اچھا کیا کھانا ہے میری جان نے ۔۔کیفی آئینے کے سامنے کھڑا اپنی ہمسفر اعنا سے پوچھ رہا تھا۔۔اعنا کچھ ناراض سی تھی ۔مجھے کچھ نہیں کھانا ۔۔بس مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔کیفی مسکرایا ۔سچ میں چھوڑ دوں اکیلا اعنا خاموش رہی ۔کیفی ۔نے اعنا کی طرف دیکھا ۔آخری بار پوچھ رہا ہوں چھوڑ دوں اکیلا آپ کو۔۔اعنا ۔۔۔۔نظر جھکائے اپنے دوپٹے کو ہاتھوں میں پکڑے مسل رہی تھی۔کیفی  ۔۔کمرے سے باہر جانے لگا ۔۔اعنا دل نے ۔۔۔کیفی کو جاتے ہوئے دیکھا  ۔۔تو من میں باتیں کرنے لگی ۔بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ۔۔خوش رکھوں گا ۔۔کبھی رونے نہیں دوں گا ۔۔۔یہ کروں گا وہ کروں گا ۔۔۔ابھی شادی کو 6 مہینے ہی گزرے ہیں کے ۔۔۔میری پرواہ کرنا چھوڑ دی غصے سے اٹھی ۔۔کچن میں چلی گئی ساس نے آواز دی او۔اعنا ۔اعنا چولہے کے پاس کھڑی ۔اونچی آواز میں بولی جی خالہ ۔۔۔کوئی کام ہے کیا ۔ساس نے آواز دی ۔۔۔میری بات سن یہاں آ کر اعنا پاس گئی۔۔جی خالہ۔ساس کہنے لگی  ۔یوں کر میرے لیئے کھیر بنا دے ۔اور ہاں میٹھا ذرا کم رکھنا ۔۔۔اچھی طرح پکانا کھیر سے پہلے۔۔میرے لیئے ایک کپ چائے بنا دے ۔۔۔اعنا سر جھکائے۔ٹھیک ہے خالہ کچن میں چلی گئی۔۔۔مجھے تو جیسے مشین سمجھ رکھا ہے نا۔اعنا یہ بنا دو اعنا وہ بنا دو ۔۔۔ابھی دیور ا جائے گا وہ فرمائش کرے گا ۔۔پھر سسر کی فرمائش اور بعد میں سب مجھے باتیں سنائیں گے ۔۔۔اعنا نے کھانا بنایا ۔۔۔۔سب کو کھانا دیا کیفی ۔۔۔بھی کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھا تھا ۔۔۔۔کیفی نے آواز دی ۔۔۔اعنا پانی دینا اعنا خاموشی سے پانی کا گلاس سامنے رکھا اور پاس کھڑی ہو گئی کیفی شرارت کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔اعنا ۔۔۔کھانا بنانا سیکھ لو ۔ ۔تم کو کھانا بھئ بنانا  نہیں آتا۔۔۔اعنا ۔۔نے سامنے سے کھانے کی پلیٹ اٹھا لی ساس نے جب یہ دیکھا تو ساس غصہ کرنے لگی ۔۔تم کو شرم نہیں آئی  ۔۔سامنے سے کھانا اٹھاتے ہوئےکتنی بدتمیز لڑکی ہو تم کیفی اور اعنا میں تو محبت کی لڑائی تھی وہ ۔لیکن ساس نے بہت باتیں سنائی اعنا کو اعنا خاموش تھی غصے سے کمرے میں چلی گئی۔۔۔کیفی ہنسنے لگا۔۔امی میں تو مذاق کر رہا تھا اعنا سے آپ نے اس بیچاری کو اتنا ڈانٹ دیا ماں غصے سے بولی ۔۔یہ تماشے اس گھر میں نہج چلیں گے اور خبردار اتنا سر پہ چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے اسے ۔اعنا کمرے میں لیٹی ہوئی تھی جا کر کیفی پاس آ کر بیٹھا    اعنا ۔۔۔میری اعنا دل ۔۔۔کیا ہوا۔۔۔اعنا کروٹ لیئے لیٹی ہوئی تھی  ۔۔کیفی نے ماتھے پہ بوسہ کیا ۔۔ارے مذاق کر رہا تھا ۔۔تم کو پتہ تو ہے ۔۔میری عادت کا میں مذاق کرتا ہوں تم ناراض نہ ہوا کرو مجھ سے۔۔جب ناراض ہوتی ہو نا۔۔تو یوں لگتا ہے یہ دنیا اندھیری نگری ہے تم میرا عشق ہو  ۔۔۔میری طرف دیکھو۔۔۔اعنا ۔۔اعنا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا ۔۔۔اعنا دل ۔۔۔تمہاری ناراضگی میری جان نکال لیتی ہے  میں جانتا ہوں تم سارا دن بہت کام کرتی ہو اکیلی پورے گھر کو سنبھالا ہوا ہے۔تم گول گپے مانگ رہی تھی نا میں ابھی لے کر آتا ہوں  چلو اٹھو میرے آنے خود کو سنوار لو دیکھو تو سہی کیا حالت بنائی ہوئی ہے ۔۔اعنا نے کیفی کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔کیفی  ۔مجھے کچھ نہیں کھانا نہ مجھے کچھ چاہئے   بس آپ مجھے اگنور نہ کیا کریں ۔۔مجھے وقت دیا کریں ۔۔

میں ہر کانٹوں سے گزر جاوں گی اگر آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہوا تو۔۔۔کیفی مسکرایا۔۔میرا ہاتھ ہمیشہ میری جان تمہارے ہاتھ کیں رہے گا  چلو اب اٹھو منہ ہاتھ دھو لو۔میں بس 20 منٹ میں آتا ہوں ۔کیفی گول گپے لے کر آیا۔  ۔۔کچن میں گیا  گول گپے پلیٹ میں ڈال رہا تھا کے ماں کچن میں آئی۔کیفی یہ کیا تماشہ بنایا ہوا ہے تم لوگوں نے کیا گھر میں کھانا نہیں بنا ہوا جو اس چڑیل کے لیے یہ گند لے کر آئے ہو  ۔کیفی بولا امی ۔۔۔وہ کون سا کچھ مانگتی ہے اگر بیچاری کا دل کر رہا تھا کھانے کا لے آیا تو اس میں غصہ کرنے والی کون سی بات ہے ۔۔ماں غصے سے بولی اس کا زیادہ دل کرتا ہے چسکے لگانے کا اس گھر میں یہ تماشے نہیں چلیں گے ۔۔فرمائشیں ہی ختم نہیں ہوتییں کمبخت کی۔۔۔

ماں نے غصے سے ہاتھ مارا سب کچھ نیچے گرا دیا آج کے بعد اس گھر میں یہ سب تماشے نہ ہوں جو گھر میں پکا ہوا ہے بس وہی کھائیں گے سب  ۔کیفی ماں کے سامنے بے بس ہو گیا ۔۔وہ کیا کہتا ماں کو   اعنا کمرے میں بیٹھی انتظار کر رہی تھی۔۔۔اتنے  میں کیفی کمرے میں آیا۔۔اعنا نے دیکھا۔۔چہرہ اترا ہوا سا تھا ۔ اعنا نے پوچھا ۔۔کیفی کیا ہوا آپ کو۔کیفی ۔۔پیار سے بولا۔۔اعنا۔۔۔۔میرے پاس او ۔اعنا کے پاس بیٹھا۔۔۔اعنا کو سینے سے لگایا ۔۔۔اعنا سینے پہ سر رکھے۔۔کیفی آپ تو گول گپے لانے گئے تھے نا کیفی ۔۔سمجھانے لگا   اعنا ۔میرے امی ابو ذرا پرانے خیالات کے ہیں وہ اگر کبھی کچھ سخت الفاظ کہہ جائیں تو درگزر کر جانا میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ ۔میں آہستہ آہستہ امی ابو کو سمجھاوں گا۔۔۔وہ اپنی تلخیاں کم کر لیں گے ۔۔اعنا ۔۔۔آہستہ سے بولا۔۔۔کیفی میری جان آپ کی محبت بس میرے لیئے کبھی کم نہ ہو بس۔۔۔۔آپ اپنی محبت کا سایہ مجھے رکھنا کتنا بھی مشکل سفر ہوا میں طے کر لوں گی۔۔۔

کیفی نے ماتھے پہ بھروسہ کیا اعنا ۔۔۔تم روح ہو نا میری۔۔۔میں تو اپنی اعنا کہ سانس میں سانس لوں گا    اعنا میری جان ۔۔۔تم کو بھوک لگی ہے میں کھانا لے کر آتا ہوں اعنا نے منع کر دیا کیفی آپ نہ جائیں میں خود جاتی  ہوں امی دیکھیں گی تو ۔۔۔پھر غصہ کریں گی ۔۔اعنا کمرے سے باہر گئی ۔۔کچن کی طرف جا رہی تھی کے ۔۔سسر نے آواز دی  ۔۔اعنا ادھر آو ۔۔اعنا پاس گئی جی انکل سسر نے کہا میری ٹانگیں دبا دو ۔۔اعنا حیران تھی ۔۔انکل میں کھانا کھانے لگی ہوں ۔۔۔کیفی کو بیجھتئ ہوں وہ اپ کہ ٹانگیں دبا دیتے ہیں۔۔۔سسر نے کہا تم ہی دباو   تمہارے ہاتھ ٹوٹے ہیں کیا  ۔۔اعنا ۔خاموش ہو گئ ۔۔لیکن انکل   ۔اعنا ۔۔پاس بیٹھ گئی   ٹانگیں دبانے لگیں  1 گھنٹہ گزر گیا دباتے ہوئے   ادھر کیفی سارے دن کا تھکا ہارا تھا وہ سو گیا ۔رات کے 11 بج گئے۔۔اعنا نے کہا انکل میں اب سو جاوں جا کر ۔۔لیکن سسر نے کہا میرا سر بھئ دبا دو    اعنا ۔۔بولی انکل اب میں خود تھک گئی ہوں اتنا کہہ کر اعنا چلی گئی   بنا کچھ کھائے ۔۔کمرے میں چلی گئی۔۔کیفی سو چکا تھا ۔۔پاس لیٹے گئی جا کر ۔۔کیفی آفس کے لیئے ریڈی ہوا ۔۔۔جانے لگا تو ۔۔سسر نے اعنا کو آواز دی ۔۔۔ادھر او میرا سر دباو ا کر  ۔۔اعنا غصے سے بولی ۔۔کیفی جائیں انکل کا سر دبا دیں جا کر ۔۔کیفی مسکرا کر بولا ہاں میں دبا دیتا ہوں۔۔کیفی جب باپ کے پاس گیا تو باپ نے کہا میں نے بہو کو کہا ہے تم جاو کام پہ کیفی پیار سے بولا ابا آپ کا سر دبا کر چلا جاتا ہوں ۔۔

باپ گالیاں دینے لگا۔۔۔تم بیوی کے غلام نہ بنو ۔۔۔وہ کوئی دوسری دنیا سے آئی۔۔اسے بیجھو  ۔۔وہ ہی دبائے گئ میرا سر ۔۔کیفی۔۔حیرانگی میں بولا۔۔ابا صبح صبح یہ سب کیا ہے اعنا بھی سامنے کھڑی تھی ساس بھی سسر نے بہت گندی زبان استعمال کی اعنا کے لیئے   ایک ایک لفظ دل میں تیر کی طرح پیوست ہو رہا تھا   اعنا کو پہلی بار کوئی مرد یوں اتنی گندی گالیاں دے رہا تھا ۔۔کیفی نے سمجھانا چاہا ۔۔ابا آپ کو ایسی باتیں کرنا زیب نہیں دیتا۔۔ساس بھئ بول اٹھی ۔۔۔باپ کی عمر کا ہے بڈھا اگر سر دبا دیتی تو کیا جاتا اس کا ۔۔لیکن وہ اپنے غرور میں رہتی ہے ہم کو تو اہنا مانتی ہی نہیں۔۔باپ سمجھ کر سر دبا دیتی۔۔۔کیفی بولا امی وہ ناشتہ بنا رہی ہے ۔۔۔آپ دبا دیں ابا کا سر ۔میں دبا دیتا ہوں اعنا ہی کیوں  بہت جھگڑا ہوا۔۔۔اعنا پڑھی لکھی لڑکی تھی   خاموش رہی    ۔کیفی آفس چلا گیا ۔۔۔سسر نے بہت بے عزت کیا اعنا کو ۔۔ساس بھی گالیاں دیتی رہی ۔۔ہمارے پتر کو ہم سے دور کر رہی ہے چڑیل کہیں کی ۔۔منحوس۔۔

اعنا خاموش رہی  ۔۔رات کو کیفی گھر آیا۔۔۔کیفی کو بتانے لگی ۔۔آپ کے امی ابو  نے مجھے سارا دن بہت ذلیل کیا ۔اتنی گندی گالیاں دی ہیں۔کیفی میں پاگل ہو جاوں گی ۔۔آپ امی ابو سے بات کریں کیفی بس معاملے کو ختم کرتا چاہتا تھا۔۔۔کیفی نے پیار سے سمجھایا۔۔۔تم پریشان نہ ہو ۔۔۔ایسا کرو ابو کو دبا دیا کرو  ۔۔۔کچھ نہیں ہوتا۔۔۔اعنا کا ہاتھ تھاما اپنے سینے پہ رکھا   ۔میری خاطر میرے لیئے    ہم گھر میں سکون چاہتے ہیں نا ۔۔تم ابو کو دبا دیا کرو۔۔۔اعنا نے مسکرا کر کہا ۔۔آپ میرے ساتھ ہیں تو میں آپ کی ہر بات پہ سجدہ کروں گی ۔۔۔آپ کی خوشی ہی تو میری مسکراہٹ ہے۔۔جیسا آپ کہیں۔۔لیکن ابو گندی گالیاں دیتے ہیں نا تو مجھے بہت عجیب لگتا ہے   کیفی پیار سے بولا    سن لیا کرو ۔۔کچھ نہیں ہوتا ۔۔وقت گزرنے لگا ۔۔اعنا ماں بننے والی تھی ۔۔۔اب ساس نے ورد کرنا شروع کر دیا ۔۔بیٹا ہی چاہئے بیٹا ہی پیدا کرنا ہے تم نے   اعنا کو ساس کے یہ الفاظ سن کر بہت عجیب لگتا تھا ۔ اعنا نے کیفی سے کہا ۔۔۔امی ایسا کیوں کہتی ہیں بیٹا ہی چاہیے میرے ہاتھ میں کیا ہے بھلا ۔۔یہ تو اللہ کہ رضا ہے نا ۔۔ساس سسر پاس بیٹھے تھے  ۔اعنا نے کیفی سے کہا ڈاکٹر کہتے یے خوراک بہتر کرو۔۔۔مجھے آپ کچھ فروٹ لا دو۔۔۔اور دودھ بھی لا کر دیا کرو ساس نے سنا تو غصے سے بولی۔۔۔ہمارے پاس اتنے فضول پیسے نہیں ہیں۔۔فروٹ اور دودھ کے ۔۔اور خبردار توں کچھ لے کر آیا اس کے لیے تو  پیسے  جمع کر تیرے چھوٹے بھائی کو دبئی بیجھنا ہے ۔۔۔بھائی کی فکر کر ۔۔۔یہ مر نہیں جائے گی فروٹ نہیں کھائے گی تو ۔ اعنا کی حالت نازک تھی ۔۔۔لیکن ساس سسر بہ جانے کیوں زہر اگلتے تھے اس کے خلاف۔۔۔وہ تو بیچاری رشتہ نبھانا چاہتی تھی۔۔لیکن ساس سسر نے جتنا کر سکتے تھے اعنا کو بے عزت کرتے تکلیف دیتے۔۔ 

شوہر سب کچھ دیکھ کر خاموش رہتا ۔۔۔بارش کا موسم تھا ۔۔۔بہت تیز ہوا چل رہی تھی ۔۔اعنا آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ۔۔ آنسو بہتے ہوئے ۔۔بالکونی میں کھڑی تھی۔  

وہ سوچ میں گم تھی ایسا کیا گناہ ہو گیا کے مجھے اتنی اذیت دی جاتی ہے ساس سسر اتنی نفرت کرتے ہیں مجھ سےمیں تو تہجد گزار لڑکی    ۔مجھے اتنی گندی گالیاں دی جاتی ہیں میری پاکیزگی پہ الفاظ داغے جاتے ہیں۔۔اور کیفی خاموش رہتا ہے کیفی نے آواز دی ۔۔۔اعنا کہاں ہو میری جان   اعنا نے آنسو صاف کیئے ۔۔۔تیز ہوا چل رہی تھی ۔۔بال ہو میں چہرے پہ خوشبو بکھیر رہے تھے    کیفی پاس آیا۔۔۔اداس ہو میری جان ۔۔۔اعنا بارش کے گرتے ہوئے قطروں  کو محسوس کر رہی تھی ۔۔کیفی نے ہاتھ تھاما ۔۔۔نہ ہوا کرو اداس میری جان۔۔میں جانتا ہوں امی ابو غلط کرتے ہیں   لیکن میرے ماں باپ ہیں۔  میں ان سے کیا کہوں۔۔اعنا خاموش رہی   ۔کیفی نے ماتھے پہ بوسہ کیا ۔۔اعنا۔۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں میں جانتا ہوں تم میری وجہ سے سب کچھ برداشت کرتی ہو ۔۔میری وجہ سے سب تلخیاں سہتی ہو     میری جان یہ مشکل وقت ہے امی ابو ایک دن تم کو اپنا ہی کیں گے  ۔تم ایسا کرنا امی ابو کی خدمت کیا کرو ۔وہ جیسا کہیں کر لیا کرو  ۔۔ہم دونوں سکون چاہتے ہیں۔۔ہم دونوں کو قربانی دینا ہو گی  ۔اعنا روتے ہوے ۔۔۔کیفی کے سینے سے لگ گئی ۔۔کیفی۔۔۔امی ابو مجھے نہ جانے کیوں اتنا برا سمجھتے ہیں۔۔صبح ہوئی۔۔۔اعنا ۔۔نے سب کے لیے کھانا بنایا ۔۔گھر کے کام کیئے ۔۔۔پھر ساس کے پاس گئی ۔۔امی آپ کو اچھا نہیں نہ لگتا کیفی مجھے الگ میں خرچہ دے تو امی میں اب سے کیفی سے خرچہ نہیں لیا کروں گی ۔جیسے آپ کہیں گی ویسا ہی کیا کروں گی ۔۔ساس حیران تھی اسے کیا ہوا ہے ۔۔اج سے آپ میری خالہ نہیں امی ہیں ۔۔۔ساس حیران تھی  ۔۔من میں سوچنے لگی۔۔۔یہ ضرور اس کی کوئی چال لگ رہی ہے ۔۔۔

امی آپ کے بالوں میں کلر لگا دوں آپ کے بال سفید ہو چکے ہیں۔۔یا مہندی لگا دوں۔۔۔ساس نے جھوٹی مسکراہٹ سے کہا ۔۔نہیں نہیں بیٹی ۔۔رہنے دو۔۔پھر سسر کے پاس گئی ۔۔ابو آپ بتائیں آپ کے لیئے کھانے میں کیا بناوں آج ۔۔آپ بھنڈی شوق سے کھاتے ہیں نا ۔۔وہ بنا دوں ۔۔۔سسر بھی حیران تھا ۔۔۔گرمی کا موسم تھا ۔۔۔اعنا نے ہر ممکن کوش کی ۔۔ساس سسر کا دل جیتنے کی ۔۔پھر جب بچے کی ہیدایش کا وقت نزدیک تھا تو اعنا نے کہا ۔امی ۔۔۔مجھے بہت گرمی لگتی ہے ۔۔ایک ائیر کولر ہی لگوا دیں میرے کمرے میں ۔ساس نے اعنا کی طرف دیکھا  ۔فضول پیسے نہیں ہیں۔ ۔ہمارے پاس ۔۔تم کو زیادہ گرمی لگتی ہے۔۔۔زیادہ گرمی لگتی ہے تو اپنے باپ کے گھر چلی جاو ۔۔۔اعنا کا دل تو جیسے چھلنی ہو گیا۔۔چکا کر بولی امی آپ لوگ کیسے پتھر دل انسان ہیں آپ کے پاوں دھو کر بھی پیئے ہیں لیکن آپ نے زہر اگلنا نہیں چھوڑا ۔۔۔میں  ے صرف ائیر کولر کا کہا ہے   آپ نے مجھے بے عزت کر دیا ۔۔آخر کتنا برداشت کروں سسر پاس بیٹھا تھا ۔۔یہ سن کر گالیاں دینے لگا ۔۔۔تم ہو ہی بے غیرت عورت۔۔۔اہنے مطلب کی ہو ۔۔چھوٹے بڑے کا لحاظ ہی نہیں میں تو بہت کہا تھا یہ رشتہ نہ کرو لیکن   یہ بوڑھی نہیں سنتی تھی میری بات ۔۔اعنا بہت پریشان تھی ۔۔وہ خود کشی کر لینا چاہتی تھی۔۔رات کا کیفی آیا۔۔۔امی ابو نے کہا ۔۔پانی بعد میں پینا پیلے بیوی کو گھر سے نکالو ۔۔۔کیفی حیران تھا امی ہوا کیا ہے ۔باپ بولا اس کو تمیز نہیں ہے بات کرنے کی  یا اس گھر میں یہ رہے گی یا ہم رہیں  گے ۔۔۔کیفی بھی تنگ ا چکا تھا  ۔۔کیفی نے اعنا کو بازو سے پکڑا۔۔۔غصے سے بولا۔۔اعنا جا اہنے امی ابو کے گھر چلی جا  ۔اعنا نے کیفی کے چہرے کی جانب دیکھا۔۔کیفی غصے سے بولا میں خود چھوڑ کر آتا ہوں تم کو اعنا نہیں جانا چاہتی تھی لیکن اس رات بہت جھگڑا ہوا تھا پورا محلہ اکھٹا ہو گیا تھا ۔ اعنا کو ماں باپ کے گھر چھوڑ کر چلا گیا کیفی۔۔اعنا ۔۔خاموش تھی ۔۔کیا کروں میرے اللہ میرا گناہ کیا ہے میں نے کیا کیا ہے  ۔میں کس گناہ کی سزا پا رہی ہوں  ۔کیفی گھر چلا گیا ۔۔اب امی ابو کو سکون تھا ۔ گھر میں بلکل سکون  تھا ۔۔۔ادھر اعنا پریشان تھی بچے کی پیدائش بھی نزدیک تھی۔۔۔کیفی نہ جانے کیا سوچ رہا تھا ۔۔۔کچھ دن گزرے کیفی نے کوئی رابطہ نہ کیا اعنا سے۔۔اعنا نے نہ جانے کتنے مسججز کیئے کالز کی ۔۔لیکن کیفی کا کوئی ریپلائی نہ ا رہا تھا  ۔۔اعنا کا دل پھٹنے لگا  ۔کیفی اللہ کا واسطہ دیتی ہوں میرا فون اٹھا لو ۔۔مجھ سے ایک بار بات کر لو۔۔۔۔کیفی کو میسج کیا  ۔کیفی  ۔آپ تو میرے بنا ایک سانس بھی نہیں لیتے تھے   اب تو20 دن گزر گئے ہیں آپ نے مجھ سے بات تک نہیں کی  ۔کیفی مجھے آپ کی آواز سنی ہے   بھوکی پیاسی انکھوں میں آنسو تھے ۔۔کیفی ۔مجھے چھوڑ نہ دینا ۔۔میں مر جاوں گی۔۔بہت پیارکرتی ہوں آپ سے ۔۔آپ جیسا کہو گے کروں گی  ۔میں آپ کے امی ابو کے سامنے سر جھکا لوں گی مجھے لے جاو ا کر ۔۔اعنا دل کے بھائی بہنوں ماں باپ سب نے کہا ۔۔۔کیفی سے رابطہ ختم کر دو۔۔۔اس کو پرواہ نہیں تو تم کو بھی اسے فون کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔اعنا ۔۔روتے ہوئے بولی ابو کیفی میری کل کائنات ہے  میں کیفی کے بنا مر جاوں گی کمرے میں گئی دروازہ بند کیا ۔۔۔چیخ چیخ کر روتے ہوئے میسج کرنے لگی  ۔کیفی    اتنی نے رخی مجھ سے   میری جان ۔۔اتنے پتھر دل کیسے ہو گئے آپ۔۔دیکھو نا آپ کی اعنا دل ۔۔۔تڑپ رہی ہے آپ کے لیے   میری حالت دیکھ لو ا کر  ۔مر جاوں گی میں۔۔کیفی کا میسج آیا۔۔تم میرے لیے مر چکی ہو ۔۔نہ تم میری ہو نہ تمہاری کوکھ میں پلنے والا بچہ میرا ہے ۔۔اب مجھے میسج یا کال نہ کرنا۔۔۔۔اعنا آنے جب یہ سنا  ۔تو بے ہوش ہو گئی ۔۔۔کیفی   ۔اتنی نفرت میں نے کیا گناہ کیا ہے ۔۔اتنا زہر میرے لیئے ۔۔کیفی میرے میسج سن لو  ۔میں آپ کہ ہوں یہ بچہ ہمارا ہے  آپ کے ماں باپ کو اچھی نہیں لگتی نا میں۔۔اسلیئے آپ ایسا کہہ رہے ہیں نا۔۔کیفی   آپ نے چھوڑا نا تو   دیکھنا میں قبر میں جا کو سو جاوں گی   پھر بلاتے رہنا مجھے ۔۔میں بھی آپ سے بات نہیں کروں گی  ۔پاگل میں تو تمہارے ساتھ بہت جینا چاہتی ہوں بوڑھی ہونا چاہتی ہوں تمہارے ساتھ  ۔تم نے مجھ پہ کیا کیا الزام لگا دیئے ۔۔کیفی۔۔ا جا نا میری جان ۔۔اپنی اعنا کو لے جا ا کر ۔۔کیفی نے میسج کیا میرے ماں باپ سے معافی مانگنی ہو گی۔۔اعنا دل۔۔پیار سے بولی۔میں پاوں چوم لوں گی امی ابو کے۔۔بس مجھے لے جاو ا کر ۔۔کیفی میں خود ا جاتی ہوں  ۔چلا کر بولی۔۔امی کیفی کہہ رہا ہے امی ابو سے معافی مانگ لو تو ا جاو واپس ۔۔میں اپنے گھر جا رہی ہوں   باپ بولا ہم کو یوں بے عزت نہ کروا وہ لینے ائیں تو تم جاو گی ورنہ ہم اجازت نہیں دیں گے ۔۔اور ہاں اگر مرضی سے گئی تو ہم تمہارے کیئے مر گئے ۔اعنا کا سر چکرانے لگا  ۔۔وہ بے ہوش ہو کر گر گئی۔۔اعنا کی آنکھیں سوجھ چکی تھی ۔۔وہ بے حال سی تھی ۔۔ڈاکٹرز نے کہا ۔۔۔حالت بہت نازک ہے کچھ بھی ہو سکتاہے ۔۔بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا اعنا ہر سانس کے ساتھ بے ہوشی میں کیفی کو آواز دے رہی تھی۔۔میں معافی مانگ لوں گی کچھ نہیں بولوں گی ۔۔کیفی میرا ہاتھ نہ چھوڑنا ۔۔میں نہیں کھونا چاہتی تم کو ۔کیفی آ جاو تمہاری اعنا تھک گئی ہے   کیفی مر جاوں گی میں۔۔اعنا کی بہن  نے کیفی کو میسج کیا بھائی۔۔اعنا آپی۔۔زندگی اور موت کی آخری جنگ لڑ رہی ہے ۔۔آخری بار اعنا آپی کو دیکھ لو ا کر ۔۔۔ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں اعنا آپی نہیں بچے گی۔کیفی امی ابو کے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔چیخ کر بولا۔۔آپ خوش ہو جائیں۔۔۔میں اعنا کی لاش لینے جا رہا ہوں ۔۔۔اور اگر میری اعنا کو کچھ ہوا نا تو ۔۔۔میں بھی خود کو ختم کر لوں گا ۔آپ لوگوں کی نفرت نے اعنا کو پاگل بنا دیا ۔۔آخر اس کا قصور کیا تھا ۔۔امی آپ نے اسے اتنا درد دیا وہ سہتے سہتے ٹوٹ گئی ۔۔اور ابو اس کو اتنا غلط بولتے تھے میں خاموش رہتا تھا ۔۔۔میں رشتے کا بھرم رکھتے رکھتے تھک گیا   وہ بھی کسی کی بیٹی ہے ابو ۔۔جیسے آپ کی 4 بیٹیاں ہیں امی ۔۔۔آپ کے دل میں اس کے لیئے اتنی نفرت کیوں تھی ۔۔آپ نے کیا کچھ نہیں کیا اس بیچاری کے ساتھ ۔۔امی ۔۔ابو ۔۔۔یہ گھر یہ خوشیاں آپ کو سلامت ہوں ۔۔اج سے میں آپ کے لیئے مر گیا آپ میرے لیئے  ۔میں تھک گیا ہوں   اس بے گناہ کو سزا دیتے دیتے ۔۔وہ موت سے جنگ لڑ رہی ہے ۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو قیامت کے دن آپ لوگو ں سے ضرور ہوچھوں گا ۔۔روتے ہوئے ہسپتال کی جانب چل دیا ۔۔اعنا دل بے ہوش تھئ ۔۔۔ڈاکٹرز نے امید چھوڑ دی ۔۔ہارٹ بیٹ بہت دھیمی ہو گئی تھی۔۔۔کیفی۔۔دوڑتا ہوا ہسپتال میں داخل ہوا۔۔۔اعنا ۔۔میری اعنا کہاں ہے  ہائے ۔۔محبت نے پکارا تھا ۔۔محبت کی آواز تو زندگی عطا کرتی ہے  ڈاکٹرز نے روکنے کی کوشش کی لیکن  کیفی نے پاوں ہکڑ لیئے مجھے میری اعنا کے پاس جانے دیں۔ وہ دنیا سے بے خبر موت کے بہت قریب تھی ۔ کیفی پاس گیا   جیسے ہی کیفی نے اعنا کا ہاتھ اہنےہاتھ میں  لیا بے ہوشی میں ہی آنکھ سے آنسو موتی بن کر بہنے لگے ۔۔ہائے موت کی آغوش میں بھی اس نے اہنی محبت کے ہاتھوں کی گرمی کو محسوس کر لیا تھا   بے ہوشی میں بھی کیفی کا ہاتھ تھامنا اسے شفا بخش رہا تھا تھا ۔۔دل کی دھڑکن نارمل ہونے لگی  ۔آپریشن ہوا  اللہ پاک نے بیٹا عطا کیا  ۔

اعنا دل بے ہوش تھئ ۔۔کیفی بیٹے کو سینے سے لگائے  ۔دعا مانگ رہا تھا اللہ پاک میری اعنا کو سلامت رکھنا ۔۔کچھ گھنٹے گزرے ۔۔اعنا کے ہونٹ ہلے   آواز ائی ۔۔۔کیفی۔۔کیفی پاس بیٹھا تھا   ماتھے پہ بوسہ کیا ۔۔میری اعنا تم نے مجھے آواز دی ۔۔دیکھو تمہارا کیفی تمہارے سامنے ہے   یہ دیکھو میں تمہارے پاس ہوں   اعنا نے آنکھ کھولی سامنے کیفی تھا   اعبا نے کیفی کو دیکھا   بانہیں پھیلا لی   آنکھ سے اشارہ کیا سینے لگا لو  ۔۔کیفی نے اعنا کو سینے سے لگا لیا۔۔آئی لو یو میری جان ۔ آئی لو یو ۔۔اعنا کی آنکھوں مین آنسو تھے دور نہ جانا مجھ سے   کیفی نے اعنا کے آنسو پہ بوسہ کیا ۔۔پاگل۔۔سب درد بھول جاو اب   میں اب حق اور سچ کا ساتھ دوں گا   چھوڑ آیا ہوں نفرت اور ماں باپ کو ۔۔ان کو نفرت کی دنیا مبارک ہو ۔۔اب میں اپنی اعنا کے ساتھ سانس میں سانس لوں گا ۔۔بیٹا رونے لگا   کیفی نے بیٹا اعنا کی گود میں رکھا ۔۔اعنا چومنے لگی ۔۔ہمارا بیٹا ۔کیفی مسکرا کر بولا۔۔۔اعنا بس جلدی سے ٹھیک ہو جاو اب ۔۔ہم گھر چلیں۔۔۔اتنے مء  ساس سسر بھی ا گئے   سر جھکائے  ۔کیفی اعنا کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔امی ابو آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔ماں پیار سے بولی۔۔بیٹا ہم غلط تھے ۔۔ہم اپنی نفرت میں رشتوں کو نبھانا بھول گئے تھے ۔۔اعنا آج سے ہماری بیٹی ہے ساس سسر آگے بڑھے اعنا کے ماتھے پہ بوسہ کیا اعنا جیسے پھر سے جینے لگی ہو ۔۔۔گھر چلے گئے ۔۔۔اعنا بولی گول گپے لا دو نا کیفی۔۔کیفی نے باہر دیکھا۔۔بارش بہت تیز تھی پاگل بارش ہے بہت تیز ہے۔اعنا مسکرائی لا دو نا کنجوس ۔۔کیفی بولا ٹھیک ہے پھر ہزار روپے دو ۔۔اعنا دل منہ بنا کر بولی کتنے کنجوس ہیں آپ۔۔۔میرے پاس نہیں ہیں ۔۔اتنے میں ساس آئی۔۔کیا ہوا میرے بچو ۔اعنا بولی امی ان کو کہہ رہی ہوں گول گپے لا دو ۔ساس مسکرائی ۔۔ہائے صدقے۔جا بچہ لا دے  میری بیٹی کو ساس پوتے کو گود میں لیئے دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔۔کیفی اہنے ہاتھ سے اعنا کو گول گپے کھلا رہا تھا ۔۔دیکھو نا فارس زندگی کا مھبت بھرا رخ کتنا خوبصورت ہوتا ہے   میں ہر مرد کو کہتا ہوں ماں باپ کا حق ادا کرتے کرتے کسی کی بیٹی جو اپ کی بیوی بن کر آپ کے سہارے آپ کے ساتھ آپ کے گھر آئی ہے کہیں اس پہ ظلم کے پہاڑ نہ گرا دینا ہر عورت کو اتنا کہوں گا ساس سر کو ماں باپ کا رتبہ دیں ان کا احترام کریں اپنا گھر بسانے میں چھوٹی چھوٹی قرنانیان دینی پڑیں تو دے دیں شوہر کا ہاتھ تھامے رکھیں تلخ لہجے صبر سے سن لیا کریں اور ہر مرد اپنی بیوی کے حقوق ضرور ادا کرے ماں باپ کی سن لیا کریں لیکن ماں باپ اگر ناجائز کریں تو حق کے لیے آواز اٹھایا کریں کسی کی بیٹی بہن کو زندہ لاش نہ بنا دیا کریں ورنہ ایسی قیامت گزرے گی آپ کی دنیا ہلا کر رکھ دے گی  محبت بانٹنا سیکھیں رشتے نبھانا سکھیں


Post a Comment

0 Comments