ایک خط ایا اور ہماری زندگی بدل گئی سجل کو نادارا  ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ مینجر  کی جاب مل گئی  ۔جب سجل نے مجھے بتایا میں زور زور سے رونے لگا سجل کو سینے سے لگایامیری جان  اب ان سب کو دکھا دو جو تم کو طعنے دیتے تھے شرابی کی غلام بن کر زندگی گزارنی ہےاللہ نے کرم کیاسجل نادارہ آفس میں اسسٹنٹ مینجر کی جاب کرنے لگی   اور پھر دیکھتے دیکھتے اللہ پاک نے کرم فرمایا ہمارے حالات بھی بدلنے لگےسجل اج بہت خوش ہےاللہ پاک نے ہمیں ایک بیٹا اور بیٹی بھی عطا کی ہے۔اب ہمارے پاس اپنی کار ہے ہمارا اپنا گھر ہے۔سجل میری جنت بن چکی ہے۔اب سجل کے بنا میرا ایک سانس لینا بھی ممکن نہیں۔ اب سجل کو نہ دیکھوں تو میری روح تڑپنے لگتی ہےاب میں انگلش بھی تھوڑی تھوڑی بول لیتا ہوں ہماری بیٹی مجھے انگلش سکھاتی ہےمجھے بہت اچھا لگتا ہے جب سجل بچوں کے ساتھ پڑھے لکھے لوگوں جیسی باتیں کرتی ہے ان کی تربیت کرتی ہے میں جاہل سامسکرا رہا ہوتا ہوں سجل کی ایک عادت بن چکی ہےاگر وہ میرے بازو پہ سر نہ رکھے تو اس کو نیند ہی نہیں آتی میں نہ بدلنا چاہتا تو کیا ہوتااج بھی میں سجل کو گالیاں  دے رہا ہوتا مار پیٹ رہا ہوتا شراب کے نشے میں کسی کتے کی مانند بھونک رہا ہوتاگھر میں فاقے  ہوتے۔۔اور سجل ذندہ  لاش بن کر جی رہی ہوتی یا شاید پاگل ہو چکی ہوتی سجل ایک شہزادی ہے جس نے میری زندگی کو مکمل بدل کر رکھ دیا گورنمنٹ کی جانب سے ہمیں دبئی کا وزٹ ملا ہے لیکن سجل کہہ رہی تھی ہم مکہ مدینہ جائیں گے عمرہ کرنے میری سجل میری زندگی ہے۔ اس کی برتھ ڈے ہے اج کیک لے کر آیاہوں   ۔وہ بچوں کو پڑھا رہی ہے   میں جانتا ہوں تھک گئی ہے اسلیئے  اس کے لیے دودھ گرم کر رہا ہوں اور اپنے ہاتھ سے پلاوں گا۔اج بھی میرے جیسے نہ جانے کتنے مرد ہیں جو اپنی بیوی کو گالیاں دینا مارنا پیٹنا پاوں کی جوتی سمجھنا یہ سب کرتے ہیں   نہ جانے کتنی بیچاری سجل کسی علی میر کے ساتھ ظلم سہتی سہتے تھک چکی ہیں خدا کی قسم ہر وہ مرد جو اپنی بیوی کو مارتا ہے گالیاں  دیتا ہے ظلم کرتا ہے وہ اپنی ہمسفر کے لیے ایک بار میری طرح خود کو بدل کر دیکھے اللہ کی قسم اللہ کی رحمیتں نازل ہوں گی اور دیکھتے دیکھتے ہر طرف خوشیوں کا بسیرا ہو جائے گا مرد بن کر دکھاو۔اور اپنے ہمسفر کو عزت دینا سیکھوگالی دینا تو ہر گلی کا کتا کر لیتا ہےکوئی حقیقی مرد۔شاید باضمیر  کوئی مرد اپنی سجل کی زندگی کو جنت بنا دے اپنی ہمسفر کو زندگی عطا کرو۔ نہ کے اس کو زندہ لاش بنا دو۔۔دعا ہے کسی کے دل میں اتر جائےشہزادہ فارس کی یہ بات اور کوئی علی میر اپنی سجل کے لیئے خوشیاں بن جائے 

Post a Comment

0 Comments