میری ماں بہت خو بصورت تھی ، ابور کشہ ڈرائیور تھے ، غربت اور اپنی خو اہشات کے لیے ایک دن امی علی نامی شخص کے ساتھ چکر چلا کر ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں ، میری امی کا نام شیلا تھا ۔ نشیلی آ نکھیں اور لمبے لمبے بال تھے ۔ کہتے ہیں اللہ تعالی اپنے ہر بندے کی آزمائش لیتا ہے اور اس کے کچھ بندے اس کی آزمائش پر پورا اتر جاتے ہیں اور کچھ کمز ور پڑھ جاتے ہیں ۔ میری زند گی میں بھی ایک ایساواقعہ ہواجس کی وجہ سے میری اور میرے بھائی کی پوری زندگی بدل گئی میرے بھائی کا نام اقبال اور میر انام ثناء ہے ۔ میرے ابو کا پیشہ رکشہ چلانا تھا ۔ ابو کی آمدنی اتنی نہ تھی کہ وہ امی کی خواہشات پوری کر سکیں ۔ روز گھر میں نوک جھونک ہوتی تھی۔امی پورا پورادن گھر سے باہر رہتی تھیں ۔ جب رات کو گھر پہنچتی تو کسی سے بات نہ کرتی اور سو جاتی جیسے ان کا اپنے شوہر اور اولاد سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ امی علی نام کے آدمی سے ملیں جو بہت امیر تھا ۔ امی اور اس آدمی کی نزدیکیاں بہت بڑھنے لگ گئیں اور امی نے اس آدمی سے شادی کرنے کے لئے ابو سےطلاق کا مطالبہ کیا ۔ ابونے امی کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ تمھاری ۲ سال کی بیٹی ہے اور ۴ سال کا بیٹا ہے میر انہیں کم از کم ان بچوں کے بارے میں ہی سوچ لو ۔ مگر امی کسی حال کچھ بھی سمجھنے کے لئے تیار نہ تھیں۔انہیں صرف اپنی خواہشات کی پرواہ تھی اور اس وجہ سے میرے والدین کی طلاق ہو گئی ۔ جس وقت مجھے اور میرے بھائی کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ ہمیں دنیا کے اس اند ھیرے میں تنہا کر گئی تھیں ۔ ابو اور اللہ تعالی کے سوا کوئی دوسرا سہارا نہ تھا جب کسی ماں کو اپنی اولا د کو پیار کر تادیکھتی تو اس ماں کی ممتا کو دیکھ کر میرادل رو پڑ تا اور گھنٹوں اکیلے بیٹھ کر رویا کرتی تھی ۔ سردیوں میں جب تمام بچے اپنی ماں کی گرم آغوش کے ساۓ میں سور ہے ہوتے تو ہم رات کی تیز ہواؤں کے سائے میں سور ہے ہوتے تو میں رات کی تیز ہواؤں کے جھونکوں سے ڈر جاتی تو تب میں ایک دیوار کے ساتھ گھنٹوں اپناسر زمین کی آغوش میں رکھ کر سوتی اور دعاکرتی کہ اللہ تعالی اس رات کی سیاہی جلد ختم کر دے ۔ تکلیف تب زیادہ ہوتی جب اپنوں سے زیادہ غیر لوگ ہمیں ترس کھا کر یہ کہتے یہ لو کھانا ہمارے گھر آؤ کھانا کھالو ، کچھ لوگ ترس کھا کر اپنے بچوں کے پہنے ہوۓ کپڑے مجھے اور میرے بھائی کو دیتے ہم انہیں بڑی خوشی خوشی پہن کر اپنے وقت کو گزارتے تھے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں میں بہت درد ہے اس درد کے ساۓ میں ، میں نے جینا سیکھ لیا تھا ۔ مجھے اپنی ماں سے نفرت ہو چکی تھی اس نے کبھی یہ جانے کی بھی کوشش نہ کی تھی کہ اس کی اولاد کس حال میں ہے ۔ کبھی ملنے نہیں آتی تھی وہ عورت ماں کہلانے کے بالکل لائق نہ تھی ۔ اپنی ماں سے دھو کہ کھانے کے بعد اب مجھے کسی رشتہ پر اعتبار نہ رہا تھا ۔ میرے ابونے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا اور ہمارے لئے محنت کرتے تھے تا کہ دو وقت کی روٹی میسر ہو سکے ۔ میں اور میرا بھائی پریشانیوں کے باعث تعلیم حاصل نہ کر پاۓ تھے ۔وقت تیزی سے گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے زند گی کے 10 سال گزر گئے ۔ وقت کے ساتھ زند گی بہت بدل چکی تھی اب میرے ابو بھی دوسری شادی کر چکے تھے ۔ اس عورت کا نام صباتھا ۔ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی عورت طلاق شدہ تھی اور ابو کو ہر وقت مانوس کرنے کے لئے بنی سنوری رہتی تھی ۔ سوتیلی ماں کے آنے کے بعد اب ابو بھی کافی بدل چکے تھے ۔ اس عورت نے بیوی ہونے کے تمام فرائض ادا کئے لیکن وہ ہمیں اپنی اولاد کی طرح نہیں اپنا پائی ۔ میر املنا جلنا خاندان سے بھی ختم کر دیا تھا ۔ میں پورا پورادن اکیلے کمرے میں گزار دیتی تھی ۔ اس عورت کا رویہ ہم دونوں بہن بھائیوں سے بالکل اچھانہ تھا ۔ مجھ سے پورے گھر کا کام کرواتی اور کھانا پکواتی اور بھائی کو بھی نوکری پر لگوادیا تھا ۔ جہاں غلط صحبت ملنے کی وجہ سے وہ سگریٹ پینے کا عادی بن چکا تھا اور آہستہ آہستہ اس نے سارے نشے کر ناشر وع کر دیے تھے ۔ اس عورت نے مجھے لعلیم تک حاصل نہ کرنے دی اور نہ ہی مجھے اچھے اور برےکی تمیز سمجھائی ۔ اس عورت کی ایک ماں اور دو شادی شدہ بہنیں اور ایک بھائی تھا اس کے گھر والے اکثر آیا کرتے تھے ۔ اس کا بھائی اچھی شخصیت کے کر دار کا حامل نہ تھامجھے غلط نظروں سے دیکھتا ۔ کبھی کسی بہانے سے میر اہاتھ پکڑ تا اور کبھی کسی بہانے سے میرے پاس آکر بیٹھ جا تا ۔ میں نے اس کی شکایت اپنی سوتیلی ماں سے کی تو ا س نے الٹا مجھے ڈانٹا ، دھمکایا اور گھر والوں کی نظر میں مجھے غلط ثابت کر دیا تھا تا کہ مجھ پر کوئی یقین نہ کرے ۔ میں اس عورت کے ظلم کا حصہ بن چکی تھی اس نے میری نا سمجھی اور معصومیت کا فائدہ اٹھایا اور جس عمر میں بچے پڑھتے ہیں اس عمر میں میرے دماغ میں عشق و محبت جیسی باتیں بھر دیں ۔ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر میر ارشتہ اپنی خالہ کے بیٹے سے کر دیا ۔ رشتے کے وقت میں12  سال کی تھی اور 1 سال گزرنے کے بعد آپس کے اختلافات کی وجہ سے یہ رشتہ میری سوتیلی ماں نے ختم کر دیا ۔ سوتیلی ماں مجھ سے کسی نہ کسی طریقے سے جان چھٹر انا چاہتی تھی میرارشتہ روهان نامی 26 سالہ لڑ کے سے کر دیا ۔ اسکی عمر 26 سال ، گندمی رنگ تھا ۔ غریب طبقے سے تعلق رکھتا تھا اور رکشہ چلاتا تھا ۔ رشتے کے بعد وقت تیزی سے گزرتا گیا اب میری عمر 15 سال ہو چکی تھی ۔ شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔ ایک دن میں اور میر ابھائی شادی کا سامان لینے بازار گئے ۔ وہاں سے واپسی پر ایک عورت روڈ پر بھیک مانگ رہی تھی ۔ اس کی صدا کان میں آئی تو ہم دونوں نے پلٹ کر دیکھا ۔ وہ کوئی اور نہیں ہماری ماں تھی ۔ وہ ہمیں پہچان نہ سکی لیکن ہم نے انہیں بتایا کہ ہم انہیں کی اولاد ہیں ۔ جب ہم نے پو چھا کہ آپ کی یہ حالت کس نے کی تو انہوں نے بتایا کہ جس آدمی کے لئے میں نے اپنے انمول رشتے ٹھکرادیے آج اس ہی آدمی نے مجھے چھوڑ دیا ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے مجھے اولاد جیسی نعمت سے محروم کر دیا تھا میں اس کو اولاد نہ دے سکی۔امی نے ہم دونوں سے بہت معافی مانگی اور ہم انہیں معاف کر کے گھر آگئے ۔ وہ بھی میری شادی میں شریک ہوئیں ۔ اللہ تعالی نے میرے صبر کے صلے میں بہت اچھے شوہر سے نوازا ۔ وہ میر ابہت خیال رکھتے ۔ شادی کے بعد مجھے اپنی سوتیلی ماں کے ظلم سے بھی آزادی مل چکی تھی ۔ میرے کہنے پر میرے شوہر نے میری ماں کو بھی اپنے گھر میں جگہ دے دی ۔ میں نے انہیں کبھی بھی اس بات کا احساس تک نہ ہونے دیا کہ وہ ہمیں ماں کا پیار نہ دے سکیں اور ان کی بہت خدمت کی ۔میں اللہ تعالی کا بہت شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے اپنی اس نئی زندگی میں سکون ، محبت ، اور وہ سب کچھ حاصل ہے جس کی مجھے چاہت تھی 

Post a Comment

0 Comments