Urdu Kahani Niqab | Urdu Kahani in Urdu Fount | Heart touching Urdu kahani | اردو سچی کہانی نقاب

نقاب

وہ 5 بچوں کی ماں تھی شوہر مر چکا تھا بھائی حال نہ پوچھتے تھے ماں باپ مر چکے تھے سسرال والوں نے کچھ ماہ پاس رکھا پھر مارنا پیٹنا شروع  کر دیا ویسے آمنہ پڑھی لکھی تھی 

وہ بچوں کو لیئے میکے آ گئی بھابھی نے طنز کیاہم تمہارے بچوں کو نہیں پال سکتے آمنہ بچوں کو لے کر کہاں جاتی شوہر کے مرنے کے بعدتنہا ہو گئی تھی کوئی پرسان حال نہ تھا بچے بھوک سے بلکنے لگے بچے کھانا مانگتے تھے۔لیکن آمنہ کہاں سے لا کر دیتی پھر کسی نے کہا وہ فلاں حاجی صاحب بہت رحم دل ہیں ان سے مدد مانگو تمہاری مدد کریں گےآمنہ ان کے پاس گئی حاجی صاحب ہاتھ میں تسبیح پکڑے  بیٹھے ہوئے تھے آمنہ نے سلام کیاحاجی صاجب آہستہ سے بولےخیریت سے آنا ہوا؟آمنہ اپنا دکھ سنانے لگی حاجی صاحب مسکرائے اچھا آپ کو پیسے چاہیے کتنے پیسے چاہیےآمنہ روتے ہوئے بولی بس اتنے کے میرے بچے روٹی کھا سکیں حاجی صاحب نے اشارہ کیا ادھر آو کمرے میں لے گئے حاجی صاحب آہستہ سے بولےیہ لو بیس ہزار اور رات کو چکر لگانا یہاں۔ آمنہ حیرت سے بولی کیوں آناہے رات کو؟ حاجی صاحب مسکرائےسمجھا کرو نا ہر ماہ تم کو پیسے دیا کروں گاحاجی صاحب معاشرے کے گندے بھیڑیے تھے آمنہ سمجھ رہی تھی سب کچھ پیسے حاجی کو واپس کیئے اور گھر چلی گئی بچے بلک رہے تھےبھوک سے تڑپ رہے تھے  زمانے کی جانب دیکھ رہی تھی   سب مطلب کے پجاری تھے  ۔جب آمنہ کا،صبر ختم ہوا سوچا ۔50 روپے کا زہر ملے گا  ۔ کھا کر مر جاتی ہوں سب بچوں کو بھی کھلا دیتی ہوں کچھ پیسے پاس تھے ہوٹل سے کھانا خریدا زہر خریدا    کھانے میں ملایا گھر چلی گئی اب بچے جھگڑنے لگے پہلے میں کھاوں گا پہلے کھانا مجھے دو امی۔ آمنہ بچوں کو دیکھ رہی تھی جو جانتے بھی نہیں تھے کھانا ان کی موت ہےہمت نہیں ہوئی کھانا اٹھا کر پھینک دیا ہار کر حاجی صاحب کے پاس جانے کا سوچ لیا  راستے میں تھی کے سر چکرایا اور گر گئی سڑک پہ بے ہوش پڑی  تھی   کچھ لوگوں نے اٹھایا ہسپتال پہنچایا ہسپتال کا،ڈاکٹرآمنہ کو جانتا تھاکیوں کہ کالج میں کبھی ایک ساتھ پڑھتے تھےآمنہ کا بلڈ پریشر کافی کم ہو چکا تھا   ڈاکٹر عزیر دیکھ رہا تھا کیا حالت بنا رکھی ہے آمنہ نے۔ آمنہ تو بہت چلبلی سی پیاری سی شرارتی سی تھی جب آمنہ کو ہوش،آیا سامنے ڈاکٹر عذیز کھڑا،تھاآمنہ کو،کچھ حوصلہ  ہوا عزیرنے  پیار سے پوچھاآمنہ یہ سب ؟آمنہ خاموش،رہی  ۔۔عزیر نے پھر پوچھا  آمنہ نے اپنا ہر دکھ بیاں کیا  ۔ اور پھر  جب اللہ قسمت بدلتا ہےمعجزے ہوتے ہیں۔جب رحمت برستی ہے   جب مرد کوئی مردانگی پہ قائم رہتا ہےعزیر کو جب بتایا آمنہ نے اس،کا  شوہر مر چکا ہے 5 بچے ہیں چھوٹے چھوٹے سے ۔ایک حاجی نے راتوں کا سودا کیا پھر بچوں کو زہر دینے لگی تھی اب بے بس ہو کرگناہ کرنا چاہتی ہوں    عزیر مسکرایاآمنہ آو میرے ساتھ عزیر نے ساتھ لیئا بچوں کے لیئے کھانا خریداپھر آمنہ کی طرف دیکھ کر بولاآمنہ میں بھی اپنے لیے لڑکی ڈھونڈ رہا تھا،کوئی اچھی سی لڑکی  مل جائے   میری تلاش ختم ہوئی ۔کیا نکاح کرو گی مجھ سے مجھے تمہارے 5 بچے بھی قبول ہیں۔کہنے کو یہ ناممکن سا لگ رہا،ہے   کوئی ڈاکٹر 5 بچوں کی ماں کو،کیسے اپنا سکتا،ہے  لیکن   عزیر   نے آمنہ کو نئی زندگی دی تھی آمنہ کو گناہ سے بچایا تھاآمنہ نے پہلے انکار کیا پھر ہاں کر دی نکاح ہوا   آمنہ اب عزت کی زندگی گزار رہی ہے بچے  سب پڑھ رہے ہیں اللہ نے کرم فرمایا عزیر نے اپنا ہسپتال بنا لیا عزیر نے اپنے حصے کی انسانیت نبھا دی تھی اس نے مرد ہونے کا حق ادا کر دیا تھا ۔عزیر نے ثابت کر دیا تھا مرد ڈھال بھی بنتے ہیں عزیر نہ اپناتا  آمنہ کو تو شاید آمنہ یا تو بازار کی رونق بن جاتی یا بچوں سمیت خود کشی کر لیتی اج کل ہر دوسری شادی شدہ عورت خود کو قید سمجھتی ہے شوہر کے رویے سے تنگ ہے ۔  وہ کیا جانے آمنہ بن کر رات کا سودا کرنا کسی حاجی جیسے انسان کے سامنے ہاتھ پھیلانا   کتنا اذیت ناک عمل ہے   ۔خدارا  اگر عزت کی چاردیواری میں ہو تو اللہ کا شکر ادا کروچھوٹی چھوٹی باتوں پہ گھر اجاڑنے کی بات نہ کرواور ہر دوسرا مرداپنی بیوی سے تنگ ہے مانا کے    بیوی آپ کو سمجھ نہیں پا رہی یا وقتی کوئی غصہ ہے پلیز    کسی کو عمر بھر کا دکھ نہ دیں عزیر بن کر خوشیاں بانٹیں    اور سہارا بن کر جئیں ایک دوسرے کا ۔میرے معاشرے کا ہر مرد اگر سمجھ جائے ۔  عزیر کی طرح کسی کو زندگی دینا تو کبھی کوئی لڑکی ۔طوائف نہ بنے کبھی کوی ماں    خودکشی نہ کرےاگر ہر عورت سمجھ جائے طلاق یا ہمسفر کےبعد کا انجام۔ تو ہر عورت صبر شکر کے ساتھ ہر شکوہ بھلا کر اللہ کا شکر ادا کرے 

Post a Comment

0 Comments