Urdu Kahani | Buda Shohar Aur Jawan Biwi Urdu Kahan in Urdu fount | Urdu Kahaniyan | Sachi kahani

 


مولوی عبدالحق ایک ادھیڑ عمر شخص تھے اور پچھلے 15 سالوں سے ہمارے محلے کی مسجد


 میں امام تھے پہلی بیوی کے فوت ہونے کے بعد ان کی شادی ان کی


 سالی سے ہوگئی وہ 21 سال کی نوجوان لڑکی تھی ماں باپ کے کہنے پر مولوی صاحب


 سے شادی پر رضامند ہوئی اپنی بڑی بہن کے بچوں کی خاطر اسے قربانی دینا پڑی


ورنہ مولوی صاحب اور اس کا کوئی جوڑ نہیں تھا وہ ایک نوجوان لڑکی تھی اور مولوی


 صاحب تو اپنی زندگی گزار چکے تھے  شادی کے کچھ عرصہ تک تو سب ٹھیک چل رہا تھا


 لیکن پھر مولوی صاحب کے گھر اچانک لڑائی جھگڑے ہونے


 شروع ہو گئے ہمارے بچے مولوی صاحب کے گھر پڑھنے جایا کرتے تھے اور اکثر آکر


 بتایا کرتےکہ آج مولوی صاحب کے گھر بہت لڑائی ہوئی ہے


مولوی صاحب عائشہ باجی کو بہت ناراض ہوئے یہاں تک کے وہ رونے لگی ۔یں شعبے


 کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر تھا اور مولوی صاحب کے ساتھ میری اچھی دوستی


 بھی تھی میں نے 1 یا 2 بار مولوی صاحب کی پریشانی پوچھنے کی کوشش بھی کی لیکن مجھے


انھوں نے کوئی خاص جواب نہیں دیا میں بھی چپ ہو گیا


 سوچا ہو سکتا ہے ایسی کوئی بات ہو جو وہ مجھ سے شئیر نہیں کرنا چاہتے ہوں وہ مجھے اپنے؎


 بچوں کی طرح سمجھتے تھے اور بہت عزت بھی کرتے تھے ان کے چہرے پر پریشانی


 واضع دکھائی دیتی تھی لیکن وہ مجھ سے کچھ چھپا رہے تھے




ایک دن جب میرے بچے پڑھ کر واپس آئے تو میری بچی مجھ دے لپٹ کر رونے لگی


 میں نے پوچھا بیٹی کیا بات ہے آپ کیوں رو رہے ہو کیا آپ کو عائشہ باجی نے مارا ہے


 نہیں بابا مجھے عائشہ باجی نے نہیں مارا بلکہ مولوی صاحب نے عائشہ باجی کو


 مارا ہے اور موبائل فون بھی چھین لیا ہے جس پر وہ ہمیں نعت سناتی تھیں


یہ سن کر میں پرئشان ہو گیا اور میرے دماغ میں طرح طرح کے خیالات گھومنے لگے


 شئد میں کسی حد تک معاملے کو سمجھ چکا تھا اچھا بیٹا آپ چپ کرو میں آپ کو اپنے


 موبائل پر نعت لگا دیتا ہوں میں نے جیب سے موبائل نکالا ہی تھا کہ مسجد کے


 موذن کی کال آگئی ڈاکٹر صاحب مولوی صاحب کی طعبیت خراب ہے جتنا جلدی


 ہوسکے آپ مولوی صاحب کے گھر آجائیں 


میں نے اسی وقت اپنا بیگ اٹھایا اور مولوی صاحب کے گھر کی طرف دوڑ پڑا چیک اپ


 کرنے کے بعد پتا چلا کہ مولوی صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے میں نے فورااہک گاڑی


 والے کو کال کی اور مولوی صاحب کو ایک دوست کے ہسپتال لے گیا جو ہارٹ


 اسپیشلسٹ  تھا اللہ نے مولوی صاحب کی جان بخشی اور ہم 2 دن تک گھرواپس آگئے 




اگلے ہی دن مولوی صاحب نے مجھے گھر بلایا اور ان کی طعبیت تو بہتر تھی مگر پریشانی ان


 کے چہرے پر واضع دکھائی دے رہی تھی دیکھو بیٹا تم مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہو


 اور میں اپنے دکھ کی بات تم سے بلاجھجک کر لیتا ہوں لیکن اس بار بات ایسی تھی کہ میں


 تمہارے ساتھ چاہا کر بھی بیان نہ کرسکا 




جی مولوی صاحب میں اس بات کیلئے آپ کا بہت مشکور ہوں جو آپ مجھے اس قابل


 سمجھتے ہیں دیکھو بیٹا عائشہ میری بیوی کی سب سے چھوٹی بہن تھی اپنی بہن کے فوت


 ہونے کے بعد اپنے ماں باپ کے کہنے پر مجھ سے شادی کرنے پر رضامند ہوئی اس کے


 والدین چاہتے تھے کہ ان کی بڑی بیٹی کے بچے خراب نہ ہوں




 وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور نہ ہی میرا اس کا کوئی جوڑ تھا وہ اپنے خالہ زاد


 کو پسند کرتی تھی اور مجھے بھی اس بات کا اندازہ تھا لیکن اپنی بہن کے بچوں کی خاطر اس


 بندھن میں بندھ گئی اب مسلہ یہ ہے کہ پہلے تو اس کا خالہ زاد صرف فون پر بات کرتا


 تھا جو میرے لیئے ناقابل برداشت تھا 




جس کی وجہ سے ہماری اکثر لڑائی بھی ہو جاتی تھیلیکن کل میں عشاء کی نماز پڑھ کر جلدی


 سوگیا اچانک آدھی رات کو میری آنکھ کھلی تو عائشہ اپنے بستر پر نہیں تھی مجھے کمرے


 سے سرگوشی کی آواز سنائی دی میں جوں ہی کمرے میں داخل ہوا عائشہ اپنے خالہ زاد


 کے ساتھ ناقابل اعتراض حالت میں تھی 




۔میرے منہ دے استغفار نکلا اور میں واپس اپنی چارپائی پر آگیا   انھوں نے بھی مجھے


 دیکھ لیا تھا فورا ہی لڑکا تیز تیز قدموں سے باہر چلا گیا لیکن میں اپنی عزت کی خاطر ادے


 کچھ بھی نہ کہہ سکا عائشہ کمرے سے باہر نہیں نکلی اور نہ ہی میں دوبارہ کمرے میں گیا


 لیکن میں اندر ہی اندر مر چکا تھا بحرحال میں صبح فجر کی نماز پڑھ کر گھر آیا تو عائشہ بچوں


 کو پڑھا رہی تھی 


یہ کہانی بھی لازمی پڑھیں نصیب سے ہار گئی


اسے اپنی غلطی کا زرہ بھی احساس نہیں تھا اور ساتھ ہی اپنے خالہ زاد سے میسج پر بات بھی


 کر رہی تھی بیٹا مرد بے شک بوڑھا بھی ہو مگر غیرت کے نام پر کچھ باتیں برداشت


 نہیں کر سکتا میں نے کہا موبائل مجھے دے دو یہ ہی فساد کی جڑ ہے عائشہ نے میری


 طرف نفرت سے دیکھا اور موبائل دینے سے انکار کردیا


 


جو مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں نے اسے تھپڑ دے مارا اور موبائل اس کے ہاتھ


 سے چھین لیااب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اسے طلاق دے کر فارغ کر دوں یہ ہی


 پریشانی تھی جس کی وجہ سے مجھے ہارٹ اٹیک بھی ہوا تم مجھے مشورہ دو کیونکہ میں اب


 اور برداشت نہیں کر سکتا اس دفعہ تو میں بچ گیا مگر اگلی دفعہ شائد میرے بچے لاوارث


 ہو جائیں مولوی صاحب کی اس بات کا تو کوئی جواب میرے پاس نہیں تھا اور نہ ہی کوئی


 اس مسلے کا ہل تھا میرے خیال سے جو مولوی صاحب نے فیصلہ کیا تھا وہ ہی ٹھیک تھا 



لیکن عائشہ پر یعنی مولوی صاحب کی بیوی پر یہ نوبت کیوں آئی تھی یہ کہانی لکھنے کا مقصد


 کیا ہے یہ اس کے والدین کے غلط فیصلے کی وجہ سے آئی تھی اس پر نوبت ہمارے


 معاشری میں یہ بات اکثر دیکھی گئی ہے اگر کوئی شادی شدہ عورت فوت یو جائے تو اکثر


 ماں باپ بچوں کی خاطر چھوٹی بیٹی کا نکاح کروا دیتے ہیں جو کہ بہت غلط ہے ایک بیٹی


 تو فوت ہو جاتی ہے اور دوسری کو جیتے جی مار دیتے ہیں 


یہ کہانی بلکل سچی کہانی ہے آپ کو یہ مولوی صاحب کی بیوی کی کہانی کیسی لگی ہمیں کمنٹ


 کر کے ضرور بتائیں


Post a Comment

0 Comments